کراچی: چوتھی عالمی اُردو کا نفرنس

پیرزادہ قاسم تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ اردو کی تر ویج کے لیے ہمیں بہت پہلے کام کرنا چا ہیے تھا۔

چوتھی عالمی اُردو کا نفرنس آرٹس کونسل آف پاکستان کرا چی میں شروع ہو گئی چار روز تک جاری رہنے والی کا نفرنس میں دنیا بھر سے آئے ہو ئے دانشور اور ادیب مختلف موضوعات پر مقالے پڑ ھیں گے۔افتتاحی اجلاس کا موضوع بدلتا عالمی تناظر اور فیض کی شاعری تھا۔

افتتاحی اجلاس کی مجلس صدارت میں انتظار حسین، جمیل الدین عالی، ڈاکٹر جمیل جالبی، لطف اللہ خان، ڈاکٹر اسلم فرخی، ڈاکٹر قاضی افضال حسین، ڈاکٹر شمیم حنفی، سید فیاض حسین، ڈاکٹر خلیل طوقار، ڈاکٹر انوار احمد، زہرا نگاہ اور ڈاکٹر فاطمہ حسن شامل تھے۔

مجلسِ صدارت میں ممتاز مزاح نگار مشتاق احمد یو سفی شامل تھے لیکن وہ علالت کے باعث شرکت نہ کر سکے۔

ڈاکٹر پیرزادہ قاسم نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ اردو کی تر ویج کے لیے ہمیں بہت پہلے کام کرنا چا ہیے تھا۔ فیض نے اپنی شاعری، اپنے زمانے کے کر ب کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے کا زمانہ اقبال کا تھا یہ ایک دوسرے سے جڑ ے ہو ئے ہیں۔ اقبال کے منظر نامے کا عکس فیض کے سا منے تھا۔ وقت اور زمانہ ایک خاص رفتار سے سفر جاری رکھتا ہے، وقت کا پہیہ ایک رفتار سے گر د ش کر رہا ہے۔ اگر ہم اس کا سا تھ نہیں دے پا تے تو پیچھے رہ جا تے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تخلیق کار اس رفتار کا قیدی نہیں ہوتا، وہ آگے نکل جائے یا پیچھے رہ جا ئے اس کے پاس جتنا شعور ہو تا ہے اتنا ہی بڑا وہ تخلیق کار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیض کا فلسفہ ایک تحر یک بن چکا ہے۔ وہ ایک بہت اہم شاعر ہیں، ان کی خوبی یہ ہے کہ ان کی فکر بہت وسیع ہے یہ سب تاریخی شعور اپنے عہد ے اور عالمگیر سطح سے واقف ہو ئے بغیر ممکن نہیں ہے۔

ہندوستان سے آنے والے ممتاز ادیب ڈاکٹر شمیم حنفی نے ہندوستان میں ادب کے چراغ کا اور پاکستا ن میں روشنی کا ذکر کیا اور فیض احمد کے کلام کو عصر حاضر کا نیا تحفہ قرار دیا۔

انہوں نے فیض کی شاعری کو منفرد اور مختلف قرار دیا ہے اور کہا کہ فیض احمد فیض عصرِ حاضر میں گہری نظر رکھنے وا لے شاعر تھے، انہوں نے ماضی کے تجر بے سے حال کا احاطہ کیا اور اسے اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ فیض نے اقبال کی عظمت کو پہچانا اقبا ل کی عظمت کے ساتھ اپنے لیے الگ راہ ہموار کی

اپنے ابتدائی کلمات میں آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ عصرِ حاضر میں کرا چی شہر میں لگاتار عالمی اُردو کانفرنسوں کے انعقاد کا اعزاز آرٹس کونسل کراچی کو حاصل رہا ہے۔ آرٹس کونسل نے نامساعدحا لات کے باوجو انتہا ئی خوبصورتی سے کانفرنسوں کاانعقاد کیا ہے۔

احمد شاہ کا کہنا تھا کہ اس کانفرنس سے جہا ں اردو ادب و تہذیب کو ترویج ملتی ہے وہاں اردو ادب سے تعلق ر کھنے وا لی شخصیات اور ان کے کام کو نئی نسل تک پہنچانا اور اسے اس سے واقف کرانا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اردو کو عملاً قومی زبان کے طور پر نافذ کیا جانا چاہیےکیونکہ ہر قوم کی ترقی اس کی اپنی زبان پر منحصر ہو تی ہے جیسے چین، جاپان اور دیگر ممالک نے اپنی ہی زبانوں میں ترقی کی ہے، جب تک پا کستا ن میں اردو زبان کو اس کی حیثیت نہیں دی جائے گی اس وقت تک پاکستان نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں اردو زبا ن کو شاعری اور افسانوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔

احمد شاہ نے کہا کہ اردو کو پاکستا ن کی قو می زبان کا در جہ حاصل تو ہے مگر عملاً انگریزی زبان کو اردو پر فوقیت دی جا تی ہے جو مکمل غلامانہ ذہن کی عکاسی ہے اس لیے ہم ان کانفر نسوں کا انعقاد کرتے ہیں، سکالرز کو دعوت دیتے ہیں اور خاص کر طلبہ کو بھی شریک کرتے ہیں تا کہ وہ سکالروں سے مستفید ہو سکیں۔

پرو فیسر سحر انصاری نے اپنے کلید ی خطبے میں فیض پر اپنی کتاب ’فیض کے آس پاس‘ سے چند اقتباسات پیش کیے۔

ان کا کہنا تھا تیس کی دہا ئی میں میں فیض کی شاعری عشقیہ تھی لیکن تب بھی ان کا انداز ایسا تھا کہ سننے اور پڑھنے والے کو خود اپنی بیتی لگتی تھی۔

فیض نے اپنی نظم ہم لوگ میں عام لوگوں کے احساسات و جذ بات کا اظہار جس قدر خوبصورتی سے کیا وہ اپنی مثال آپ ہے۔ فیض کبھی بھی مایوس نہیں ہوتے تھے اور ہمیشہ دنوں کی امیدیں باندھے رہتے تھے۔ فیض دنیا بھر کے حالات سے آگاہ تھے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ دنیا بھر کے سیاسی و معا شی اور معا شرتی حالات سے آگاہ رہنا فیض کی عادت کا ایک حصّہ تھا۔

اسی بارے میں