میں خود کو ڈیفائن نہیں کر سکتا: حامد سلیم

حامش سلم
Image caption میں نے غربت کی وہ تمام سطحیں دیکھی ہیں جو پاکستان میں موجود ہیں۔

سوال: تو آپ کی پہلی نظم یا غزل کب اور کہاں شایع ہوئی اور آپ نے کب کہی؟

ح س: والد کی صحبت کا یہ اثر ہوا اور میں اس کے لیے ان کا ممنون بھی ہوں کہ میں کئی سال تک لکھتا رہا اور وہ سب کا سب ضایع ہوا۔ اب ابھی میں اپنی کتاب کو دیکھتا ہوں تو مجھے بہت ساری چیزیں معیار سے پست دکھائی دیتی ہیں۔ اور میں سوچتا ہوں کہ کچھ نظموں کو نکال دوں، کچھ کے کچھ حصے کم کر دوں کیونکہ میں نے یہ کتاب جلد اس لیے چھپوا دی تھی کہ مجھے دُکھ تھا کہ اس معاشرے نے میری شاعری کی پذیرائی نہیں کی۔ تو میں یہ چاہتا تھا کہ یہ ریکارڈ پر آ جائے، میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ مٹ جائے حالانکہ مجھے علم ہے کہ ہر شے نے مٹ جانا ہے میرے سامنے ہیں مصر اور چین کی تہذیبیں ہیں ان تہذیبوں میں پتا نہیں کتنے اور کیسے بڑے بڑے شاعر، فلسفی اور فن کار ہوں گے جن کے بارے ہم کچھ نہیں جانتے۔ بے شک یہ حماقت ہے لیکن یہ انسانی حماقت ہے کہ انسان اپنا نشان چھوڑنے کی خواہش رکھتا ہے۔ تو میں نے ریکارڈ کے لیے سوچا کہ اس کو چھپوا ضرور دوں۔ تو جو میں نے پہلی غزل کہی وہ چھپی تو نہیں لیکن مجھے یاد ہے اور اس زمانے میں کیونکہ میر کو زیادہ پڑھ رہا تھا تو اس میں آپ کو ان کا اثر بھی صاف دکھائی دے گا۔

روز و شب انتظار ہے ہم کو

کس ستمگر سے پیار ہے ہم کو

تو اس زمانے میں بھائی کیونکہ جنگ اخبار میں کام کرتے تھے اس لیہ ہو سکتا ہے کہ جنگ اخبار ہی میں شایع ہوئی ہو۔ اُسی زمانے میں، میں نے گھونسلے سے چڑیا کے بچے کے گرنے پر ایک نظم لکھی تھی۔ میں نے چڑیا کے کئی بچوں کو گھونسلوں سے گرتے ہوئے دیکھا، انہیں واپس اٹھا کر گھونسلے میں رکھا بھی لیکن وہ پھر گر جاتے تھے۔ اس کا مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا۔ تو پھر میں نے اس پر ایک نظم لکھی تھی، جس کی پہلی لائین تھی:

کس کم سِنی میں تجھ سے چھوٹا ہے آشیانہ

اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ نظم میں نے چھپوائی تھی۔

سوال: یہ بتائیے کہ کیسے ہوتا ہے یہ سارا عمل، پہلے نظم کا کوئی خاکہ آتا ہے اور پھر نظم چلنے لگتی ہے، میرا مطلب ہے کہ کیسے ہوتا ہے یہ سارا عمل جسے تخلیقی عمل بھی کہا جاتا ہے؟

ح س: غزل میں تو یہ ہوتا ہے کہ ایک دو مصرے الہامی طور پر بھی آجاتے ہیں آپ الہامی کی جگہ کوئی اور لفظ بھی استعمال کر سکتے ہیں، یوں سمجھ لیں از خود بعص اوقات ایک مصرعہ ہی آتا ہے اور دوسرا نہیں آتا تو وہ لگانا پڑتا ہے، شاعر کو علم ہوتا ہے، اور اچھے پڑھنے والوں کو پتا چل جاتا ہے کتنے شعر آئے ہیں اور کتنے بنائے گئے ہیں۔ اور یہ سلسلہ بڑے شعرا کے ہاں بھی ہے، خود آنے والے مصرے الگ چمکتے ہوئے دکھائی دے جاتے ہیں۔ نظم کا عمل مختلف ہوتا ہے، دوسروں کا تو مجھے علم نہیں لیکن اپنے بارے میں، میں کہہ سکتا ہوں کہ جیسے ہی دو تین مصرے ہوتے ہیں، تو مجھے لگتا ہے کہ اچھا یہ نظم اس طرف چل پڑی ہے پھر میں بھی مصرے بنانے شروع کرتا ہوں، لیکن یوں بھی ہوتا ہے اور یہ اب ہونے لگا ہے کہ میرے ذہن میں ایک تصور یا آئیڈیا آتا ہے، لیکن بعض اوقات جو میں کچھ لمبی لمبی کیلکولیشن کر رہا ہوتا ہوں تو کئی آئیڈیاز آتے ہیں اور میں انہیں لکھ نہیں پاتا۔ کئی بار مجھے خیال آتا ہے کہ آئیڈیا لکھ لیا کروں اور میں نے ایسا کیا بھی لیکن پھر میں لکھ نہیں پایا۔ لیکن آئیڈیا اور موڈ ایک ساتھ ہوتے ہیں تو میں لکھ پاتا ہوں۔ پہلے میں کیا کرتا تھا اب مجھے یاد نہیں لیکن تب مجھے سائنس کا اتنا علم نہیں تھا، خیر سائنس کا علم تو مجھے اب بھی زیادہ نہیں، یہ علم تو صرف خدا کو ہے وہی سب سے بڑا سائنسداں ہے۔ میں تو خیر سائنسداں ہوں ہی نہیں لیکن میں بڑے سائنسدانوں کے بارے میں جانتا ہوں اور ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ وہ بھی زیادہ نہیں جانتے۔ لیکن ہمارا معاشرہ ایسا ہے جس میں دانشور نہیں صرف چالاک لوگ آگے آ سکتے ہیں۔ اور یہ ادب میں بھی ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی پڑھے نہ پڑھے میں لکھوں گا اور وہ لکھوں گا جو میں چاہوں گا، اسی طرح میں سائنس میں آیا ہوں تو مجھے پتا ہے کہ میں عالمی سطح کا سائنسداں نہیں ہوں لیکن میں اس راستے پر ہوں، میں شاعر نہ بن سکوں، یہ اور بات ہے۔ میں سائنسداں نہ بن سکوں یہ اور بات ہے لیکن میں چلوں گا اُسی راستے پر جو میرا ہے۔ میں اس منزل کی تلاش میں ہوں جو انکشاف کی منزل ہوتی ہے، میں کر سکوں گا یا نہیں لیکن میری جستجو یہی ہے۔

سوال: آپ کی باتوں سے مجھے یہ لگا ہے کہ آپ کی دو محبوبائیں ہیں ایک تو وہ جس کے لب و رخسار شاعری میں در آتے ہیں اور دوسری ہے کائنات تو کسی مرحلے پر اگر آپ کو انتخاب کرنا پڑا تو آپ کس محبوبہ کو ترجیح دیں گے؟

ح س: ابھی انٹرویو سے پہلے میں آپ سے بات کر رہا تھا کے جدید نظریے کے مطابق زمان و مکاں ایک ہی چیز ہیں اصل میں۔ اس طرح جیسے انرجی ماس، آئین سٹائن نے دو کام ایسے بڑے کیے جن کے بارے متں تصوف، مذاہب اور فلسفی بڑے عرصے سے سرگرداں تھے اور اس نے میتھیمیٹیکلی ثابت کر دیا کہ توانائی اور کمیت ایک ہی چیز ہیں اور اسی طرح ٹائم اور سپیس یا زمان و مکاں بھی ایک ہی چیز ہیں ہیں لیکن انہیں ایک کر کے دکھانا صرف میتھیمیٹیکلی ممکن ہے اور اس اکویشن میں اس مقام تک پہنچنے کا ایسا نشہ ہے کہ آپ شراب کو بھول جائیں گے۔ اب جو آپ نے مجبوباؤں کی بات کی ہے آپ نے، تو میں یہ کہوں گا کہ جس طرح توانائی اور کمیت ایک ہیں اور جیسے ٹائم اور سپیس ایک ہیں اسی طرح عشق ایک ہے، اس کی کیفیات ہیں اگر میں کسی وقت ایسی کیفیت میں ہوں کہ کسی کہ لب و رخسار اور زلفیں مجھے گھیر چکی ہیں تو اس وقت کائنات کی حقیقت چاہے جتنی بڑی وہ مجھے صفر لگے گی۔ مجھے چاہے کوئی کچھ کہے میں اس معاملے بالکل ایک جاہل جنونی عاشق کی طرح گلی کا اور صحرا کا آدمی ہوں۔ مجھے کوئی عقل وقل نہیں چاہیے لیکن اگر میں دوسری کیفیت میں ہوں تو ہو سکتا ہے کہ اس وقت عورت مجھے ایک عام چیز لگے۔ تو میں خود کو ڈیفائن نہیں کر سکتا۔

انٹرویو کے اس مرحلے ہم نے حامد سلیم سے نظم پڑھنے کی فرمائش کی اور انہوں نے اپنے مجموعے ‘سازِ عالم ساز’ کی پہلی نظم ‘آنکھوں کا وعدہ’ پڑھی۔

آپ بھی نظم میں موجود لنک پر کلک کر کے یہ نظم سُن سکتے ہیں۔

اسی بارے میں