’ایک کروڑ کی خواہش تھی، پانچ کروڑ مل گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈین سول سروس کے امتحان میں شرکت کی تیاری کا ارادہ رکھتا ہوں:سشیل کمار

بی بی سی کے سامع اور بھارتی ٹی وی شو’ کون بنے گا کروڑ پتی‘ میں پانچ کروڑ کا سب سے بڑا انعام جیتنے والے سشیل کمار کا کہنا ہے کہ ان کی تو جیسے زندگی ہی بدل ہی گئی ہے اور انہیں اب تک اپنی کامیابی کا بالکل یقین ہی نہیں آ رہا ہے۔

بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے سشیل نے کہا کہ ’یہ سب ناقابلِ یقین لگ رہا ہے۔ حالانکہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں وہی لڑکا ہوں جس کی عام زندگی ہے ، جو رات میں بی بی سی سنتا ہے اور صبح اخبار پڑھتا ہے. دن بھر دفتر میں ڈیوٹی کرتا ہے‘۔

بی بی سی سے اپنے تعلق پر سشیل کا کہنا تھا کہ ’میرے والد ، دادا تمام بی بی سی ہندی سروس سنتے ہیں۔ ہوش بھی نہیں تھا تب سے بی بی سی سنا جاتا تھا ہمارے گھر میں‘۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ہمیشہ سے ہی یقین تھا کہ وہ اس کھیل سے کم سے کم پچیس سے پچاس لاکھ کی رقم تو ضرور ہی واپس جیت کر آئیں گے۔

سشیل نے بتایا کہ انہوں نے پروگرام میں شرکت کے لیے روانہ ہونے سے قبل مندر میں دعا کی تھی کہ وہ ایک کروڑ روپے جیت جائیں۔ ’میں نے ایک کروڑ مانگا تھا، انہوں نے پانچ کروڑ دے دیے‘۔

ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے سشیل کمار کا کہنا ہے کہ وہ اب انڈین سول سروس کے امتحان میں شرکت کی تیاری کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ممبئی کے علاقے اندھیری کے ایک ہوٹل میں قیام پذیر سشیل کا کہنا ہے کہ ’جب میں ہاٹ سیٹ پر بیٹھا تو سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ امیتابھ بچن کے سامنے بیٹھا تھا۔ شہر کے تمام لوگ جان گئے مجھے۔ جیسے جیسے سوال آتے گئے ، مجھے لگا کہ میں ان کا جواب دے سکتا ہوں‘۔

ان کے مطابق جب وہ ایک کروڑ روپے جیت گئے تو انہوں نے سوچا کہ اب بہت ہوگیا، لیکن پھر سوچا کہ چلو آخری سوال بھی دیکھ لیا جائے اور جب انہوں نے وہ سوال دیکھا تو سوچا کہ اگر وہ دھیان دیں تو اس کا جواب دے سکتے ہیں۔

اس کامیابی کے بعد اپنے تجربے کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’پروگرام میں آنے کے بعد بہت بڑی، بڑی باتیں ہوئیں۔ میں پہلی بار ایسے ہوٹل میں ٹھہرا جس کےگیٹ پر کھڑا ہو کر میں سوچتا تھا کہ اس ہوٹل کے ایک دن کا خرچ میرے دو یا تین ماہ کی تنخواہ کے برابر ہوتا ہے‘۔

پروگرام کے لیے اپنی تیاری کے بارے میں بتاتے ہوئے سشیل کا کہنا تھا کہ ’جو شخص بی بی سی سنے یا میگزین پڑھے وہ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتا ہے۔ سوالوں کے جواب دینا مشکل نہیں تھا۔ میں مقابلے کے امتحان کی تیاری کرتا ہوں۔ روزانہ میں ریڈیو کے رابطے میں رہا، چاہے وہ بی بی سی ہو یا پھر کچھ اور۔ ٹی وی تو ملتا نہیں تھا، تو بی بی سی ہی سنا کرتے تھے۔ جب سے ہوش بھی نہیں تھا ، تبھی سے ہمارے گھر میں بی بی سی سنا جاتا رہا ہے۔ جب میرا آڈیشن ہوا تھا ، تو میں نے کہا تھا کہ میں بی بی سی کافی سنتا ہوں‘۔

جب سشیل سے پوچھا گیا کہ انہیں ملنے والی رقم میں سے ایک بڑا حصہ تو ٹیکس کی مد میں چلا جائے گا ، تو انہوں نے کہا کہ ایسا ہونا ان کے لیے فخر کی بات ہوگی۔ ’زندگی بھر میں جتنا کما نہیں پاتا ، اس سے زیادہ میں ٹیکس دے رہا ہوں. یہ بہت اچھی بات ہے اور میرے لیے بہت بڑی کامیابی ہے‘۔

انہوں نے بتایا کہ انعامی رقم سے وہ اپنی کچھ خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں۔ ’میری کچھ چھوٹی،چھوٹی خواہشات ہیں جیسے گھر بنوانا ہے ، بھائیوں کو کاروبار کروانا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ پیسے بچیں گے، غریب بچوں کے لیے کچھ ایسا کرنا ہے کہ جس سے انہیں تعلیم مل سکے، تو ان کے لیے میں کچھ ضرور کروں گا کیونکہ میں بھی اسی پس منظر سے آیا ہوں‘۔

اس سوال پر کہ اتنا پیسہ آنے کے بعد کیا کوئی عدم تحفظ کا جذبہ بھی ہے، سشیل نے کہا کہ انہیں اس ایسی کوئی فکر نہیں ہے کیونکہ بہار میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ ’مجھے فخر ہے کہ میں بِہار کا ہوں۔ میں نے بہار کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے محسوس کیا ہے کہ بہار پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے۔ اب یہاں امن ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری شروع سے ہی خواہش تھی کہ میں سول سروسز کے امتحان کی تیاری کروں اور اب میں نوکری کو چھوڑ کر دلی میں سول سروسز کی تیاری کروں گا‘۔

اسی بارے میں