نامور ادیب، صحافی کرسٹوفر انتقال کرگئے

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وینٹی فیئر نے ان کے انتقال کے اعلانیے کے ساتھ یہ شائع کیا کہ ’کرسٹفر ہچنز جیسا پھر کبھی کوئی دوبارہ نہیں آئے گا۔‘

برطانیہ میں پیدا ہونے والے ادیب، صحافی اور ادب نقاد کرسٹوفر ہچنز باسٹھ سال کی عمر میں امریکہ میں انتقال کرگئے ہیں۔

ان کی موت نمونیا کی وجہ سے امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک ہسپتال میں ہوئی جہاں وہ کینسر کے مرض میں مبتلا زیرِ علاج تھے۔

کرسٹوفر ہچنز سنہ انیس سو انچاس میں برطانوی شہر پورٹس متھ میں پیدا ہوئے اور انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ سنہ انیس سو ستر کی دہائی میں انھوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور انیس سو بانوے میں انھیں وینٹی فیئر نامی رسالے کا امدادی مدیر مقرر کیا گیا تھا۔

وینٹی فیئر نے ان کے انتقال پر شائع کیا کہ ’کرسٹوفر ہچنز جیسا پھر کبھی کوئی دوبارہ نہیں آئے گا‘۔

رسالے کے مدیر گریڈن کارٹر کے مطابق ’جنھوں نے کرسٹوفر کو پڑھا ہے ان کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ انھیں جانتے ہیں اور جو کرسٹوفر کو جانتے تھے وہ نہایت ہی خوش نصیب لوگ ہیں۔‘

واضح رہے کہ سنہ دو ہزار دس میں کرسٹوفر ہچنز نے وینٹی فیئر کی ایک کالم میں لکھا تھا کہ انھیں ’جد و جہد کے نقوش سے محبت ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری خواہش ہے کہ مجھے درد اور تکلیف کا سامنا کسی خاص مقصد کے لیے کرنا ہوتا یا ایک جان لیوہ بیماری کے معمولی مریض ہونے کے بجائے میری زندگی کو خطرہ اوروں کو فائدہ پہنچانے کی وجہ سے ہوتا۔