اردو افسانوں کا انگریزی ترجمہ

: اردو شارٹ سٹوریز (اے سلیکشن) تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: اردو شارٹ سٹوریز (اے سلیکشن)

Urdu Short Stories

A selection

انتخاب و ترجمہ: ایس ایم شاہد

صفحات: 88

قیمت: درج نہیں

ناشر: سی ایم سی۔ دی امیج مارکیٹنگ کمپنی۔ کراچی

رابطہ: shahidsm34@gmail.com

ایس ایم شاہد نے سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، کنہیا لال کپور اور خواجہ احمد عباس کے چھ بڑے اور بیس مختصر ترین افسانوں کا انتخاب اور ترجمہ کیا ہے اور سید جاوید اقبال نے اس کتاب کے مختصر سے تعارف کی ابتدا اس چینی کہاوت سے کی ہے:

’کتاب ایک ایسے باغ کی سی ہوتی ہے جسے آپ جیب میں لیے پھر رہے ہوں‘۔ اس انتھالوجی پر اس سے زیادہ پھبتا تبصرہ نہیں ہو سکتا۔

اگر انتھالوجی یا کسی انتخاب کا مقصد سمندر کو کوزے میں بند کرنا نہیں بلکہ سمندر کے ہونے کا احساس دلانا اور سمندر کی طرف جانے پر اکسانا ہے تو اس انتھالوجی نے یہ کام دوسری انتھالوجیوں کے مقابلے میں زیادہ خوبصورتی اور کمال سے کیا ہے۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس انتخاب کو پڑھنے والا اس میں شامل افسانہ نگاروں کے اور افسانے تلاش نہ کرے اور اُس میں اردو کے دوسرے افسانہ نگاروں کے بارے جاننے کی خواہش پیدا نہ ہو۔

ایسا نہیں کہ ایس ایم شاہد کی یہ انتھالوجی انگریزی میں اردو افسانے کی پہلی انتھالوجی ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی اہم انتھالوجیاں آ چکی ہیں جن میں محمد سلیم الرحمان کی انتھالوجی دی نیکڈ ہین اور جے رتن کی دو انتھالوجیاں ’ماڈرن اردو شارٹ سٹوریز‘ 1987 اور ’کنٹمپریری اردو شارٹ سٹوریز‘ کے نام سے 1991 میں شایع ہوئیں۔ محمد عمر میمن کا ایک انتخاب ’دی ٹیل آف دی اولڈ فشر مین‘ کے نام شایع ہوا، ایک انتھالوجی ’ہارپرکولنز بک آف اردو شارٹ سٹوریز‘ اور ایک ’اے کلر آف نتھنگنیس‘ کے نام سے شایع ہوئی ہے۔

میرے علم میں اردو افسانوں کے جتنے بھی انتخاب اور تراجم ہیں وہ سب اردو افسانے کی رنگا رنگی، وسعت اور گہرائی کا اظہار کرتے ہیں اور ایس ایم شاہد کا انتخاب اور ترجمہ اگر سب سے اچھا نہیں ہے تو کسی سے کم بھی نہیں ہے۔

جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ’اطلاعات کے جدید ترین ذرائع ایجاد ہونے کے بعد کتاب پڑھنا وقت کاٹنے کا پرانا فیشن بن گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج کل شاید ہی کوئی کتاب پڑھتا دکھائی دے، اور اگر آپ کتاب پڑھتے ہیں تو لوگ آپ کو پرانے خیال کا ہی سمجھیں گے‘۔

ان کی اس بات کا اطلاق برطانیہ پر تو ہو سکتا ہے باقی دنیا پر شاید نہیں کیونکہ انگریز کتاب بہت پڑھتے ہیں اور کنزرویٹو بھی سمجھے جاتے ہیں۔ لیکن جاپان میں پرنٹڈ ورڈ پڑھے جانے کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔

پاکستان میں البتہ وہ لوگ غائب ہو گئے ہیں جو گھر سے نکلتے ہوئے کتاب ساتھ رکھنے کو اچھا سمجھتے تھے۔ پھر جاوید اقبال ہی ہمیں یہ خبر بھی دیتے ہیں کہ اس کے باوجود دنیا میں کتابیں پہلے سے زیادہ شایع ہو رہی ہیں اور کتابیں پڑھنا اب بھی اعلٰی ترین تفریح ہے جنہیں کتابوں کا چسکا ہے۔

ایس ایم شاہد سے میری ملاقات تو اب ہوئی ہے لیکن میں انہیں تب سے جانتا ہوں جب 1980 میں ان کی ایک اردو کتاب ’ابّا بتائیے‘ شایع ہوئی تھی۔

تب وہ اشتہارات کی دنیا کے ایک معروف اور سرگرم آدمی تھے۔ انہوں نے 1965 میں اپنے بھائی مظہر حسین اور ایک دوست عرفان حلیم کے ساتھ مل کر آسکر کے نام سے ایڈورٹائزنگ ایجنسی قائم کی تھی جسے پاکستان کی ایڈورٹائزنگ دنیا میں قابلِ احترام حیثیت حاصل تھی۔ یہ ایجنسی 2000 میں بند کر دی گئی اور اسی کے ساتھ شاہد صاحب نے ریٹائر منٹ بھی لے لی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ایس ایم شاہد نے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد چالیس سے زائد کتابوں کی تالیف، تدوین اور تصنیف کی۔

اس ریٹائر منٹ کا فائدہ یہ ہوا کہ انہوں نے چالیس سے زائد کتابوں کی تالیف، تدوین اور تصنیف کی۔ اس انتخاب اور ترجمے سے پہلے شاہد نے Glimpses Youssufi کے نام سے مشتاق یوسفی کی تحریریں اور Glimpses Shafiqur Rehman کے نام سے کرنل شفیق الرحمان کی تحریروں کا انگریزی میں ترجمہ کیا اور ایک زبان کا مزاح کسی دوسری زبان منتقل کرنا پتا پانی کر ددیتا ہے۔

اس انتخاب میں زیادہ افسانے منٹو کے ہیں اور ان کے اہم ترین افسانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں ’ کھول دو‘، ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، ’پھولوں کی سازش‘ جیسے اہم افسانے اور بیس مختصر ترین افسانے ’سیاہ حاشیے‘ سے لیے گئے ہیں۔

کتاب میں ترجمہ کیے گئے دیگر افسانوں میں کرشن چندر کا افسانہ ’پالنا ‘ اور ’پاول ‘ کنہیا لال کپور کا ’برج بانو‘ اور خواجہ احمد عباس کا ’دنیا کی سب سے خوبصورت عورت‘ شامل ہے۔ ترجمے کی زبان ہے کہ بس پڑھتے جائیے اور سر دھنتے جائیے، پھر یہ خواہش بھی ہوتی ہے کہ کاش اس آدمی نے زیادہ افسانے منتخب اور ترجمہ کیے ہوتے۔

اسی بارے میں