تصنیفات کی چوری پر اعزاز واپس

دی انڈی پینڈینٹ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

’دی انڈیپنڈنٹ‘ اخبار کے صحافی یوہان ہری نے دوسرے مصنفین کی تحریروں کے اقتباسات استعمال کے الزام کے بعد انہیں دیا گیا ’اورول پرائز‘ واپس کر دیا ہے۔

ہری کو دو ماہ قبل اس وقت ملازمت سے معطل کر دیا گیا تھا جب انڈیپنڈنٹ نے ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات کی تھیں۔

ہری نے تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے دوسرے مصنفوں کی تحریروں اور کہاوتوں کو نکھار کر استعمال کیا اور ایک فرضی نام سے انٹرنیٹ پر نقادوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

یوہان ہری ’ اورول پرائز‘ واپس کردیں گے اور چار ماہ کے لیے بغیر تنخواہ کے رخصت پر چلے جائیں گے۔ یہی نہیں بلکہ وہ صحافت سے متعلق تربیت بھی حاصل کریں گے۔

انٹرنیٹ پر جاری ایک بیان میں مصنف یوہان ہری نے اپنے قارئین، ساتھیوں اور ان لوگوں سے معافی مانگی ہے جو ان کے اس اقدام سے دکھی ہوئے۔

’حالانکہ یہ ایک تکلیف دہ صورتحال ہے اور ایسا کچھ عرصے تک رہے گا ، میرا خیال ہے مجھے میری خامیوں کا شکر گذار ہونا چاہئیے جو مجھے روشنی میں لے آئیں۔‘

یوہان ہری نے یہ بھی تسلیم کیا انہوں نے ایک غلط نام سے وکی پیڈیا پر اپنی پروفائل کے بعض اُُن حصّوں کو تبدیل کیا جنہیں وہ پسند نہیں کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دوسرے لوگوں کی پرو فائلز میں بھی تبدیلیاں کیں۔

یوہان ہری کا کہنا ہے کہ جس مضمون پر انہیں قابلِ احترام ’اورول پرائز‘ ملا وہ انہی کا ہے لیکن وہ یہ اعزاز اپنی دوسری غلطیوں کی توبہ کے طور پر واپس کر رہے ہیں۔

اعزاز دینے والے ادارے نے ایوارڈ کی واپسی قبول کر لی ہے۔ ادارے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اعزاز کورئیر کے ذریعے واپس بھجوایا جائے گا۔

اسی بارے میں