سیلاب ڈائری

وسعت اللہ خان، محد حنیف تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سیلاب ڈائری میں کبھی مزیدار سفر نامہ اور کبھی مہم جوئی کی کہانی نظر آتی ہے: محمد حنیف

سندھ کی نصف آبادی کو اس سال بھی سیلاب کا سامنا ہے گزشتہ سال اسی سیلاب کا سامنا سندھ کے ساتھ پنجاب اور بلوچستان کو بھی ہوا تھا۔ ان متاثرین کی مشکلات اور جدوجہد کو بی بی سی اردو سروس کے نامہ نگار وسعت خان نے اپنی سیلاب ڈائریوں میں سمویا تھا جس کو جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر نے کتاب کی صورت میں شائع کیا ہے۔

اس سیلاب ڈائری پر جمعرات کو تقریب گفتگو منعقد کی گئی۔

وسعت اللہ خان نے سیلاب کے دنوں میں ڈھائی ماہ کے عرصے میں چار ہزار کلومیٹر کا سفر طے کیا۔ یہ سفر پیدل، کشتی، ٹریکٹر اور مختلف گاڑیوں میں طے کیا گیا۔ تقریب گفتگو سے بی بی سی اردو سروس کے سابق مدیر اور مصنف محمد حنیف نے وسعت اللہ خان کی کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ سیلاب ڈائری میں کبھی مزیدار سفر نامہ اور کبھی مہم جوئی کی کہانی نظر آتی ہے۔

ان کے مطابق وسعت خان نے ان ڈائریوں میں یہ بتایا ہے کہ لوگ کس طرح زندہ رہتے ہیں، ان کے زندہ رہنے کی شکل کیا ہے۔ وہ کس طرح آپس میں بات کرتے ہیں، زمین اور ریاست کے ساتھ ان کا رشتہ کیا ہے۔

بقول حنیف کے سیلاب ڈائری ایک جیتی جاگتی تحریر ہے، جس میں لوگ سانس لیتے ہوئے اور زندہ رہنے کے لیے جتن کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد نے سیلاب ڈائریوں کو غیر معمولی کام قرار دیا، بقول ان کے وسعت اللہ خان نے سیلاب کی صرف تباہی کو تحریر نہیں کیا انہوں نے لوگوں کی اذیتوں اور تکلیفوں کو زبان دی بلکہ اس کے ساتھ تہذیبی معرکے مرتب کیے ہیں۔

ڈاکٹر جعفر احمد کے مطابق اس ڈائری میں پاکستان کی ریاست کے بارے میں بھی بنیادی سوال اٹھائے گئے ہیں اس کے علاوہ جو کچھ لکھا ہے اس کا ادبی پیرایا ہے، اس میں شگفتگی بھی ہے، عوامی جذبات اور تاثرات کا اظہار بھی ہے ۔

سماجی شعبے سے وابستہ صادقہ صلاح الدین نے سیلاب کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ صورتحال جوں کی توں ہے، گزشتہ سال دریا پہاڑوں سے اپنے ساتھ زرخیز مٹی لے کر آیا تھا مگر اس سال تو بارش اپنے ساتھ مٹی بھی نہیں لائی۔ اس وقت صرف مصیبت ہے، جس میں زیریں سندھ کے لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ سال کیمپوں میں سکول چلائے تھے جن میں آنے والے کئی بچے کبھی سکول نہیں گئے تھے۔ جب یہ بچے واپس اپنے گھروں کو گئے تو ان میں سے کچھ سے ان کا رابطہ ہوا وہ وہاں بھی سکول نہیں جاتے کیونکہ سکولوں میں وڈیروں نے زرعی سامان رکھا ہوا ہے۔

کراچی آرٹس کونسل میں منعقد اس تقریب میں ادبی، صحافی شخصیتوں کے علاوہ چند سرکاری افسران نے بھی شرکت کی جو گزشتہ سال سیلاب کے دنوں میں متاثرہ اضلاع میں انتظامی امور سرانجام دے رہے تھے۔

شرکاء کی جانب سے وسعت اللہ خان سے سوالات بھی کیے گئے، جس میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ سیلاب کو ڈائری میں قید کرنے کے لیے مسلسل سفر اور کام کے لیے توانائی کہاں سے آئی۔

وسعت اللہ خان کے مطابق یہ توانائی وہ مناظر اور لوگ فراہم کرتے ہیں۔ جب وہ یہ سوچتے ہیں کہ کچھ دیر بعد شام کو کسی ہوٹل کے کمرے میں تھک ہار کر سوجائیں گے مگر یہ آدمی اسی سڑک پر رہے گا مچھر اس کا خون چوستے رہیں گے اگلی صبح ہوجائے گی اور اس اگلی صبح کے بعد پتہ نہیں کتنی صبح ہوجائیں گی۔’یہ چیز شاید پہلے غیرت میں تبدیل ہوتی ہے پھر توانائی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔‘