’وان گوخ نے خودکشی نہیں کی تھی‘

مصور ونسنٹ ولیم وان گوخ
Image caption وان گوخ 1890 میں 37 سال کی عمر میں فرانس میں انتقال کرگئے تھے

مصور ونسنٹ ولیم وان گوخ کی نئی سوانح عمری لکھنے والے دو مصنفوں کا کہنا ہے کہ وان گوہ نے خودکشی نہیں کی تھی۔

سٹیون نیلفے اور گرریگری وائٹ سمتھ کا کہنا ہے کہ اس بات کے امکان زیادہ ہیں کہ انہیں غلطی سے ان دو لڑکوں سےگولی لگی ہوگی جن کے پاس ’خراب بندوق‘ تھی۔

یہ دونوں مصنف دس سال کی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔یہ تحقیق انہوں نے بیس سے زائد مترجموں اور تحقیق کاروں کے ساتھ مل کر کی ہے۔

ایمسٹرڈیم میں وان گوخ میوزیم نے اس دعوے کو ’ڈرامائی‘ اور ’سازشی‘ قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں عجائب گھر کے محافظ لیو جانسن کا کہنا ہے کہ ’ابھی کئی سوالوں کے جواب باقی ہیں اور یہ کہ وان گوخ کی خودکشی کو خارج از امکان قرار دینا قبل از وقت ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے دعوے پر نئی بحث شروع ہو جائے گی۔

وان گوخ 1890 میں 37 سال کی عمر میں فرانس میں انتقال کرگئے تھے۔

ہالینڈ کے مصور وان گوخ آبرگ راووکس گیسٹ ہاؤس میں رہ رہے تھے جہاں سے وہ پینٹنگ کے لیے گندم کے کھیتوں میں گئے تھے۔

عرصے سے یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ انہوں نے گندم کے کھیتوں میں خود کو گولی مار لی تھی جس کے بعد گیسٹ ہاؤس میں ان کی موت ہو گئی تھی۔

تاہم مصنف سٹیون نیلفے کا کہنا ہے کہ ’یہ بات تو واضح ہے کہ ونسن کھیتوں میں خود کو گولی مارنے نےنہیں گئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ہوا یہ ہوگا کہ غلطی سے ان لڑکوں سے انہیں گولی لگ گئی اور انہوں نے ان لڑکوں کو بچانے کے لیے خود پر الزام لینے کا فیصلہ کیا‘۔