’ڈاکٹر نے پوری بات نہیں بتائی تھی‘

ایمرجنسی اہلکار رچرڈ سینیف تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمرجنسی اہلکار رچرڈ سینیف عدالت میں

گلوکار مائکل جیکسن کے ڈاکٹر کے خلاف قتل خطا کے مقدمے میں ایمرجنسی ٹیم کے اہلکار نے عدالت کو بتایا ہے کہ ڈاکٹر مرے نے ان کو جیکسن کی حالت کے بارے میں پوری معلومات نہیں فراہم کی تھیں۔

رچرڈ سینِف نامی اس اہلکار نے بتایا کہ جب وہ ایمرجنسی کال کے جواب میں مائکل جیکسن کے گھر پہنچے تو جیکسن اپنے کمرے میں تھے لیکن ایمرجنسی ٹیم کی کوششوں کے باوجود جیکسن نہ بچ سکے۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جیکسن کی دل کی دھڑکن بند ہو چکی تھی۔

ایمرجنسی اہلکار کے مطابق انہوں نے کئی مرتبہ ڈاکٹر مرے سے پوچھا کہ کیا جیکسن کو کوئی دوائی دی گئی ہے یا ان کا کوئی طبی مسئلہ ہے لیکن ڈاکٹر نے ان کو پروپوفول کا نہیں بتایا۔

طبی اہلکار کا کہنا تھا کہ دیکھنے میں جیکسن صحتیاب نہیں بلکہ مریض معلوم ہو رہے تھے، ان کا وزن بہت کم تھا، آنکھیں خوشک تھیں، ان کو آئی وی (درورِبدی) لائن لگی ہوئی تھی اور پلنگ کے پاس ادویات کی خالی شیشیاں پڑی ہوئی تھیں۔ اس لیے انہوں نے ڈاکٹر مرے سے ان کے طبی مسائل اور ادویات کے بارے میں پوچھا۔

ان کے مطابق اس سوال کا جواب ڈاکٹر مرے نے نفی میں دیا اور کہا کہ جیکسن کو صحت کے کوئی مستقل مسئلہ نہیں تھا۔

ڈاکٹر مرے نے طبی اہلکار سے پروپوفول کا کوئی ذکر نہیں کیا حالانکہ جیکسن کو یہ دوائی دی جا چکی تھی’۔ ڈاکٹر مرے نے صرف یہ کہا کہ مائکل جیکسن نے لورایزیپان دوائی لی ہے۔

ایمرجنسی اہلکار نے کہا کہ شواہد اور ڈاکٹر کے بیان میں انہیں تضاد لگا۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر مرے نے کمرے سے کئی چحئں ان کے سامنے ہٹائیں اور جب ایمرجنسی ٹیم نے جیکسن کو ایمیولنس میں منتقل کیا تو ڈاکٹر مرے جیکسن کے کمرے میں کچھ دیر کے لیے اکیلے تھے۔

اس مقدمے میں استغاثہ کا الزام ہے کہ ڈاکٹر مرے نے جیکسن کو پروپوفول دینے میں کوتاہی برتی تھی لیکن ان کی دفاعی ٹیم کا کہنا ہے کہ جیکنس نے ـود ہی انجیکشن کے ذریعے پروپوفول لی تھی جب ڈاکٹر مرے کمرے سے باہر تھے۔

اسی بارے میں