جدید شاعری، غالب، راشد، فیض اور مجاز

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ڈاکٹر قاضی افضال حسین کا کہنا تھا کہ تنہا غالب نے اردو شاعری کی روایت کو اس طرح تبدیل کیا کہ اس کی مثال دنیا کی کسی اور زبان بھی نہیں ملتی۔

جمعرات کو چوتھی عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن غالب اور فیض کی شاعری، جدید شاعری کی تشکیل و تکمیل اور جدید نظم کے معمار کے طور پر راشد اور فیض پر بات کی گئی۔

تسیرے روز پہلا اجلاس ’غالب عہد آفریں‘ کے عنوان سے ہوا۔ اس اجلاس کی مجلسِ صدور ممتاز سکالر ڈاکٹر رؤف پاریکھ، نوجوان نقاد امجد طفیل، ڈاکٹر ظفر اقبال، ڈاکٹر شمیم حنفی، افتخار عارف، ڈاکٹر قاضی افضال حسین، امجد اسلام امجد، ڈاکٹر عالیہ امام اور آرٹس کونسل کے سیکرٹری پروفیسر اعجاز فاروقی پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر شمیم حنفی اس اجلاس صدر الصدور تھے جب کہ نظامت کے فرائص نقاش کاظمی نے انجام دیے۔ اس اجلاس سے ترکی کے مندوب خلیل طوق آر نے بھی خطاب کیا۔

اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رؤف پاریکھ نے ’غالب کی لغت نویسی پر اعتراضات‘ کے موضوع پر بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب نے زبان پر بہت سے اعتراضات کیے جس کے نتیجے میں ایک بحث مباحثے کا سلسلہ چل پڑا اور غالب کے جواب میں چار کتابیں شایع کی گئیں۔ انہوں نے زبان پر غالب کے اعتراضات کی فہرست بھی پیش کی اور اس میں کمزوریوں کی نشاندھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب نے فارسی میں ایسے الفاظ استعمال کیے جو مشکوک تھے۔

ان کے بعد امجد طفیل نےاپنا مضمون پڑھا جو جدید شاعری پر غالب کے اثرات کے بارے میں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ غالب سرسید سے بھی زیادہ دور رس نظر رکھتے تھے اور اقبال جس طرح اپنی نظموں اور غزلوں میں فلسفیانہ موضوعات کو چھوتے ہیں ان سے پہلے یہ کام غالب کے ہاں موجود ہے۔ پھر فیض کے ہاں رقیب کا جو تصور ہے وہ غالب سے لیا گیا ہے اور یہاں تک کہ راشد کا جو فارسی آمیز اسلوب ہے وہ بھی غالب ہی کے انداز سے لیا گیا ہے۔

ڈاکٹر ظفر اقبال نے ’غالب کا نثری اسلوب خطوط کے آئینے میں‘ کے عنوان سے مضمون پڑھا۔ ان کا کہنا تھا کہ غالب کی نثر ان کی شخصیت کا عکس ہے اور اس سے ان کے دو اہم پہلو سامنے آتے ہیں جو ہمدردی و غمگساری کے ہیں۔

ڈاکٹر قاضی افضال حسین نے کہا کہ غالب کسی فلسفے یا فکر کا آئیڈیولاگ نہیں تھے اور نہ ہی کسی تحریک سے وابستہ تھے لیکن ان کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے تنہا پوری اردو روایت کا رخ موڑ دیا اور ان کے بعد جو شاعری ہوئی ہے وہ شاعری ان سے پہلے ہونے والی شاعری جیسی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا ایسے کارنامے کی کوئی اور مثال کسی اور زبان میں اور اس کے ادب میں نہیں ملتی۔

ڈاکٹر عالیہ امام نے کا کہنا تھا کہ اقبال غالب ہی کے زیر اثر ہمیں ایک انقلاب کی طرف لے جاتے ہیں کیوں کہ غالب جاگیردارانہ روایت کی پیدا وار تھے اور انہیں اس کا احساس بھی تھا۔

ترک دانشور خلیل طوق آر نے بتایا کے ترکی میں کچھ لوگ تو اردو پاکستان اور اقبال سے محبت کی وجہ سے پڑھتے ہیں اور کچھ صرف ایک اور زبان سیکھنے کے لیے۔ لیکن اردو کیونکہ ترکی زبان کا لفظ ہے اور غالب بھی ترک تھے تو اردو آپ کے نہیں ہماری زبان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی میں اردو کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور کچھ نجی ادارے بھی اردو کی تدریس شروع کرنا چاہتے ہیں لیکن انہیں اساتذہ نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض طلبہ پاکستان میں اردو کا حال دیکھ کر اردو پڑھنے کا اردہ ترک کر دیتے ہیں۔

صدر الصدور ڈاکٹر شمیم حنفی کا موضوع ’غالب کی فکرِ جدید‘ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا موضوع خاصا بڑا چیلنج تھا۔ انہوں نے کہا مرحوم صلاح الدین محمود نے ایک بار کہا تھا کہ ’اردو کے اچھے شعر اور اچھی نثر کی ذمہ داری ایک ہی دکھیاری روح (غالب) پر آن پڑی تھی‘۔

ان کا کہنا تھا کہ غالب نے جس شہر سے خود کو وابستہ کیا اس پر ان کے زمانے کی کون سے افتاد تھی جو نہیں ٹوٹی۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنے مسائل کو سارے زمانے کے مسائل سے جوڑ دیا۔

شمیم حنفی نے بتایا کہ شاعر کے طور پر غالب فرانسیسی شاعر بادلیئر، ہائینے اور پشکن کے ہم عصر ہیں اور اردو کا شاعر ہونے کے باوجود کسی طور ان شعرا سے کم درجے کے شاعر نہیں ہیں حالانکہ ان کا ان شعرا سے کسی طرح کا کوئی رابطہ نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ غالب ایک طرح سے بوہیمین اور فیوچرسٹ شاعر تھے اور ایک نئی انسان دوستی پر یقین رکھتے تھے۔ زبان کے معاملے میں بھی وہ اجتماعی میلان کے برخلاف ذاتی فکر کے حق میں تھے۔

’جدید شاعری – تشکیل و تکمیل کا منظر نامہ‘

تیسرے دن کا دوسرا اجلاس ’جدید شاعری – تشکیل و تکمیل کا منظر نامہ‘ اس اجلاس کی نظامت فاطمہ حسن نے کی۔ جب کہ اس کی مجلسِ صدور یشب تمنا، عبید صدیقی، امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم، سرشار صدیقی، سید مظہر جمیل، سیما غزل، سحر انصاری اور ڈاکٹر ضیا الحسن پر مشتمل تھی۔ سرشار صدیقی صدر الصدور تھے۔

معاصر غزل کےعنوان پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ضیا الحسن کا کہنا تھا کہ اس صنف میں اگرچہ مسلسل تجربات ہوتے رہے ہیں اور اب غزل موضوعاتی بندشوں سے آزاد ہو چکی ہے۔ یہ تجربے آزاد غزل، نثری غزل اور اینٹی غزل وغیرہ کے عنوان سے کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ تجربات کامیاب نہ ہونے کے باوجود غزل کو کچھ نہ کچھ دے گئے ہیں اور تجربات کا یہی فائدہ ہوتا ہے کہ اس سے آنے والوں کے لیے راہ ہموار ہوتی ہے۔

یشب تمنا نے برطانیہ میں اردو شعرا کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں سب سے اہم شاعر ساقی فاروقی ہیں اور گزشتہ چار دہائیوں سے وہاں رہ رہے ہیں اور وہ سزا بھی کاٹ رہے ہیں جو سوادِ اعظم سے دور رہنے کی ہوتی ہے۔ اس طرح دوسرے لوگ بھی ہیں اب باصر کاظمی بھی وہاں رہتے ہیں اور شاعری کرتے ہیں اب یہ طے کرنا آپ لوگوں کا کام ہے کہ وہ کیسی شاعری کر رہے ہیں۔

عبید صدیقی کا کہنا تھا کہ جدید بالعموم نئے کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں تک غزل کا معاملہ ہے غزل طویل عرصے تک فارسی کے شکنجے میں رہی ہے اور اس شکنجے سے نکلنا آسان نہیں تھا یہ تو فراق اور ناصر کاظمی ہیں جنہوں نے غزل کو اس شکنجے سے آزاد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منیر نیازی، ظفر اقبال، احمد مشتاق اور عزیز حامد مدنی پر بات ہونی چاہیے۔

سید مظہر جمیل نے فیض احمد فیض کے دو ایسی نظموں کے بارے میں بات کی جو انہوں نے انگریزی میں لکھی تھیں۔ ان میں سے ایک نظم ’یونیکورن اینڈ دی ڈانسنگ گرل‘ تھی جو موئین جودڑو یا موہنجو دڑو کے پس منظر میں 1960 لکھی گئی تھی اور سول انیڈ ملٹری گزٹ میں مارچ 1963 میں شایع ہوئی تھی۔ دوسری نظم ’الیوژن ‘ کے عنوان سے 1930 میں لکھی گئی تھی۔ اس کا اردو ترجمہ افکار نومبر 1985 میں شایع ہوا تھا۔

تیسرے دن کا تیسرا اجلاس ’جدید نظم کے دو معمار – راش اور مجاز‘ کے عنوان سے تھا۔ اس کی مجلسِ صدور عنبرین حسیب عنبر، سید مظہر جمیل، فرہاد زیدی، پروفیسر سحر انصاری اور سلمان پیرزادہ پر مشتمل تھی۔ اس کے صدر الصدور فرہاد زیدی تھے۔ اور نظامت کے فرائض سید جاوید حسن نے انجام دیے۔

عنبرین حسیب عنبر نے ن م راشد کے بارے میں اپنے مضمون میں راشد کے اسلوب کو داستانی اسلوب قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے زیادہ وقت مغرب میں گزارا لیکن ان کی نظموں کے کردار مشرقی ہیں۔ راشد کی ایک اہم نظم اندھے کباڑی کے باے میں ہے اور ایسا لگتا ہے کہ خود راشد کی حیثیت بھی اس اندھے کباڑی کی سی ہے جو خواب بیچ رہا ہے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ راشد کی نظموں کو ٹکڑوں میں پڑھا جاتا ہے کلیت میں نہیں۔

ان کے بعد سحر انصاری نے مجاز پر خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض، راشد، اور مجاز ہم عصر ہیں لیکن انہیں وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو انہیں دی جانی چاہیے۔ اس طرح کیفی اعظمی، جانثار اختر، جذبی اور مخدوم محی الدین بھی ان کے ہم عصر تھے لیکن ان کے مزاج میں ایک الگ طرح کی غم انگیزی تھی۔انہیں سب سے زیادہ شہرت ’آوارہ ‘ سے ملی۔

اس اجلاس کے بعد اداکار، شاعر اور صداکار طلعت حسین نے ن م راشد کی پانچ اہم نظمیں پڑھیں جن میں ’حسن کوزہ گر‘ اور ’اندھا کباڑی‘ بھی شامل تھیں۔

دو کتابوں کی رونمائی

اس کے بعد یکے بعد دیگرے دو کتابوں کی رونمائی ہوئی۔ جن میں انتظار حسین کی ’جستجو کیا ہے‘ اورمجاہد بریلوی کی ’جالب جالب‘ شامل تھیں۔

انتظار حسین کے کتاب ’جستجو کیا ہے‘ کی رسمِ رونمائی کی صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی اور نظامت کے فرائص مبین مرزا نے انجام دیے۔ مقرروں میں عبید صدیقی بھی شامل تھے جنہوں انتظار حسین پر دستاویزی فلم بنائی ہے۔

معروف صحافی مجاہد بریلوی کی کتاب ’جالب جالب‘ کی تقریبِ رونمائی کی صدارت افتخار عارف نے کی۔ خاص مقرر مسعود اشعر اور اشرف شاد تھے جب کہ نظامت کے فرائض اشفاق حسین نے انجام دیے۔

اسی بارے میں