آلو انڈے: ایک کڑوا سچ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بے غیرت بریگیڈ نے پاکستانی معاشرے کے ان عناصر کو براہِ راست چیلینج کیا ہے جن کا وہ تمسخر اڑانا چاہتے ہیں۔

آلو اور انڈے کا سالن پاکستان میں ہر لنچ باکس کے لیے ایک سزا کی حیثیت رکھتا ہے اور یہی پاکستان میں ایک جرات مندانہ اور طنزیہ گانے کا عنوان ہے جو کہ اس کے خالق کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔

آلو انڈے کے نام سے یہ گانا ’بےغیرت بریگیڈ‘ کے نام سے ایک غیر معروف بینڈ نے گایا ہے اور پاکستان بھر میں یہ لاکھوں لوگوں نے یو ٹیوب پر اسے پسند کیا ہے۔

اس گانے میں اُن موضوعات کو چھیڑا گیا ہے جن پر پاکستان میں کھل کر بات نہیں کی جا سکتی جیسا کہ اسلام کی بنیاد پرستی اور پاکستان کے فوجی سربراہ۔

اس گانے میں پاکستانی معاشرے میں ظالم قاتلوں کی بھی مذمت کی گئی ہے جیسا کے ممتاز قادری جنہوں نے ایک سیاستدان کو اس کے مذہبی خیالات کے باعث قتل کر دیا اور اجمل قصاب کو کہ دو ہزار آٹھ میں ممبئی میں ہوئے حملوں کے زندہ بچ جانے والے حملہ آور تھے۔ گانے میں بتایا گیا کہ ان افراد کو بعض لوگ ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔

گانے میں یہ بھی کہا گیا کہ نوبل انعام یافتہ پاکستانی شہری عبدالسلام کو بھلا دیا گیا ہے۔

’بےغیرت بریگیڈ‘ میں تین نوجوان دانیال، علی اور حمزہ شامل ہیں جو نہ صرف حسِ مزاح سے بھرپور ہیں بلکہ وہ پاکستان کے موجودہ حالات سے مایوس لگتے ہیں۔

آلو انڈے کا عنوان یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی معاشرہ ایک پرآشوب سے گزر رہا ہے۔

لیکن کیا اس بینڈ کے ارکان کو یہ اندازہ ہے کہ یہ گانا ان کے لیے خطرہ بھی بن سکتا ہے؟ آخر کار پاکستان میں صحافیوں کو بھی تو اکثر حد میں رہ کر رپورٹنگ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

ایک بینڈ ممبر دانیال ملک کا کہنا ہے کہ ’جب ہم اس گانے پر کام کر رہے تھے تو ہم یہ صاف طور پر جانتے تھے کہ ایسا ہوسکتا ہے۔‘

’لیکن ہم جمہوریت کی مخالف قوّتوں کو پیغام دینا چاہتے تھے اور ایک بحث چھڑنا چاہتے تھے جو ہم نے کر دیا۔‘

عام طور پر پاکستان میں ٹی وی پر دکھایا جانے والا طنز قابلِ برداشت حد تک مزاحیہ ہوتا ہے لیکن اس قدر جرات مندانہ نہیں ہوتا۔

پاکستان میں کیے جانے والے طنز و مزاح میں بے ضرر شخصیات، سیاستدانوں اور سیاسی صورتحال کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں مختلف ٹی وی چینلز پر ایسے درجنوں پروگرامز نشر کیے جاتے ہیں۔ ان میں خاکے، مزاح، اور سیاسی صورتحال کی مناسبت سے بھارتی فلموں کے گانے بھی شامل کیے جاتے ہیں۔

لیکن ان کامیڈی شوز میں پاکستان کی انٹیلیجنس سروس اور فوج کا کوئی ذکر نہیں ہوتا جو پاکستان میں حقیقی طاقت تصور کیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں سیاستدانوں پر بہترین طنز انیس سو ستر اور اسّی کی دہائیوں میں کیا گیا جب سرکاری سنسرشپ حالیہ دور کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی۔ انیس سو ستّر کی دہائی میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں جو سیاستدان واقعی بااختیار تھے ان پر بہت طنز کیا گیا۔

بے غیرت بریگیڈ نے پاکستانی معاشرے کے ان عناصر کو براہِ راست چیلینج کیا ہے جن کا وہ تمسخر اڑانا چاہتے ہیں۔

اس ویڈیو کا اختتام اسی چیلینج کا عکاس ہے جہاں گلوکار ایک پلے کارڈ اٹھائے سامنے آتا ہے جس پر تحریر ہے ’اگر آپ چاہتے ہیں کہ مجھے گولی مار دی جائے تو اس ویڈیو کو پسند کریں‘۔