’ہندی سنیما کی اپیل بین الاقوامی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ pr
Image caption یہ جو سوچ ہے کہ بھارتی فلموں کی دنیا میں بہت اہمیت ہے، یہ سب ایک غلط فہمی ہے:شیکھر کپور

معروف فلمی ہدایتکار شیکھر کپور کا کہنا ہے کہ ہندی فلمسازوں کو ایسی فلمیں بنانی چاہیئیں جنہیں بین الاقوامی اسٹیج پر دکھایا جا سکے۔

گوا میں جاری بیالیسویں بین الاقوامی فلمی میلے کے دوران’معصوم‘ ، ’مسٹر انڈیا‘ ، ’بینڈٹ كوئين‘ اور ’الزبتھ‘ جیسی فلموں کے ہدایت کار شیکھر کپور نے بی بی سی ہندی سے خصوصی بات چیت میں کہا کہ ’ہندی سنیما کی اپیل بین الاقوامی نہیں ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’صرف دبنگ اور را ون جیسی فلمیں ہی کافی نہیں ہیں۔ سنیما میں ایک نئی لہر آنی چاہیے اور ایسی فلمیں بننی چاہیئیں جنہیں جب دنیا دیکھے تو ہمارے سنیما کی تعریف کرے‘۔

شیکھر کپور نے کہا کہ ’وشال بھردواج اور انوراگ كشيپ جیسے فلمساز ایسی فلمیں بنا رہے ہیں لیکن ہمیں اور ایسے ہدایتکاروں کی ضرورت ہے‘۔

تاہم شیکھر کپور نے فلمی میلے میں دکھائی جانے والی فلموں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، ’یہاں جو فلمی میلہ جاری ہے اس میں دکھائی جانے والی فلمیں کمال کی ہیں۔ اگر آج سے دس سال پہلے بھارت میں ایسی فلمیں بن رہی ہوتیں تو میں کبھی بھی مغرب کا رخ نہیں کرتا‘۔

شیکھر کہتے ہیں کہ اس فلمی میلے میں دکھائی جا رہی بھارتی فلموں کو غیر ملکی فلمساز بھی دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فرانس میں ہونے والے ’کانز فلم فیسٹیول‘ سے آنے والے کچھ لوگوں کو یہ فلمیں اتنی پسند آئی ہیں کہ وہ انہیں کانز میں دکھانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ فلمیں اس میلے میں ہونے والے مقابلے میں بھی جائیں۔

شیکھر کپور کا کہنا ہے کہ ’یہ جو سوچ ہے کہ بھارتی فلموں کی دنیا میں بہت اہمیت ہے، یہ سب ایک غلط فہمی ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہے ، ہم سے تو اچھی چین کی فلموں کی مارکیٹ ہے‘۔

’ہم اگر ایک سال میں چھ سو فلمیں بناتے ہیں تو ان میں سے ایک بھی فلم بین الاقوامی سطح پر نہیں چلتی۔اگر کوئی ہندی فلم اچھا کرتی بھی ہے تو وہ ’سلم ڈاگ ملينئیر‘ جیسی فلم ہوتی ہے جسے کوئی غیر ملکی ڈائریکٹر آ کر بناتا ہے اور وہ فلم دنیا بھر میں سپر ہٹ ہو جاتی ہے‘۔

شیکھر کہتے ہیں جہاں تک ہندی فلموں کی کمائی کا سوال ہے تو فلمساز چالیس سے پچاس ملین ڈالر کما کر خوش ہو جاتے ہیں جبکہ ’سلم ڈاگ ملينیئر‘ جیسی فلم چار سو ملین ڈالر تک کما لیتی ہیں۔

اسی بارے میں