’جادُو کو بھی فن قرار دیا جائے‘

جادُو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جتندر بھُوپال کا کہنا ہے کہ جادُو ایک فن ہے جیسے کہ تھیٹرز میں اداکاری اور رقص ہوتا ہے۔

بھارتی شہر پونے سے تعلق رکھنے والے جادُوگر باپ بیٹے نے ممبئی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ ’جادُو‘ کو بھی فن کی ایک قسم قرار دیا جائے۔

وجے اور جتندر بھوپالی نے مہاراشٹر کی حکومت کی جانب سے قابلِ اطمینان جواب نہ ملنے پر ہائی کورٹ سے رابطہ کیا ہے۔

ان دونوں کا کہنا ہے کہ جادُو کو فن قرار دینے سے ریاست اس کے لیے فنڈ مقرر کرے گی اور اس سے متعلق تواہم پرستی ختم ہو جائے گی۔

ممبئی ہائی کورٹ اس مقدمے پر کہ آیا جادُو کو ایک فن قرار دیا جانا چاہئیے یا نہیں سماعت جنوری کے آخر میں شروع کرے گی۔

تینتیس سالہ جتندر بھُوپال کا کہنا ہے کہ ’جادُو ایک فن ہے جیسے کہ تھیٹروں میں اداکاری اور رقص ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سرکاری طور پر جادُو کو ایک فن قرار دینے سے نہ صرف مہاراشٹر کی حکومت اس کے فروغ کے لیے پالیسی بنائے گی اور مشکلات سے دوچار جادُوگروں کے لیے فنڈ قائم کیے جائیں گے بلکہ اس کی وجہ سے جادُو سے وابستہ تواہمات بھی ختم ہو جائیں گی۔

مہاراشٹر کی حکومت نے اس مقدمے کے بارے میں اب تک کوئی سرکاری بیان نہیں دیا ہے۔

جتندر بھوپال نے امریکہ سے انجینئیرنگ کی ڈگری حاصل کی ہے ان کا کہنا ہے کہ جادُو ایک قدیم بھارتی فن ہے اور اسے ریاست کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

’جادُو تو رامائن اور بھگود گیتا کے زمانے سے موجود ہے لیکن آج سے فن کی ایک قسم کے طور پر نہیں دیکھا جاتا۔‘

انہیں یہ شکوہ بھی ہے کہ غلط لوگ اس فن پر قبضہ کر کے اس کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

جتندر جو کہ ٹاٹا گروپ کے ساتھ منیجر کے طور پر کام کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ بھارت میں بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جادُو کی مدد سے کینسر اور دوسری بیماریوں کا علاج کیا جا سکتا ہے۔

’ ایک مرتبہ اسے فن جا درجہ مل گیا تو سکولوں اور کالجوں میں اسے کے بارے میں تعلیم دینے سے ہم ایسے غلط تصورات سے پیچھا چُھڑا لیں گے۔ ‘

اسی بارے میں