فالٹ لائنز: 1971 کی کہانیاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ کتاب ان کہانیوں پر مشتمل ہے جو اس پاکستان کے بارے میں ہے جو اب نہیں رہا۔ 2008 میں شائع ہونے والی یہ انگریزی انتھالوجی پاکستان میں اب تک دستیاب نہیں۔

اب یہ تصور عام ہے کہ اب معلومات اور حقائق کو اس طرح چھپانا یا اوجھل رکھنا ممکن نہیں جیسے انٹرنیٹ کی آمد سے پہلے تھا۔ لیکن انسان انٹرنیٹ سے بہر طور عظیم ہے اور وہ ایسے ایسے طریقے نکال ہی لیتا ہے کہ اگر معلومات کو پوری طرح چھپانا ممکن نہ ہو تو ان کی پہنچ ممکن حد تک محدود سے محدود رہے۔

افسوس اس لیے ہوتا ہے کہ ایسی تمام کوششوں کا مقصد صرف ان دروغ گوئیوں کو چھپانا ہوتا ہے جنہیں استعمال کر کے لوگوں کو حقیقتوں کے غلط رخ دکھائے گئے اور انہیں غلط سوچ اور فیصلوں پر مجبور کیا گیا۔ اُن میں بے بنیاد نفرتیں پیدا کی گئیں اور ان کے پردے میں اپنی من مانیوں کی راہ ہموار کی گئی۔

فالٹ لائنز 1971 کے سانحے کے بارے میں لکھی جانے والی ان کہانیوں کا انتخاب ہے جس میں کہانی کاروں نے ان واقعات اور تجربات کو محفوظ کیا ہے جو ہم تک خبروں کے ذریعے بھی نہیں پہنچ پائے تھے۔

اس مجموعے میں ان لوگوں کی کہانیاں ہیں جو کسی نہ کسی حوالے سے اس پاکستان کے ہیں جو اب بنگلہ دیش اور پاکستان ہے لیکن اب امریکہ اور برطانیہ میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کہانیاں ان لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں جو ہندوستان میں رہتےہیں اور جنہوں نے ہندوستان کے دونوں جانب موجود جغرافیائی منطقوں میں رونما ہونے والے حالات کو نہ صرف دیکھا سنا ہے بلکہ جذبات اور محسوسات کی سطح پر ان کا تجربہ بھی کیا ہے۔ یوں بھی ہندوستان اس سارے سانحے کا ایک اہم کردار رہا۔

یہ کہانیاں صرف بنگلہ زبان یا اردو ہی میں نہیں لکھی گئیں بلکہ سندھی، پنجابی اور انگریزی کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی لکھی گئیں لیکن اس کے باوجود اس کے مرتبین نیاز زمان اور آصف فرخی کا کہنا ہے کہ یہ اس مجموعے میں اس حوالے سے لکھی جانے والی تمام کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ محض ان کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے۔

وہ تو کہتے ہیں کہ ’یہ ان بنگالیوں کی قدرے اشک شوئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جس نوع کی نسل کشی اور ریپ ہوئے اس کے بارے میں مغربی پاکستان نے خاموشی اختیار کی‘۔ لیکن شاید یہ بھی ان کی احتیاط پسندی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس مجموعے میں اس حوالے سے لکھی جانے والی تمام کہانیاں نہیں ہیں بلکہ یہ محض ان کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے: نیاز زمان

حقیقت تو یہ ہے کہ مغربی پاکستان نے اُس وقت بھی ایسی ہی مجرمانہ خاموشی اور چشم پوشی سے کام لیا جو اس وقت بلوچستان کے بارے میں موجود ہے۔ تب بھی اس خاموشی اور چپ کی ترغیب میں ذرائع ابلاغ نے اہم کردار ادا کیا تھا اور آج بھی صورت یہی ہے۔

ان کہانیوں پر جو اس انتخاب کے لیے منتخب کی گئی اشاعت کا سال نہیں ہے ورنہ یہ ضرور پتہ چل جاتا کہ خاموشیوں نے ٹوٹنے میں کتنا وقت لیا۔

اس مجوعے میں ان لوگوں کی کہانیاں بھی ہیں جنہوں نے ایک اہلکار کے طور پر تب کے مشرقی پاکستان کو ’سیدھا‘ کرنے کے لیے کی جانے والے آپریشن سرچ لائٹ میں براہ راست، اس کے ذیلی حصے کے طور پر یا سرکاری اہلکار کے طور پر حصہ لیا۔ تب جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس بارے میں انہوں نے جو چپ اختیار کی اس پر انہیں کن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے، میرے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے۔ مجھے تو ایسے لوگوں کے بارے میں سوچ کر ہی ایسی گھن آتی ہے کہ متلی ہونے لگتی ہے۔

لیکن وہ سب لوگ ہمیں میں سے تھے اور ہیں، ہمارے ہی بزرگ اور چاچے، مامے اور تائے وغیرہ، ہم ان کے کارناموں پر کیا بات کر سکتے ہیں اور کن الفاظ میں کر سکتے ہیں؟

اب تمام باتوں کے باوجود کہانیوں کا یہ انتخاب انتہائی اہم ہےاور یہ بارش کا وہ پہلا قطرہ ہے جو بہت دیر لگا دیتا ہے۔ لیکن یہاں یہ بات بتانا بہت ضروری ہے کہ یہ کتاب اب تک صرف بنگلہ دیش ہی میں شائع ہوئی ہے، اسے ڈھاکہ یونیوسٹی پریس نے چھاپا ہے اور اب تک اسے پاکستان میں پبلشر میسر نہیں آ سکا۔

کیوں؟

ممکن ہے کہ پبلشر یہ سوچتے ہوں کہ ان کہانیوں کہ پڑھنے والے یہاں نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے ان کے یہ رائے درست ہو لیکن اس کے علاوہ سماجی خوف بھی ایک وجہ ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یہ ان بنگالیوں کی قدرے اشک شوئی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت جس نوع کی نسل کشی اور ریپ ہوئے اس کے بارے میں مغربی پاکستان نے خاموشی اختیار کی: آصف فرخی

تھوڑا سا سچ سامنے آ جانے کا ڈر کیونکہ جو کہانیاں پاکستانی لکھنے والوں کی ہیں وہ سب کی سب یہاں کہیں نہ کہیں شائع ہو چکی ہیں۔ ڈر تو صرف ان کہانیوں سے ہو سکتا ہے جو پہلی بار یہاں کے پڑھنے والوں کے سامنے آئیں گی۔

بنگالی تو تب بھی اس علاقے میں بہت کم بولی اور سمجھی جاتی تھی جو اب پاکستان کہلاتا ہے اور اب تو یہاں عبرانی اور اس کی حیثیت میں کوئی زیادہ فرق نہیں۔

لیکن یہ کہانیاں انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ میں ترجمے پر بات کرنے کو پوزیشن میں نہیں ہوں کیونکہ مجھے بھی بنگالی نہیں آتی اور نہ ہی پنجابی، سندھی اور یہاں تک کہ اردو میں لکھی جانے والی وہ کہانیاں میرے سامنے ہیں جنہیں انگریزی میں منتقل کیا گیا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کے جن لوگوں نے انہیں انگریزی میں منتقل کیا ہے وہ اصل اور ترجمے کی زبانوں اور ان کی ثقافتوں کو خوب جانتے ہیں۔

یہ کتاب پاکستان میں ضرور دستیاب ہونی اور پڑھی جانی چاہیے تا کہ وہ لوگ بھی ان دنوں کے بارے میں کچھ جان سکیں جنہوں نے صرف تصویر کا محض ایک رخ دیکھا ہے۔

اسی بارے میں