نظم نو2: مجید امجد پر خاص حصے کے ساتھ

نظم نو شمارہ 2 تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: نظم نو (کتابی سلسلہ) شمارہ 2

ترتیب و تالیف: علی ساحل

صفحات: 255

قیمت: 200 روپے

ناشر: نظم نو پبلی کیشنز، ای2/005 فلیٹ9، سیکٹر 11/A نارتھ کراچی۔

’نظمِ نو‘ کا یہ شمارہ اس لیے خاص ہے کہ اس میں ایک حصہ مجید امجد کے لیے مخصوص ہے۔ جب سے مجید امجد کا انتقال ہوا ہے تب سے خاص طور پر پاکستان میں اردو نقاد مجید امجد حوالے سے ایک طرح کے ندامتی احساس کے شکار دکھائی دیتے ہیں اور مجید امجد کو انصاف دینے کی بجائے انصاف دلانے پر زیادہ اصرار کرتے ہیں اور خدشہ کہ کہیں یہ رویہ ایک اور ناانصافی کا سبب نہ بن جائے۔

اس شمارے کے اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’ہم بات کرتے ہں مجید امجد کی جسے زندگی بھر نظر انداز کیا گیا اور مرنے بعد مردہ پرستی کی رسم نبھائی گئی‘۔

یہ بات حقائق کے منافی ہے۔ دنیا میں بہت سے ادیب تنہائی اور گوشہ نشینی کو زیادہ بہتر تصور کرتے ہیں اور چند ایک ناگزیر لوگوں کے علاوہ کسی سے ملنا پسند نہیں کرتے لیکن لکھتے اور شائع ہوتے رہتے ہیں لیکن مجید امجد کے بارے میں دستیاب معلومات کے مطابق ان کی گوشہ نشینی کو اس نوع کی تنہائی یا مردم بے زاری قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پھر جو کچھ اب تک ہمارے سامنے آیا ہے وہ ان کے ملنے والوں ہی کے ذریعے سامنے آیا ہے۔ ان کا پہلا تعارف ’شبِ رفتہ‘ تھا جسے اس وقت کے معروف اور معتبر نیا ادارہ نے شائع کیا تھا اور تب بھی ان کی نظمیں ’سویرا‘ میں شائع ہو رہی تھیں جو اس وقت کا سب سے اہم ترین ادبی رسالہ تھا یا اہم ترین میں سے ایک۔

اس کے بعد انہوں نے شائع ہونے یا انتہائی کم شائع ہونے کو کیوں منتخب کیا اس بارے میں اب تک ان کے قریب رہنے والوں نے کبھی بات نہیں کی لیکن اس بنا پر یہ کہنا مناسب نہیں ہو گا کہ انہیں نظر انداز کیا گیا۔

اس شمارے میں ان پر تین مضامین ہیں جو محمد علی صدیقی، ڈاکٹر ناصر عباس نیّر اور محمد افتخار شفیع نے لکھے ہیں۔ افتخار شفیع کا مضون اس اعتبار سے اہم ہے کہ یہ ان کے غیر مطبوعہ سہروں کے بارے میں ہے۔ گوشہ نشینی اور سہروں کو ایک ساتھ کیسے رکھا جا سکتا ہے اس پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

لیکن ناصر عباس کا مضمون ایک اہم تحریر ہے اور مجید امجد پر بہت سے اعتراضات کی جوابدہی کے ساتھ ساتھ ان کے تصورِ انسان، تصورِ وقت، تصورِ تاریخ اور تصورِ طبقات پر بات کرتے ہیں اور اسی نوع کی تنقید مجید امجد کو درکار ہے جو انہیں اور انداز سے دیکھنے اور سمجھنے کا رستہ دکھائے۔

اس شمارہ میں مجید امجد کی چار نظمیں ہیں جو سب معروف ہیں۔ اگر ان کا کلام زیادہ ہوتا تو بہت ہی اچھا ہوتا، خاص طور پر وہ تمام نظمیں ضرور ہوتیں جن کا حوالہ ڈاکٹر ناصر عباس نے دیا ہے۔ مجید امجد کا ایک انتخاب، ایک سخت انتخاب کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔

اس گوشے کے علاوہ اس شمارے میں نطم کے نام سے قائم کیے جانے والے حصے میں احمد صغیر صدیقی، آفتاب اقبال شمیم، اقتدار جاوید، ابرار احمد، صبا اکرام، وحد احمد، صغرا صدف، خالد علیم، فاضل جمیلی، انور جاوید ہاشمی، حمیدہ شاہین، ادریس بابر، عذرا نقوی، علی کمیل قزلباش، علی یاسر، معصومہ شیرازی، دانیال طراز، ارشد عباس ذکی، عزیز نبیل، حسنین اصغرتبسم، عاطف وحید یاسر، اور علی زیرک کی نظمیں ہیں جب کہ ’نظم نو‘ کے حصے میں افضال احمد سید، عذرا عباس، احمد صغیر صدیقی، سلیم کوثر، ابرار احمد، تنویر انجم، نعمان شوق، رفیق سیل، سحر علی، نوید صادق، احمد آزاد، زاہد امروز، قیصر منور، آسناتھ کنول اور وقاص عزیز کی پروز پوئمز ہیں۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ شاعری کے ان دونوں حصوں میں مرتب کی رواداری نے زیادہ کام دکھایا ہے شاعری معنی کی سطح پر جو بھی ہو اسے پہلے شاعری لگنا چاہیے لیکن بہت سی نظمیں معنی کی منطقی تکمیل سے الجھی اور جمال سے تہی دکھائی دیتی ہیں۔

دو تین شاعروں کو چھوڑ دیا جائے تو تراجم کا حصہ ’تخلیقی‘ حصے سے خاصا بہتر محسوس ہوتا ہے۔

اس میں 1979 کے نوبل انعام یافتہ یونانی شاعر اوڈیسیس الائیٹس، پولش شاعر آدم زاگایسکی، اسرائیلی شاعر یہودا امیجائی، ولیم شکسپئر، قدیم چینی شاعر لاؤصو، ہندی شاعر بھگوت راوت، نارویجن کرٹ نارویسن، اویستائن ونگورش وُلف، جان ایرک وُلد اور ناروے ہی کے ایک نامعلوم شاعر کی شاعری ہے۔

ایک حصہ انتخاب کا ہے جو فیض احمد فیض، منیر نیازی، سارا شگفتہ اور افتخار عارف کے کلام پر مبنی ہے۔

مطالعہ کے عنوان کے قائم کیے جانے والے حصے میں منشا یاد کے بارے میں امجد اسلام امجد کا مضمون ہے اور تسلیم الہی زلفی کی منظوم شاعری کے بارے میں ستیہ پال آنند کا۔

تعارف کے عنوان سے قائم حصے میں احمد آزاد ہیں۔ احمد آزاد نوجوان شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کا ایک مجموعہ ’تیز بارش کے دوران‘ کے نام سے 2008 میں شائع ہو چکا ہے۔ اس شمارے کی ان کی ایک نظم ’پتھر کے آدمی‘ کے دو تجزیے شایع کیے گئے ہیں جو مشرف عالم ذوقی اور ضیاالمصطفیٰ ترک نے کیے ہیں۔

اس شمارے کو پڑھنے والوں کو اس نظم اور اس کے تجزیوں پر ضرور بات کرنی چاہیے تا کہ یہ سلسلہ ایک مکالمے کی شکل اختیار کر سکے۔

شمارے کی ابتدا جس مضمون سے کی گئی ہے وہ کسی اعتبار سے قابلِ ذکر نہیں ہے۔

مجموعی طور پر نظمِ نو کا یہ شمارہ غیر معمولی نہ ہوتے ہوئے بھی اتنا مواد فراہم کرتا ہے کہ شاعری پڑھنے والے آئندہ شمارے کا انتظار کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں