دلیپ کمار کا مکان پاکستانی ثقافتی ورثہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت نے برصغیر کے عظیم فنکار دلیپ کمار کے پشاور میں واقع آْبائی مکان کو ثقافتی ورثہ قرار دیتے ہوئے اس کو خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر پرویز خان ثبت خیل نے بی بی سی کو بتایا کہ تقریباً تین ماہ قبل صوبائی وزیر ثقافت میاں افتخار حسین نے دلیپ کمار کی 89 سالگرہ کے موقع پر ان کے آبائی مکان کا دورہ کرکے اسے ثقافتی ورثہ قرار دینے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے دوسرے مرحلے میں پشاور میں واقع بھارتی فلمی صنعت کے ایک اور نامور اداکار راج کپور کے مکان کو بھی قومی ثقافتی ورثہ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قصہ خوانی بازار پشاور میں واقع دلیپ کمار کے مکان کو خریدنے کےلیے سمری وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو ارسال کردی گئی ہے اور ایک دو دنوں میں منظوری کے بعد مکان خرید لیا جائے گا۔

ان کے مطابق پہلے مکان کے مالک نے پانچ کروڑ روپے قیمت طلب کی تھی تاہم بعد میں مزاکرات کے بعد تین کروڑ روپے پر خریدنے کا فیصلہ ہوا۔

ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ پرویز خان نے مزید کہا کہ رقم کی ادائیگی کے بعد دلیپ کمار کی آبائی رہائش گاہ محمکہ ثقافت کے حوالے کردی جائیگی جبکہ ضروری مرمت کے بعد اسے جلد ہی عام لوگوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے میں راج کپور کے مکان کو بھی خریدا جائے گا اور اسے بھی محکمہ ثقافت کا حصہ قرار دیا جائے گا۔

گزشتہ سال دسمبر میں جب صوبائی حکومت نے دلیپ کمار کے مکان کو ثقافتی ورثہ قرار دینے کا اعلان کیا تو دلیپ کمار نے اپنے ٹویٹر پیغام میں اس اقدام کو سراہا اور اسے اپنے لئے ایک اعزاز قرار دیا۔

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں یہ بھی کہا ہے کہ اس آبائی مکان میں ان کا بچپن کیسا گزرا اور کون کون ان کے ساتھ وہاں رہا کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مکان کا نام ذہن میں آتے ہوئے اسے اپنے تمام رشتہ دار، والدین، چچا اور بالخصوص ماں کی یاد آتی ہے جو سارا دن باروچی خانے میں کام کرتی تھیں۔

دلیپ کمار تاریخی قصہ خوانی بازار میں گزرے ہوئے وقتوں کو یاد کر کے کہتے ہیں کہ انہوں نے کہانی نویسی کی ابتدائی تعلیم وہاں سے سیکھی جو بعد میں فلمی دنیا میں مکالمے لکھنے اور کہنے میں ان کے کام آئی۔

انہوں نے کہا کہ روزانہ قصہ خوانی بازار کے وسط میں شام کے وقت کوئی شخص آکر پرانے قصے سنایا کرتا تھا اور سب لوگ وہاں بیٹھ کر اسے غور سے سنا کرتے تھے۔ ان قصوں میں جنگوں اور بہادری کا خصوصی ذکر ہوتا تھا۔

خیال رہے کہ قصہ خوانی بازار میں واقع دلیپ کمار کا یہ آبائی مکان پانچ مرلے اور تین منزلوں پر مشتمل ہیں تاہم پرانا اور کچا ہونے کی وجہ سے یہ گھر انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔

اسی بارے میں