بھوپن ہزاریکا نہیں رہے

بھوپن ہزاریکا
Image caption بھوپن ہزاریکا کا تعلق ریاست آسام سے تھا

ہندوستان کے مقبول ترین گلوکار اور فلم ہدایت کار بھوپن ہزاریکا لمبی بیماری کے بعد اتوار کو انتقال کرگئے ہیں۔ وہ چھیاسی برس کے تھے۔

بھوپن ہزاریکا نہ صرف ایک بہترین گلوکار بلکہ میوزک کمپوزر، نغمہ نگار اور ہدایت کار بھی تھے۔

بھوپن ہزاریکا لمبے وقت سے بیمار تھے اور انکے گردوں نے کام کرنا بند کردیا تھا۔

ان کا انتقال ممبئی کے کوکی بین دیرو بھائی امبانی ہسپتال میں ہوا ہے، جہاں وہ گزشتہ کئی مہینوں سے زیر علاج تھے۔

جون کے مہینے میں انکی حالت نازک ہونے کے بعد انہیں آئی سی یو میں داخل کرادیا گیا تھا۔

بھوپن ہزاریکا نے بارہ برس کی عمر میں سب سے پہلے ایک آسامی فلم میں نغمہ گایا تھا ۔ آسامی فلم انڈسٹری کی دوسری فلم انداملاتی میں ’بسو بجوئے نو جوان‘ گانا گانے کے بعد انہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

بھوپن ہزاریکا نے گلوکاری کے ساتھ ساتھ نغمے بھی لکھتے تھے۔ ویسے تو انہوں نے کئی فیچر فلمیں اور ڈوکیمونٹریز بھی بنائی ہیں لیکن دل سے وہ ایک نغمہ نگار تھے اور انہیں گلوکاری میں جو مزا آتا تھا وہ کسی اور کام میں نہیں۔

ہندی فلم ’ردالی‘ میں ان کا گایا ہوا نغمہ دل ہوم ہوم کرے بے حد مقبول ہوا تھا۔ ردلالی کے علاوہ انہوں نے ’دو راہیں ' درمیان'، ' ساز'، ' گج گامنی' اور چنگاری جیسی فلموں کے نغمے گائے ہیں۔

ردالی فلم کی موسیقی کے لیے انہیں نہ صرف بیشتر اعزازات سے نوازہ گیا بلکہ اس فلم کے بعد ہزاریکا کا نام ان موسیقی کاروں میں شامل ہوگیا جنہوں نے کلاسیکل موسیقی اور پوپلر میوزک کا ملاپ کیا۔

ہزاریکا نے ہندی اور آسامی زبان کے علاوہ بنگلہ فلموں کے لیے بھی گانے گائے۔

بھوپن ہزاریکا کو نہ صرف بیشتر قومی اعزازات سے نوازہ گیا بلکہ 1992 میں انہیں دادا صاحب پھالکے اعزاز سے بھی نوازہ گیا۔

سنہ 2001 میں حکومت نے انہیں اعلی شہری اعزاز پدم بھوشن نے نوازہ۔

بھوپن ہزاریکا نے آسام کی موسیقی کی تاریخ پر کئی ڈوکیمونٹریز بنائیں اس کے علاوہ انہوں نے مقبول ترین ٹی وی سیریل ' لوہت کنارے' کو بھی اپنی آواز دی۔

بھوپن ہزاریکا کی موت کو موسیقی کی دنیا کے لیے ایک بہت بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔