’چارلی چپلن کمیونسٹ نہیں تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA Wire

برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو نے خاموش فلموں کے مشہور اداکار چارلي چپلن کے کمیونزم سے تعلق کے ثبوت جمع کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ اس کام میں ناکام رہی تھی۔

یہ بات اس تفتیش سے متعلق دستاویزات عام ہونے پر سامنے آئی ہے۔ ایم آئی فائیو نے یہ تفتیش امریکی ایف بی آئی کی درخواست پر کی تھی۔

ان تحقیقات کی فائل اب انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ایف بی آئی کے خیال میں چارلی چپلن کا اصل نام ازرائیل تھارنسٹائن تھا اور وہ ان کے بارے میں مزید معلومات کی خواہاں تھی۔

چارلی چپلن کو سنہ انیس سو باون میں اس وقت امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جب وہ برطانیہ میں ایک فلم کے پریمیئر میں شرکت کے بعد واپس جا رہے تھے۔ اس سے پہلے وہ تیس سال تک امریکہ میں ہی مقیم تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا جب ہالی وڈ سمیت ہر جگہ كميونسٹوں کو تلاش کیا جا رہا تھا۔

برطانیہ کے ’نیشنل آرکائیو‘ میں موجود فائل کے مطابق امریکی ایجنسی ایف بي آئي نے ایم آئی فائیو سے چارلي چپلن کے کمیونسٹ ہونے سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔

تاہم خفیہ ایجنسی کو اس سلسلے میں کچھ خاص حاصل نہیں ہوا تھا۔ ایم آئی فائیو کے ایک افسر نے فائل میں لکھا تھا کہ ’اگر وہ لوگ واقعی چپلن کے خلاف کیس گھڑنا چاہتے ہیں تو انہیں خود ہی پراودا (سوویت اخبار) پڑھنا چاہیے‘۔

اس افسر نے پراودا اخبار کے کئی پرانے شماروں کو كھنگالا تھا لیکن تمام کوششوں کے باوجود ایم آئی فائیو یہ پتہ لگانے میں ناکام رہی تھی کہ آخر چپلن پیدا کہاں ہوئے تھے۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چارلی چپلن سنہ 1889 میں لندن کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ لیکن برطانیہ میں ہونے والی تحقیقات میں نہ تو ان کا پیدائش کا سرٹیفیکٹ مل سکا اور نہ ہی ان کی جائے پیدائش کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کی جا سکیں۔