چین میں ڈریم ورکس کا پروڈکشن سٹوڈیو

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption ڈریم ورکس کی فلموں میں ’شریک‘ اور ’کنگفو پانڈا‘ شامل ہیں

مشہور امریکی فلم سٹوڈیو ڈریم ورکس چین کے شہر شنگھائی میں ایک پروڈکشن سٹوڈیو بنانے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ یہ سٹوڈیو چینی اینیمیشن اور ایکشن فلمیں بنائے گا۔

ڈریم ورکس کا کہنا ہے کہ وہ تین چینی میڈیا کمپنیوں ’چائنا میڈیا کیپیٹل، شنگھائی میڈیا گروپ اور شنگھائی الائنس انویسٹمنٹ‘ کے ساتھ مل کر یہ سٹوڈیو کھولے گا اور اس میں ان کی پینتالیس فیصد ملکیت ہوگی۔

انٹرٹینمنٹ صنعت کے ماہر مائیکل پیچر کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے دونوں فریقوں کو فائدہ پہنچے گا۔

اس نئے اشتراک کی کل مالیت تیتیس کروڑ ڈالر ہو گی جس میں نقد سرمایہ کاری اور انٹیلیکچوئل رائٹس شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ڈریم ورکس کی پیش کردہ فلموں میں ’شریک‘ اور ’کنگفو پانڈا‘ شامل ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ سٹوڈیو اس سال کے آخر تک کام کرنا شروع کر دے گا۔

یو ایس چائنا انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلیٹن ڈیوب نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈریم ورکس کو منافع بنانا ہے تو انہیں سوچ سمجھ کر اپنے منصوبے چننے ہوں گے کیونکہ چین میں بڑے بجٹ کی فلمیں کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کہ وجہ چین میں سینما کا ٹکٹ مہنگا ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈریم ورکس چین جانے والی واحد امریکی میڈیا کمپنی نہیں ہے اور سونی یا وارنر برادرز جیسے دیگر بڑے سٹوڈیو بھی چین میں سٹوڈیو کھولنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جو بائڈن نے کہا کہ چین نے امریکی فلموں کی درآمد بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اس اعلان سے امریکی فلمسازوں کی چین کے بارے میں پرانی شکایت دور ہو جائےگی۔ یہ اعلان اس وقت کیا گیا جب چینی نائب صدر شی جنپنگ کا چار روزہ امریکی دورہ اختتام کو پہنچ رہا ہے۔

اسی بارے میں