جولین بارنس کو بُکر 2011 کیوں ملا؟

جولین بارنس تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption بارہ ناولوں اور کہانیوں کے تین مجموعوں کے ساتھ ان کی کتابوں کی تعداد اٹھارہ ہے اس کے علاوہ انہوں نے قلمی نام سے بھی کتابیں لکھی ہیں۔

مین بُکر انعام 2011 جولین بارنس کو دیا گیا ہے۔ بارنس کو یہ انعام ان کے ناول ’دی سینس آف این اینڈنگ‘ پر ملا ہے۔

بارنس کی اب تک اٹھارہ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں بارہ ناول ہیں، تین مجموعے کہانیوں کے، دو مجموعے مضامین کے اور کتاب ایک نان فکشن ہے۔

یہی نہیں، اس کے علاوہ انہوں نے ڈان کوانگ کے قلمی نام سے بھی فکشن لکھا۔

بارنس اس سے پہلے بھی تین بار بُکر ایوارڈ کے لیے نامزد ہو چکے ہیں۔ پہلے 1984 میں فلابیئر پیرٹ کے لیے، دوسری بار 1988 میں انگلینڈ انگلینڈ کے لیے اور تیسری بار 2005 آرتھر اینڈ جارج کے لیے۔

اس بار ان کے ساتھ نامزد ہونے والوں کیرل برچ (جمراکس میناجری) پیٹرک ڈی وٹ (دی سسٹرز بردرز)، ایسی ایدوجن (ہاف بلیو مون)، سٹیفن کیلمین (پجّن انگلش) اور اے ڈی ملر (سنو ڈراپ) شامل تھے۔

ایوارڈ لینے کے بعد بارنس نے تقریر میں کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کہ انہیں یہ ایوارڈ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منصفوں کی دانش اور سپانسرز کے چیک کے شکر گزار ہیں۔

لندن کے گلڈہال میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں انہیں پچاس ہزار پاؤنڈ کی رقم کا چیک دیا گیا۔

جوئے کی کمپنیاں ولیم ہل اور لیڈ بروکس دونوں ہی بارنس کے جیتنے کے زیادہ امکانات ظاہر کر رہی تھیں۔ بارنس کے بعد برچ کے امکانات زیادہ تھے۔

یہ امکانات اس وقت اور بڑھ گئے جو انعام کے لیے لانگ لسٹ میں شامل ایک سو سینتیس کتابوں سے شارٹ لسٹ کی جانے والی چھ کتابوں کا اعلان کیا گیا اور بعض ادبی حلقوں کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا کہ بُکر انعام میں زوال امادگی کے آثار ہیں کیونکہ اب تحریر کی ادبی ماہیت کی بجائے مقبولیت کو پیش نظر رکھا جا رہا ہے۔

یہ بات یہاں تک بڑی کہ ایک اور ادبی انعام کا اعلان تک آ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ایم آئم فائیو کی سابق سربراہ قیادت میں بننے والی ججوں کی چار رکنی کمیٹی ایک نوع کے دباؤ میں آ گئی۔

کمیٹی میں ایک جج نے یہاں تک کہا کہ ’تمام ججوں نے لانگ لسٹ میں شامل تمام کے تمام ناول پڑھے ہیں‘۔

اس بحث مباحثے سے شارٹ لسٹ ہونے والی کتابوں کی فروخت میں مزید اضافہ ہو گیا اور شارٹ لسٹ اعلان کے بعد سے چھ کتابوں کی مجموعی فروخت ایک لاکھ کے لگ بھگ تھی۔ ان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول ملر کا سنو ڈراپ تھا جس کی پینتیس ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں، دوسرے نمبر پر کیرل برچ کا جمراکس میناجری تھا جس کی ساڑھے انیس ہزار کاپیاں فروخت ہوئیں۔ جب کہ جولین بارنس کا دی سینس آف این اینڈنگ تیسرے نمبر پر تھا اور اس کی پندرہ ہزار کاپیاں فروخت ہوئی تھیں۔

بارنس کا ناول اگست کے اوائل میں آیا تھا اور ریکارڈ کے مطابق اب اس کی اٹھائیس ہزار کے لگ بھگ کاپیاں فروخت ہوئی ہیں۔

اس بارے میں سب سے دلچسپ بات لندن میں کتابوں کی سب سے بڑی دکان فوئلز کے جوناتھان اوپن نے کہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’بارنس کی ذہانت اور تخلیقی قوت کی بارے میں تو کچھ کہنا فضول ہے، وہ ایک زبردست ادیب ہیں لیکن زیادہ اچھی بات یہ ہوتی کہ انہیں بُکر انعام کبھی بھی نہ ملتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ دی سینس آف این اینڈنگ، ایک ایسا ناول ہے جس پر تمام آرا کو ایک ہونا ہی نہیں چاہیے، کچھ لوگوں کو یہ ناول انتہائی زبردست لگے گا اور کچھ کو مایوس کن حد تک نامکمل لیکن بڑے ادیبوں سے ان کے دور میں، ہر آدمی کہاں خوش ہوتا ہے‘۔

اسی بارے میں