عابدہ پروین کی واپسی

Image caption ہسپتال میں عابدہ پروین کی این جی او پلاسٹی کی گئی

معروف پاکستانی گائکہ عابدہ پروین تقریباً پورے ایک سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر اپنے مداحوں کے درمیان لوٹ آئی ہیں۔

گزشتہ سال سائیس نومبر کو لاہور میں ایک پرفارمنس کے دوران ان پر دل کا دورہ پڑا تھا جس کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور ہی کے ایک نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا۔

ان پر دل کے دورے کی خبر آناً فاناً پاکستان بھر میں پھیل گئی۔ یہاں تک کہ ذرائع ابلاغ کے کچھ اداروں نے نہ صرف ان کے انتقال تک کی خبر دے دی بلکہ فنکاروں سے تعزیتی بیان تک حاصل کرنا شروع کر دیے۔

حالاں کہ عابدہ پروین کے ڈاکٹروں نے محض اتنا کہا تھا کہ ان کے لیے آئندہ چوبیس گھنٹے اہم ہیں۔ ہسپتال میں عابدہ پروین کی این جی او پلاسٹی کی گئی اور انھیں صحت یابی تک پروگرامز کرنے سے منع کر دیا گیا۔

اب وہ پوری طرح رو بہ صحت ہیں اور سنیچر کی رات انہوں نے سال بھر بعد کراچی کی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں واقع ایک نجی کلب رائل روڈیل میں پہلی بار اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کی صوفیانہ گائکی سے لطف اندوز ہونے اور انہیں دیکھنے کے لیے گیارہ سو افراد کا انتظام کیا گیا تھا لیکن یقیناً گنجائش سے زیادہ مداح وہاں موجود تھے۔

ان مداحوں میں اکثریت نوجوان اور جوانوں کی تھی اور انہوں نے عابدہ پروین کی آمد پر جس طرح والہانہ انداز میں کئی منٹ تک کھڑے ہو کر، تالیاں اور سیٹیاں بجا بجا کر اور پھر علی علی کے نعرے لگا کر خیر مقدم کیا وہ نہ صرف پاکستان کے نوجوانوں میں موسیقی کے بدلتے ہوئے ذوق کا اظہار ہے بلکہ یقیناً عابدہ پروین کی مزید صحتیابی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

ستاون سال کی عمر کو پہنچنے والی عابدہ پروین نے ایک وقفے کے ساتھ دو گھنٹے تک اسی جذب و سرمستی سے اپنے فن کا اظہار کیا جو صرف انہیں سے مخصوص ہے۔

پروگرام کے پہلے حصے میں انہوں نے صرف تین گانے گائے جس کے بعد وقفہ کر دیا گیا۔ مداح مزید گانے اور وقفہ نہ کیے جانے پر اصرار کر رہے تھے لیکن انہیں بتایا گیا کے علالت کے بعد یہ عابدہ پروین کی پہلی پرفارمنس ہے اور منتظمین یہ چاہتے ہیں کہ اس پرفارمنس کا ان کی صحت پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔

نصف گھٹنے کے وقفے کے بعد عابدہ پھر واپس آئیں اور انہوں نے سب کچھ بھلا کر اسی جذب اور سرشاری کا سلسلہ رواں کر دیا جس نے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مداحوں میں موجود گنتی کے بزرگوں کو بھی مستی میں ڈبو دیا۔

اسی بارے میں