کہانی لیِلا اور مِیرا کی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ ایلس البینیا کا پہلا ناول ہے، اور نو عمر خاتون نے پہلے ہی ناول میں تکنیک کے کئی اہم تجربات کر ڈالے ہیں

کتاب: لِیلا کی کہانی

مصنفہ: ایلس البینیا

ناشر: رینڈم ہاؤس انڈیا

صفحات: چار سو بائیس

قیمت: چار سو ننانوے

دہلی کی زندگی کے بارے میں ایک برطانوی مصنفہ کا ناول جسے پڑھ کر قرۃ العین حیدر کے آگ کا دریا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

عجیب اتفاق ہے کہ قرۃ العین حیدر نے جس عمر میں آگ کا دریا تحریر کیا تھا، تقریباً اسی عمر میں برطانوی مصنفہ ایلس البینیا نے لِیلا کی کہانی لکھنی شروع کی اور جس طرح عینی آپا کے کردار صدیوں کا سفر طے کر تے ہوئے جدید ہندوستان تک پہنچتے ہیں عین اسی طرح لِیلا کی کہانی بھی قدیم ہند سے چلتی ہوئی آج کے دور تک آن پہنچتی ہے، لیکن دونوں کی مماثلت یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ آگ کا دریا میں ہم صرف مصنفہ کی آواز سنتے ہیں لیکن لِیلا کی کہانی میں مصنفہ کے ساتھ ساتھ گنیش بھی اپنا قصّہ سنا رہا ہے۔

ویاس ہندو دیو مالا کا ایک کردار ہے جو سنسکرت کا عالم ہے اور مذہبی اہمیت کے کئی متن مُرتب کر چکا ہے۔ ویدوں کو چار حصّوں میں تقسیم کرنے کا اہم فریضہ بھی اسی نے انجام دیا، چنانچہ اسے وید ویاس کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

ویاس مہا بھارت کا مصنف بھی ہے اور اس طویل رزمیہ میں مرکزی کردار بھی ادا کرتا ہے۔ روایت کے مطابق ویاس نے مہا بھارت کی ساری کہانی ہاتھی کے سر والے دیوتا گنیش کو سنائی اور گنیش نے اسے سپردِ قرطاس کیا۔

یہ سب تو دیو مالائی قصّہ ہے لیکن زیرِ نظر ناول کا مرکزی کردار ویاس آج کے زمانے میں زندہ ہے۔ وہ بھی سنسکرت کا عالم ہے اور دہلی کی ایک درسگاہ میں تعلیم دینے کے علاوہ یورپ اور امریکہ میں خصوصی لیکچر دینے بھی جاتا ہے۔

اس نے اپنی تدریسی زندگی کا آغاز بنگال میں شانتی نکیتن جیسے معروف ادارے سے کیا تھا جہاں وہ اپنی جاذبِ نظر شخصیت اور سحر انگیز انداز کے باعث طلباء میں انتہائی مقبول تھا۔ لِیلا اور مِیرا نام کی دو بہنیں بھی اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتی ہیں اور پھر نوجوان پروفیسر اُن میں سے ایک بہن یعنی مِیرا کے ساتھ شادی کر لیتا ہے اور کچھ عرصہ بعد اُن کے یہاں جڑواں بہن بھائی پیدا ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصنفہ ایلیس ایلبینیا 1976 میں لندن میں پیدا ہوئیں۔ دریائے سندھ کاسفرنامہ ان کی پہلی تصنیف تھی اور یہ ناول انکی دوسری کاوش ہے

دوسری بہن اس دوران ایک کاروباری شخصیت سے شادی کر کے امریکہ چلی جاتی ہے اور بیس برس مسلسل وہیں گزار دیتی ہے۔

جب ناول کا آغاز ہوتا ہے تو ویاس ادھیڑ عمر کا ایک معروف سکالر ہے اور مہا بھارت پر لیکچر دینے کے لئے نیویارک آیا ہوا ہے۔ لِیلا بھی لیکچر سننے کے لئے آئی ہوئی ہے کیونکہ لِیلا کا شوہر کسی کاروباری مصروفیت کے باعث اس اہم تقریب میں نہیں جا سکا اور اسے ماضی میں پرفیسر ویاس اور لِیلا کے کسی تعلق کا علم بھی نہیں ہے۔

کچھ عرصہ بعد خاندان کی ایک اہم شادی میں شرکت کے لئے جب لِیلا بیس برس بعد دہلی لوٹتی ہے تو ماضی کی کتاب کے کئی ورق کُھل کر سامنے آجاتے ہیں۔

پروفیسر ویاس کی بیوی مِیرا جڑواں بچوں کو جنم دینے کے کچھ عرصہ بعد پُراسرار حالات میں بظاہر ایک حادثے کا شکار ہو کر چل بسی تھی۔ دونوں بچے اب جوان ہو چکے ہیں اور اپنی اپنی زندگی کے ہنگاموں میں مصروف ہیں۔ لڑکی لندن میں اعلٰی تعلیم حاصل کر رہی ہے اور لڑکا جینیات (جینیٹکس) میں ریسرچ کر رہا ہے۔

نیو یارک میں مقیم لِیلا کے شوہر کا بڑا بھائی بدستور دہلی میں مقیم ہے اور دائیں بازو کی سیاست میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ ہندوستان کو وہ عنقریب خالصتاً ’ہندو استھان‘ میں تبدیل کر دے گا اور زمانہء قدیم کی عظمت ایک بار پھر اس ملک کے قدم چومے گی۔۔۔ اور چونکہ پراچین ہند کی شان و شوکت کو تازہ کرنے کا سہرا اُس کے سر ہو گا اس لئے قوم اسکو اپنا لیڈر تسلیم کر لے گی۔

اس بھائی کی آرزو مندانہ کہانی کے ساتھ ساتھ کئی اور قصّے بھی چل رہے ہیں۔

پروفیسر ویاس کی لندن سے آئی ہوئی کھلے مزاج کی آزاد فکر لڑکی خوش وقتی کے لئے ایک پرانا کلاس فیلو ڈھونڈ نکالتی ہے اور موقع بے موقع خوب دادِ عیش دیتی ہے۔

اس کا بھائی جس کی شادی کے لیے سارا خاندان دہلی میں جمع ہوا ہے، شادی کی رات عجب مخمصے میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اس پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہے کہ وہ ہم جنسی رجحان کا حامل ہے اور اس کا محبوب بھی اسی خاندان کا ایک لڑکا ہے۔

اِن دونوں خاندانوں کے ساتھ ساتھ اِن کے ملازمین کی کہانیاں بھی اپنے پر کھولتی ہیں اور دہلی کی بستی نظام الدین کا گندا نالا ایسی باس چھوڑنے لگتا ہے جس میں ان تمام افتادگانِ خاک کے پسینے کی بُو شامل ہے۔

مہا بھارت میں ویاس نے جو آپ بیتی سنائی تھی گنیش نے بِلا کم و کاست رقم کردی تھی، لیکن اس ناول کا گنیش، پروفیسر ویاس کی باتوں پر مکمل یقین نہیں کرتا۔ گنیش کو لِیلا سے گہری ہمدردی بھی ہو چکی ہے اس لیے وہ اس کی تباہی نہیں دیکھ سکتا، چنانچہ اس کہانی میں وہی کچھ ہوتا ہے جو گنیش چاہتا ہے۔

کہانی کو من پسند روپ دینے کے لیے گنیش کو بھیس بدل کر ِخود بھی میدان میں آنا پڑتا ہے، کبھی وہ بستی نظام الدین میں بھوت بن کر لوگوں کو ڈراتا ہے اور کبھی لندن کے ایک ریستوران میں انسان کا روپ دھار کر نمودار ہوتا ہے۔ اگرچہ گنیش روایت کے مطابق محض ایک کاتب ہے اور اسے صرف بیانیہ نقل کرنے کا فریضہ سونپا گیا ہے لیکن وہ خود مصنف کا کام سنبھال لیتا ہے اور وہی کچھ لکھتا ہے جو اُسے درست معلوم ہوتا ہے۔

گنیش براہِ راست قاری سے مخاطب ہو کر اسے بتاتا ہے کہ یہ مِیرا اور لِیلا کا پہلا جنم نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی وہ آٹھ بار جنم لے چکی ہیں۔

پہلے جنم میں لِیلا ایک نوکرانی تھی۔ اسے شاہی لباس پہنا کر ویاس کے سامنے پیش کیا گیا اور ویاس اس کا دیوانہ ہوگیا۔ دوسرے جنم میں لِیلا ایک ملاح کی لڑکی تھی اور ویاس دریا پار کرتے ہوئے اس پر فریفتہ ہو گیا تھا لیکن لیِلا کو ویاس کی بجائے ایک گہری سہیلی مِل گئی تھی، مِیرا۔

تیسرے جنم میں لِیلا اور مِیرا تبت میں اور چوتھے جنم میں راجستھان میں پیدا ہوئیں۔ پانچویں جنم کے وقت سمر قند اور بخارا سے حملہ آور ہندوستان میں داخل ہو رہے تھے۔ اس بار مِیرا مغل بادشاہ ہمایوں کے ایک درباری کی بیٹی تھی اور ہمایوں نے اسے اپنے حرم میں داخل کر لیا تھا لیکن وہ بادشاہ کی بجائے کسی اور کی یاد میں کھوئی رہتی تھی۔

دربار کے ایک خواجہ سرا نے ُمخبری کر کے بادشاہ کو بتایا کہ مِیرا کسی کی یاد میں گم رہتی ہے۔ بادشاہ جب کھوج لگاتا ہوا اپنے کتب خانے کی سیڑھیوں پر پہنچا تو مِیرا نے اس کے سینے میں ِخنجر گھونپ دیا اور وہ لڑکھڑا کر ایسا گرا کہ پھر کبھی نہ اُٹھ سکا۔۔۔ اور مِیرا اُس کے حرم سے آزاد ہونے کے بعد سیدھی اپنی سہیلی لِیلا کے پاس پہنچ گئی۔۔۔ اور ہاں، جس ِخواجہ سرا نے مِیرا کی شکایت کی تھی اس کا نام ویاس تھا۔

خود لِیلا کا چھٹا جنم مغلوں کے دورِ زوال میں ہوا جب وہ ایک معمولی اہلکار کی بیٹی تھی۔ اس بار اس کا نام ذرا تبدیل ہو کر لیلیٰ ہو گیا تھا۔ اس نے شادی نہیں کی تھی اور اپنی پسندیدہ ہندو ملازمہ مِیرا کے ساتھ وقت گزارتی تھی۔

ساتویں جنم میں مِیرا اور لِیلا انگریز سپاہیوں کی چھاونی میں ناچ گانے کا کام کرتی تھیں ۔ یہ 1920 کا زمانہ تھا، جبکہ آٹھویں جنم میں ہندوستان کی تقسیم کا وقت آن پہنچا ہے۔

مِیرا اور لِیلا کی عمر صرف سات برس ہے۔ وہ پکّی سہیلیاں ہیں۔ لیکن لِیلا کا مسلمان خاندان ہجرت کر کے پاکستان جا رہا ہے اور مِیرا نے رو رو کر بُرا حال کر لیا ہے۔ آخر وہ بھاگ کر مہاجر کیمپ میں چلی جاتی ہے اور خود کو مسلمان ظاہر کر کے پاکستان جانے والے قافلے میں شامل ہو جاتی ہے۔

تقسیمِ ہند کے دس برس بعد بنگال کے ایک چھوٹے سے غریبانہ گاؤں میں لِیلا اپنا موجودہ جنم لیتی ہے اور کلکتے کے ایک امیر گھرانے میں مِیرا پیدا ہوتی ہے۔۔۔اور یوں وہ کہانی شروع ہوتی ہے جو اس ناول کی بنیاد ہے۔

مِیرا، لِیلا اور ویاس کو جنم جنم کے ان پھیروں میں دیکھ کر کم از کم اُردو فکشن پڑھنے والے ہر قاری کا دھیان قرۃ العین حیدر کی طرف جاتا ہے۔ ’آگ کا دریا‘ اردو میں فکشن کا ایک انوکھا تجربہ تھا جس میں گوتم نیلمبر، ہری شنکر اور چمپا بار بار جنم لیتے ہیں۔

ڈھائی ہزار سال پہ پھیلی ہوئی اُس کہانی میں قدیم دور، وسطی دور، نوآبادیاتی دور اور جدید دور کا ہندوستان وہ میدانِ کارزار ہے جس میں یہ کردار اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

عجیب اتفاق ہے کہ قرۃالعین حیدر نے جس عمر میں آگ کا دریا تحریر کیا تھا، تقریباً اسی عمر میں برطانوی مصنفہ ایلس البینیا نے لِیلا کی کہانی لکھنی شروع کی اور جسطرح عینی آپا کے کردار صدیوں کا سفر طے کر تے ہوئے جدید ہندوستان تک پہنچتے ہیں عین اسی طرح لِیلا کی کہانی بھی قدیم ہند سے چلتی ہوئی آج کے دور تک آن پہنچتی ہے، لیکن دونوں کی مماثلت یہاں ختم ہو جاتی ہے۔

آگ کا دریا میں ہم صرف مصنفہ کی آواز سنتے ہیں لیکن لِیلا کی کہانی میں مصنفہ کے ساتھ ساتھ گنیش بھی اپنا قصّہ سنا رہا ہے۔ اس کی حیثیت اگرچہ ایک ’ناقابلِ اعتبار راوی‘ کی ہے، کیونکہ وہ ببانگِ دہل اصل واقعات میں تبدیلیاں کر رہا ہے، تاہم کہانی کا یہ ثانوی مصنف ہمارے لیے بڑی کشش رکھتا ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ بادشاہ ہمایوں لائبریری کی سیڑھیوں سے پھسل کر کس طرح مرا تھا، ہم گنیش کی اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ ہمایوں کی موت مِیرا کے خنجر سے ہوئی تھی۔

ایک ناول نگار کو ایک موّرخ پہ اس لحاظ سے ہمیشہ سبقت حاصل رہتی ہے کہ مورّخ واقعات و حقائق کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوتا ہے لیکن کہانی کار واقعات و حقائق کو اپنی مرضی کے مطابق چلاتا ہے۔ وہ موّرخ کی طرح تاریخی جبر کے شکنجے میں نہیں آتا بلکہ تاریخ کو زیرِنگیں کر لیتا ہے۔

موّرخ صرف اکبرِاعظم اور جہانگیر کی زندگی کا احوال بیان کر سکتا ہے لیکن کہانی کار کا ذہنِ رسا اس میں انارکلی کا خوبصورت اضافہ بھی کرسکتا ہے۔

زیرِ نظر ناول میں گنیش ایک کہانی کار کا رُوپ دھار لیتا ہے اور ہمیں وہی کچھ بتاتا ہے جو اُسے پسند ہے، اور آہستہ آہستہ ہمیں ایسا رام کرلیتا ہے کہ ہم بھی کہانی کو اسی کے رنگ میں دیکھنے لگتے ہیں۔

یہ ایلس البینیا کا پہلا ناول ہے، اور نو عمر خاتون نے پہلے ہی ناول میں تکنیک کے کئی اہم تجربات کر ڈالے ہیں۔ مصنفہ نے قبل ازیں ’ایمپائرز آف دی انڈس‘ کے نام سے ایک انتہائی دلچسپ سفر نامہ تحریر کیا تھا جس میں دریائے سندھ کے کنارے کنارے سفر کرتے ہوئے ماضی کے تباہ شدہ شہروں اور آج کی جیتی جاگتی بستیوں کا احوال ساتھ ساتھ بیان کیا گیا تھا۔

اس سفر نامے کی ریسرچ کے دوران مصنفہ کو اُردو، ہندی اور فارسی سیکھنے کا موقع بھی ملا اور انھوں نے سنسکرت کی مبادیات سے بھی شناسائی حاصل کی لیکن سفر نامے میں اس تحقیقی مواد کا محض ایک چھوٹا سا حصّہ ہی استعمال ہو سکا، بقیہ معلومات کو مصنفہ نے زیرِ نظر ناول کی تخلیق میں استعمال کیا ہے، اور کیا خوب استعمال کیا ہے !

اسی بارے میں