ایک اور بڑا آدمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سید مُطلبی فرید آبادی کی حیات و افکار پر مبنی میاں محمد اکرم کی تازہ کتاب ایک اہم حیثیت رکھتی ہے۔

کتاب: سید مُطلبی فرید آبادی

مرتب: میاں محمد اکرم

ناشر: نیا زمانہ 14 – بی ٹیمپل روڈ لاہور

صفحات: 186

قیمت: 300 روپے

پاکستان میں بائیں بازو کی جدو جہد کو باقاعدہ ریکارڈ پر لانے کا کام ہنوز تشنۂ تکمیل ہے۔ سن ستّر کے عشرے تک اُن افراد کی اکثریت زندہ تھی جنھوں نے تقسیم سے قبل کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا یا دیگر انقلابی گروہوں کے ذریعے آزادی و مسادات کے لیے جدو جہد کی تھی۔ اس کارواں کے آخری مسافر حمید اختر بھی کچھ عرصہ ہوا ہم سے رخصت ہوگئے۔

روزنامہ مشرق کے موجودہ نائب مدیر سعید احمد کے پاس ایرک سِپرین اور سی آر اسلم سمیت بائیں بازو کے کئی اہم لیڈروں کے مفصّل انٹرویوز موجود ہیں۔ اِن مرحوم لیڈروں کی گفتگو کو مقناطیسی فیتے سے کاغذ پر منتقل کرنا اور مطبوعہ شکل میں عام قاری تک پہنچانا ایک ایسا اہم فریضہ ہے جس میں مزید تاخیر ایک ناقابلِ تلافی نقصان کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔

بائیں بازو کی جدو جہد کا جو حصّہ طباعت کی منزل تک پہنچ سکا ہے اس میں سید مُطلبی فرید آبادی کی حیات و افکار پر مبنی میاں محمد اکرم کی تازہ کتاب ایک اہم حیثیت رکھتی ہے۔

سید مُطلبی نہ صرف ایک مارکسی دانش ور تھے بلکہ انھوں نے ایک ادیب، صحافی اور شاعر کے طور پر بھی اپنا مقام پیدا کیا تھا، اور عالمی اہمیت کی چند اہم دستاویزات کا اُردو مں ترجمہ کر کے انھیں برِصغیر میں متعارف کرایا تھا۔

سید صاحب نے اپنی نوجوانی کے ایام ہی میں انگریز حکومت کے خلاف مختلف تحریکوں میں حصّہ لینا شروع کر دیا تھا جس کی پاداش میں انھیں کئی بار جیل جانا پڑا۔

انھوں نے دیہی آبادی اور کاشتکاروں میں طبقاتی شعور جگانے کے لیے بہت سی نظمیں، ڈرامے اور منظوم ناٹک تحریر کئے جن میں کسان رُت اور پنہاری کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔

تقسیمِ ہند کے بعد سید صاحب پاکستان آگئے اور کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں میں ہمہ وقتی کارکن کے طور پر مصروف رہے۔ 1954 میں جب کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگی تو سید صاحب کو بھی دیگر اشتراکی رہنماؤں کے ہمراہ جیل بھیج دیا گیا۔ رہائی کے بعد وہ بائیں بازو کی مختلف تحریکوں کے لیے کام کرتے رہے۔

زیرِ نظر کتاب میں میاں محمد اکرم نے سید مُطلبی کے کام اور شخصیت پر حمید اختر، آئی اے رحمان، سید نصیر شاہ، راجہ ولایت، اسلم ملک، چوہدری فتح محمد اور حسن عسکری کے لکھے ہوئے غیر مطبوعہ مضامین بڑی محنت سے تلاش کر کے یکجا کر دیے ہیں۔

اِن کے علاوہ کتاب میں بائیں بازو کے معروف دانش وروں یعنی سید سجاد ظہیر، سی آر اسلم، عابد منٹو، عبدالرؤف ملک اور دیگر قلم کاروں کے مضامین بھی شامل ہیں جن میں سید مُطلبی کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

آئی اے رحمان اپنے مضمون میں لکھتے ہیں، ’ 1947 میں ملک کی تقسیم نے سید صاحب کی زندگی میں بڑی تبدیلی پیدا کر دی ان کی فیملی تو کسی نہ کسی طرح لاہور پہنچ گئی لیکن خود سید صاحب کچھ عرصہ ہندوستان ہی میں رہے کیونکہ کمیونسٹ پارٹی نے فساد زدہ علاقوں میں بے گناہ لوگوں کی زندگی اور ناموس کی حفاظت کے لیے ایک وسیع مہم کا آغاز کردیا تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کے کارکنوں نے ہزارہا افراد کو برباد ہونےسے بچا لیا۔ اس مہم میں سید صاحب نے اپنے روایتی جوش و خروش سے کام کیا، لیکن اُن کا مسلمان ہونا خطرے کو دعوت دینے کے مترادف تھا چنانچہ ادائیگیء فرض کی خاطر انھوں نے اپنی باوقار داڑھی کی قربانی دینے سے بھی گریز نہ کیا، لیکن ایک کہانی یہ بھی ہے کہ سید مُطلبی جیسے سکہّ بند کمیونسٹ اپنے آسانی سے شناخت کیے جانے والے روپ میں پاکستان آنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے‘۔

’جب تک برِصغیر میں آزادی کے متوالے زندہ ہیں وہ سید مُطلبی فرید آبادی کی آزادیء وطن کیلیے جدو جہد کو بھُلا نہ سکیں گے۔ نہ وہ افراد انھیں بھول سکیں گے جنھوں نے سید صاحب کے توسط سے اُصولی اور دیانت دارنہ سیاست کی راہوں پر چلنا سیکھا اور اپنے اصول کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دینے کا حوصلہ پیدا کیا‘۔

دانش وروں اور محنت کشوں سے خطاب کرتے ہوئے، سید صاحب سیدھےاور صاف انداز میں انھیں بغاوت پر اکساتے تھے کیونکہ اُن کے خیال میں جبر و استحصال کی زنجیریں توڑے بغیر انسانیت کی ترقی ناممکن تھی۔

کتاب کے آخری حصّے میں سید صاحب کی انقلابی شاعری کا ایک انتخاب پیش کیا گیا ہے۔ یہاں ایک گیت سے اقتباس نقل کیا جا رہا ہے۔

کسانو، تیشہ گرو، نقش سازو نادارو

ادیبوں، نُکتہ ورو، شاعرو کہ فن کارو

تمیزِ دوست کرو اور عدو کو للکارو

تمھیں جو روکے، اُٹھا لو، زمین پہ دے مارو

علم اُٹھا کے چلو اور قدم بڑھا کے چلو

ہمیشہ ظلم سہے، اب انھیں دبا کے چلو