چوتھی عالمی اردو کانفرنس: اردو کے عملی نفاذ کا مطالبہ

چوتھی عالمی اردو کانفرنس تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کراچی آرٹس کونسل گزشتہ چار سال سے عالمی اردو کانفرنسوں کا انعقاد کر رہی ہے۔

کراچی میں جاری چوتھی عالمی اردو کانفرنس جمعے کی رات اردو کو حقیقی معنوں میں عملاً قومی زبان کے طور پرنافذ کرنے کے مطالبے اور پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے انعقاد کے اعلان پر ختم ہوئی۔

کونسل کے پہلے منتخب صدر محمد احمد شاہ نے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی آرٹس کونسل گزشتہ چار سال سے عالمی اردو کانفرنسوں کا انعقاد کر رہی ہے اور ان کانفرنسوں کا بنیادی مقصد اردو کے ادیبوں، دانشوروں اور اردو پڑھنے والوں کے درمیان فاصلوں کو کم کرنا اور دنیا بھر کے اردو ادیبوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کام کو انجام دینا کسی ایک فرد کے لیے ممکن نہیں ہو سکتا اور اس میں ان کے تمام ساتھیوں نے ان کی مدد کی اور ایسے جوش اور جذبے سے کام کیا کہ ہر کام ممکن ہوتا چلا گیا۔

انہوں نے مجلسِ صدور کی اجازت سے کئی قرار دادیں پیش کیں جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر دارالتراجم قائم کیے جائیں، بھارت اور پاکستان کتابوں اور رسائل کی آمد و رفت کو آسان بنایا جائے اور ڈاک کے اخراجات کم کیے جائیں، ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور ادیبوں کا تبادلہ اور دونوں ملکوں میں ان کی آمد و رفت کو آسان بنایا جائے اور ادیبوں، دانشوروں اور صحافیوں پر پولیس رپورٹنگ کی پابندی ختم کی جائے۔

اختتامی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر فرمان فتح پوری نے کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اور بھی آرٹس کونسلیں ہیں لیکن کراچی آرٹس کونسل کو سب بڑی آرٹس کونسل ہونے کا اعزاز حاصل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کراچی آرٹس کونسل کو آرٹس کونسلوں کی مونا لیزا قرار دیا۔

انہوں کہا کہ ملک، بھارت اور دیگر ملکوں سے جو مندوب یہاں آئے ہیں اس سے ان کی نہیں خود ہماری اور اس شہر کی عزت افزائی ہوئی ہے۔ ہمیں ان کے خیالات جاننے، ان سے ملنے اور ان کی دانش سے فیضیاب ہونے کا موقع ملا ہے۔

بھارت سے آنے والے مندوب ڈاکٹر قاضی افضال حسین نے بیرون ملک سے آنے والے مندوبین کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بہت سی عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے لیکن اتنی منظم اور مربوط کانفرنس انہوں نے کہیں بھی نہیں دیکھی۔ اختتامی اجلاس کی مجلسِ صدارت پروفیسر اعجاز فاروقی، مسعود اشعر، ڈاکٹر قاضی افضال حسین، شمیم حنفی، جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پیرزادہ قاسم، ڈاکٹر فرمان فتح پوری، انتظار حسین، محمد احمد شاہ، زاہدہ حنا اور آرٹس کونسل کی ادبی کمیٹی کے چئرمین پروفیسر سحر انصاری پر مشتمل تھی۔ ڈاکٹر فرمان صدر الصدور تھے اور نظامت کے فرائض عنبرین حسیب عنبر نے انجام دیے۔

اس سے قبل ہونے والے خصوصی اجلاس میں نیشن انسٹیٹیوٹ آف پرففارمنگ آرٹس، ناپا کے سربراہ اور ممتاز صداکار ضیا محی الدین نے چالیس منٹ تک علامہ اقبال کا منتخب کلام اپنے مخصوص انداز میں سنایا۔ جسے حاضرین نے بے انتہا سراہا اور انہیں کھڑے ہو کر خراجِ تحسین پیش کیا۔

ان کے بعد اس اجلاس میں لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز، لمس کے ڈاکٹر نعمان نے ’افکارِ اقبال اور اکیسویں صدی کا منظر نامہ‘ کے عنوان سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں افکارِ اقبال سے زیادہ اقبال کی شاعری سے دلچسپی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ ہم اقبال کی شاعری سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ علامہ اقبال کے سیاسی، سماجی، اقتصادی، معاشی افکار اور افکار کا بہت استعمال ہو چکا اب ان کی شاعری پر بات ہونی چاہیے اور ’اے ہمالہ اے فصیلِ کشورِ ہندوستان‘ والے اقبال کو سامنے لانا چاہیے۔

کانفرنس کے چوتھے روز کا پہلا اجلاس ’ذرائع ابلاغ، ہم عصر رحجانات اور مسائل‘ کے عنوان سے ہوا۔ اس اجلاس کی مجلسِ صدارت میں شاعر، براڈکاسٹر، فلم میکر عبید صدیقی، پروفیسر ہارون رشید، ریڈیو پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر مرتضٰی سولنگی، شاعر اور ڈرامہ نگار اصغر ندیم سید، سینئر صحافی اور شاعر محمود شام، صحافی، شاعر، نقاد اور صحافیوں کے رہنما احفاظ الرحمٰن، ممتاز ڈرامہ نگار حسینہ معین اور ممتاز صحافی، افسانہ نگار اور مترجم مسعود اشعر شامل تھے۔ اس اجلاس کی نظامت صحافی اور شاعر فاضل جمیلی نے کی۔ صدر الصدور محمود شام تھے۔

محمود شام نے کہا کہ انہیں جدید صحافتی اخلاقیات پر بات کرنی تھی لیکن وقت بہت ہو چکا ہے اس لیے وہ صرف اتنا ہی کہیں گے کہ ’ہم ٹیکنالوجی کو استعمال نہیں کر رہے ٹیکنالوجی ہمیں استعمال کر رہی ہے‘۔

ان سے قبل عبید صدیقی نے ذرائع ابلاغ اور اخلاقی صورتِ حال‘ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کے بھارت میں اس وقت ستر ہزار اخبارات و جرائد اور ساڑھے چار سو ٹی وی چینلز ہیں اور تین سو سے زائد ٹی وی چینل اجازت ملنے کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک اخلاقی صورتِ حال کی بات ہے تو اس کا اندازہ اس بات سے کر لیں کہ مہاراشٹر کے وزیر اعلٰی نے بعض اخبارات کو انتخابات میں اپنے امیدواروں کے حق میں تشہیر کرنے کے لیے رشوت دی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان اخبارت میں بعض اوقات ایک ہی صفحے پر ایک ہی حلقے کے دو دو امیدواروں کی کامیابی کے امکانات ظاہر کیے گئے۔ جب رشوت دیے جانے کے معاملے کا انکشاف ہوا تو پریس کونسل نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی اور کئی چینلوں اور اخبارات کو رشوت لینے کا مرتکب پایا گیا۔

ابھی عبید صدیقی یہ بات کر ہی رہے تھے کہ آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے ان سے کہا کہ وہ اپنی بات مختصر کر دیں۔ اس انہوں نے اپنی بات وہیں ختم کر دی اور اپنی نشست پر چلے گئے۔ ان کے اس طرح چلے جانے کو حاضرین نے نا پسند کیا اور ان کی واپسی کے شور مچانا شروع کر دیا جس پر انہیں واپس بلایا گیا اور انہوں نے چند جملوں میں اپنی بات ختم کر دی۔ احمد شاہ کا کہنا تھا کہ اجلاس کا مقررہ وقت ختم ہو چکا ہے اور ضیا محی الدین جو وقت کے انتہائی پابند ہیں اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں۔

عبید صدیقی سے قبل احفاظ الرحمٰن نے کہا ذرائع ابلاغ کے پھیلاؤ سے صورتِ حال میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ اب الیکڑانک میڈیا کی آن سپاٹ رپورٹنگ سے بہت سارے جرائم میں خاصی کمی آئی ہے یہ ضرور ہے کہ میڈیا میں زبان و بیان اور فنی نوعیت کے بہت سے مسائل ہیں جن پر صحافی مطالعے کی عادت اپنا کر قابو پا سکتے ہیں۔

ان سے قبل اصغر ندیم سید نے کہا کہ ڈرامے کے زوال کا مسئلہ یہ ہے کہ ماضی کے برخلاف سارے فیصلے مارکیٹنگ والوں کے ہاتھ میں آ گئے ہیں۔

مقبول ڈرامہ نگار حسینہ معین نے جو ’آغا حشر سے ڈرامے کے حشر تک‘ کے عنوان سے بات کر رہی تھیں کہا کہ ایک زمانہ تھا کہ پی ٹی وی واحد ٹی وی تھا اور اس کے لیے جو لوگ ڈرامے لکھتے تھے وہ پڑھے لکھے اور پڑھنے لکھنے والے ہوتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ڈرامے انتہائی مقبول ہوتے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے دور درشن نے فلمیں ٹیلی کاسٹ کرنا شروع کیں اور حال یہ ہو گیا کہ لوگ بھارتی فلمیں دیکھنے کے لیے لاہور تک کا سفر کرنے لگے کیونکہ دوردرشن کی نشریات لاہور تک آتی تھیں۔ لیکن اس سے اس صورتِ حال میں تبدیلی نہیں آئی کہ پاکستان سے بھارت جانے والوں سے ان کے دوست پی ٹی وی کے ڈراموں کے کیسٹ منگاتے تھے۔ لیکن اب ٹی وی چینلوں کے لیے جو ڈرامے بنتے ہیں وہ ایک نوع کی مافیا کے ہاتھ میں آ گئے ہیں جو لکھنے والوں کو اور ڈائریکٹروں تک کو ہدایات دیتے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب ہم پھر وہیں پہنچ جائیں گے جہاں سے ہم نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔

ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل مرتضٰی سولنگی نے ’ذرائع ابلاغ کے عصری مسائل‘ کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ اب ذرائع ابلاغ پر ایسی زبان بولی جا رہی جس میں انگریزی الفاظ بہت ہوتے ہیں لیکن امید کی جا سکتی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتِ حال بہتر ہوتی جائے گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب سوشل میڈیا بہت اہم ہوتا جا رہا ہے اور بہت سے مواقع پر وہاں خبر ذرائع ابلاغ کے اداروں سے بہت پہلے آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ عالمی سطح پر سوشل میڈیا نے ایسی تحریکوں تک کو جنم دیا ہے جو ذرائع ابلاغ سے ممکن نہیں ہو سکیں۔

مرتضٰی سولنگی سے قبل پروفیسر ہارون نے پاکستان میں زبانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے کہ اردو کی حریف مقامی زبانیں نہیں بلکہ انگریزی ہے جسے حکمرانوں اور بالا دست طبقے کی سرپرستی حاصل ہے جب کہ نہ تو اردو کو وہ سرپرستی حاصل ہے اور نہ ہی دوسری قومی زبانوں کو جب تک یہ صورتِ حال رہے گی ہم بطور قوم ترقی نہیں کر سکیں گے۔

اسی بارے میں