نوتیج جوہر: بھارت ناٹیم اور ہیر

نوتیج جوہر تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نوتیج جوہر کی والدہ کا تعلق پنڈی سے اور والد کا تعلق اٹک سے ہے۔

لاہور کے الحمرا ہال میں شہر کے باسیوں کو ایک خوبصورت مگر منفرد رقص دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ رقص عالمی شہرت رکھنے والے سکھ رقاص نوتیج جوہر کا تھا۔ اس شو کا اہتمام رفیع پیر تھیٹر والوں نے کیا۔

سب سے پہلے نوتیج نے تامل زبان کے ایک گیت کی دھن پر بھارت ناٹیم پیش کیا۔ بھارت ناٹیم کو اگرچہ بھارت کے قومی رقص کی حثیت حاصل ہے لیکن اس کا تعلق جنوبی ہند کے صونے تامل ناڈ سے ہے۔

نوتیج جوہر بنیادی طور پر یوگا کے ماہر ہیں اور مداس کے علاوہ امریکہ کے کئی شہروں میں یوگا کی تربیت دیتے ہیں۔

بھارت ناٹیم جیسے مشکل رقص میں مہارت حاصل کرنا آسان کام نہیں تھا لیکن نوتیج جوہر نے ابتدائی عمر میں یوگا کے ذریعے اپنے اعضا کو اتنا لچکدار بنا لیا تھا کہ کرناٹک میوزک کی گت پر بھارت ناٹیم کے جسمانی زاویے اختیار کرنا ان کے لیے مشکل نہ رہا۔

حاضرین بھارت ناٹیم سے لطف اندوز ہو ہی رہے تھے کہ یکایک گیت بدل گیا اور پنجاب کی لوک داستان ہیر رانجھا پر مشتمل پنجابی گیت پر نوتیج کے پاؤں اور ہال میں بیٹھے لوگوں کے دل تھرکنے لگے۔

نوتیج جوہر پنجابی ہیں اور بھارت ناٹیم کرتے کرتے انہوں نے سوچا کہ ان کی پنجابیت کہاں گئی، اسی لیے انہوں نے اپنے علاقے کی نشت و برخاست اور آن بان کو مد نظر رکھتے ہوئے شمالی ہند کے آزادانہ انداز کو جنوبی ہند کے محتاط اور جچے تلے بھاؤ کے سے ملا کر ایک نئے اور انوکھے انداز کا تجربہ کیا۔

نوتیج جوہر کہتے ہیں کہ یہ امتزاج آسانی سے ہو گیا۔ کلپ نوتیج جوہر

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption پاکستان کی مشہور رقاصہ ناہید صدیقی نوتیج جوہر کے فن کی بہت تعریف کی۔

ہیر رانجھے کی خوبصورت لوک داستان پر مبنی گیت اور اس پر نوتیج کے بھارت ناٹیم نے خوب سماں باندھا ہال میں بیٹھے ہوئے لوگ ان کے ہر انداز پر داد دے رہے تھے حاضرین میں موجود ایک خاتون عالیہ واسی اس منفرد رقص کو دیکھ کر بہت خوش تھیں۔

نوتیج جوہر پہلی بار پاکستان نہیں آئے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ان کے لیے گھر کی طرح ہے کیونکہ ان کی والدہ کا تعلق پنڈی سے اور ان کے والد کا تعلق اٹک سے ہے اور انہیں پاکستان میں اپنی پرفارمنس دکھا کر بہت خوشی ہوتی ہے ان کا کہنا تھا کہ فنکار دونوں ملکوں کی دوریاں ختم کر سکتے ہیں۔

لاہور میں نوتیج کے رقص شو کا اہتمام رفیع پیر تھیٹر والوں نے کیا جو ہمیشہ ہی پاکستان میں ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دیتے ہیں۔رفیع پیر کے روح رواں عثمان پیر زادہ کا کہنا تھا کہ فنکار تو بس محبتیں بانٹتے ہیں۔

نوتیج جوہر کا رقص دیکھنے کے لیے پاکستان کی مشہور رقاصہ ناہید صدیقی خاص طور پر آئیں تھیں انہوں نے شو سے پہلے نوتیج جوہر کے فن کی بہت تعریف کی۔

اسی بارے میں