یاسر پیرزادہ: ذرا مزید ہٹ کے

یاسر پیرزادہ: ذرا مزید ہٹ کے تصویر کے کاپی رائٹ

کتاب: ذرا ہٹ کے – 2

مصنف: یاسر پیرزادہ

ناشر: جہانگیر بُکس اُردو بازار لاہور

صفحات: 288

قیمت: 495 روپے

زیرِ نظر کتاب یاسر پیر زادہ کے کالموں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ کالموں کے پہلے مجموعے کی اشاعت پر کالم نگار نے لکھا تھا کہ ’اگر آپ کسی بک سٹال پر کھڑے ہو کر اس کتاب کا مطالعہ کر رہے ہیں تو یقیناً آپ مجھ پر احسان کر رہے ہیں۔ اگر آپ محض وقت گزاری کے لیے کتابوں کا دکان میں گھومنے آئے ہیں تو میرے خیال میں آپ اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔۔۔ اگر آپ گھر سے جنتری یا قصّہ چہار درویش یا رضیہ کا کچن ٹائپ کی کوئی کتاب خریدنے نکلے تھے اور اِس کتاب کو دیکھ کر رُک گئے ہیں تو یقیناً واپسی پر آپ کے ایک ہاتھ میں دو کلو امرود کا لفافہ اور دوسرے ہاتھ میں’گھر بیٹھے لاکھوں کمائیے‘ کا پیپر بیک ایڈیشن ہوگا۔۔۔‘

اگر یہ پڑھ کر آپ کا دھیان پطرس بخاری کے معروف دیباچے کی طرف چلا جائے تو یہ عین فطری بات ہو گی۔ اگرچہ پطرس نے اپنے انتہائی مختصر بیان میں بات کو جہاں چھوڑا تھا، نوجوان یاسر پیرزادہ نے اسے وہاں سے آگے لے جانے کی کوشش کی ہے تاہم انتظار حسین کا خیال ہے کہ ایسی کوشش کرنا جیّد ادبی مزاح نگاروں سے پنجہ آزمائی کے مترادف ہوگا، چنانچہ یاسر پیرزادہ کو صحافتی مزاح کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے تاکہ پطرس بخاری، کرنل محمد خان اور مشتاق احمد یوسفی سے مقابلے کی نوبت ہی نہ آئے۔

نوجوان کالم نگار تو غالباً خطائے بزرگان گرفتن خطااست کا زیرِ لب وِرد کرتے ہوئے، انتظار حسین کے اس تبصرے پر خاموش رہا لیکن مُبصّر کا کوئی ہم عمر تو اُن سے پوچھ سکتا ہے کہ حضور عبدالمجید سالک، چراغ حسن حسرت اور بعد میں ابنِ انشاہ اور خود انتظار حسین کی اخباری تحریریں کیا دائرہ ادب سے خارج سمجھی جائیں گی؟

یاسر جو کچھ لکھتا ہے وہ ادب کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں، غالباً یہ اسکا دردِ سر ہی نہیں ہے۔ وہ اپنی بات کہنا جانتا ہے اور جہاں اسکے موضوعات میں بتدریج پختگی آرہی ہے وہیں اسکی زبان بھی ارتقاء کی منزلیں طے کر رہی ہے۔

کالموں کے اولین مجموعے’ذرا ہٹ کے‘ سے ایک مثال دیکھنے کے بعد آئیے دوسرے مجموعے سے اسکی نثر کا ایک نمونہ دیکھتے ہیں:

’میں محبت کے خلاف نہیں محبت میں ناکامی کے خلاف ہوں۔ محبوبہ کی شادی میں یہ سوچ کر شرکت کرنا کہ وہ جہاں رہے خوش رہے، ایک بے حد مخولیا تصور ہے۔ ہم محبوبہ کی شادی میں کرسیاں کیوں لگائیں، اُس سے شادی کیوں نہ کریں؟‘

پاکستان کے اردو اخبارات میں مجموعی طور پر کوئی ایک سو بیس کالم روزانہ چھپتے ہیں، اور بقول یاسر پیر زادہ’ہر کالم نگار یہ دعوٰی کرتا ہے کہ اس کا کالم حکومتی ایوان پہ لرزہ طاری کر دیتا ہے ( ایوان سے اُس کی مراد شاید’بابر ایوان‘ ہوتی ہے۔) اُس کے کالموں کی بنیاد پر ملک کی خارجہ پالیسی ترتیب دی جاتی ہے، صدر صاحب صبح سویرے اُٹھ کر پہلے اُس کا کالم پڑھتے ہیں، پھر اپنی سیاسی چالوں کا نقشہ تیار کرتے ہیں۔ آرمی چیف بھی انھی کالموں کو پڑھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ ایٹم بم کب اور کس ملک پر چلانا مفید ہوگا، اور میاں نواز شریف کے تو کُلچے اسی اخبار میں آتے ہیں جس میں اُن کے پسندیدہ کالم نگار چھپتے ہیں۔۔۔‘

یاسر پیرزادہ غالباً اُردو کے سب سے نو عمر کالم نگار ہیں اور چار پانچ برس کی مدت ہی میں انھوں نے اپنے فن میں دسترس حاصل کر لی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مہارت گھر بیٹھے حاصل نہیں ہوگئی بلکہ اس کے لیے وسیع مطالعہ، گہرا مشاہدہ اور پھر سب سے بڑھ کر ادائیگی کی مشق درکار تھی جو پتھر کو ہیرے میں تبدیل کرتی ہے۔

اپنے سینئر کالم نگارں کا مطالعہ انھوں نے جس گہرائی اور انہماک سے کیا ہے اس کا اندازہ دوسرے مجموعے کے دیباچے سے ہوتا ہے جس میں انھوں نے آج کے تمام اہم کالم نگاروں کے سٹائل کی کامیاب پیروڈی کی ہے

یاسر پیرزادہ نے کالم نگاری کا آغاز 2006 میں کیا تھا۔ زیرِ نظر مجموعے میں اُن کے وہ کالم شامل ہیں جو جنوری 2009 سے مارچ 2011 کے عرصے میں روزنامہ جنگ میں شائع ہوئے۔ اس دوران میں خود مصنف کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 150 خود کش حملے ہوئے جن میں ڈھائی ہزار سے زیادہ معصوم لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اسی عرصے میں امریکہ نے جو ڈرون حملے کیے ان میں گیارہ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت بے گناہ مردوں عورتوں اور بچوں کی تھی۔

بقول یاسر پیرزادہ جس ملک میں دہشت کا یہ تناسب ہو وہاں فکاہیہ کالموں کی کتاب مرتب کرنا ایسے ہی ہے جیسے بقول مشتاق یوسفی کوئی شخص سرنج میں پانی بھر کے آگ بجھانے کی کوشش کرے۔ لیکن میں کیا کروں، مجبور ہوں کہ حتی المقدور آگ ہی بجھا سکتا ہوں کسی خودکش دانشور کی طرح اس آگ کو بھڑکانے کا جواز فراہم نہیں کر سکتا۔

خوبصورت طباعت، دیدہ زیب ٹائیٹل اور مضبوط جلد بندی والی 288 صفحے کی یہ کتاب 495 روپے میں میسر ہے جو کہ کاغذ اور سامانِ طباعت کی گرانی کے اس دور میں غنیمت ہے۔

اسی بارے میں