میری جستجو انکشاف ہے: حامد سلیم

حامش سلم
Image caption میں نے غربت کی وہ تمام سطحیں دیکھی ہیں جو پاکستان میں موجود ہیں۔

حامد سلیم محض ایک شاعر نہیں ہیں، وہ ایک سائنسداں بھی اور پاکستان کے ایک اہم تحقیقاتی ادارے کے ذمہ دار بھی۔

ان کا کہنا ہے کہ شاعری ان کی وہ محبوبہ ہے جس کی زلف و لب و رخسار کا لگاؤ انھیں حاصل نہ ہوتا تو وہ اپنی دوسری محبوبہ سائنس کی طرف جانے کی بجائے کوچہ نوردی یا صحرا نوردی کر رہے ہوتے۔ آپ بھی ان کی شاعری اور اُن سے گفتگو پڑھیں۔

سوال: حامد سلیم آپ کا شکریہ کہ آپ نے بی بی سی اردو کے لیے وقت نکالا، ہمیں کچھ اپنے بچپن اور اس ماحول کے بارے میں بتائیں جس میں آپ نے آنکھ کھولی اور پرورش پائی؟

حامد سلیم: میں نے ایک ایسے عام سے گھرانے میں پرورش پائی جو امرتسر سے ہجرت کر کے آیا تھا۔ ہمارے خاندان کا بڑا حصہ لاہور میں اور ایک حصہ پنڈی گھیپ، پھر حسن ابدال اور پھر پنڈی میں آبسا۔ میں نے غربت کی وہ تمام سطحیں دیکھی ہیں جو پاکستان میں موجود ہیں۔ میں پانچ جون 1954 کو پیدا ہوا اور پہلے ایک عام سے پرائمری سکول سے پرائمری اور ڈی اے وی کالج روڈ پر واقع سکول سے، جو گورڈن کالج کے پاس ہے، میٹرک کیا۔ میرے والد کا نام اسلم سلیم تھا، وہ شعر مزاج اور درویش منش آدمی تھے، انہیں گھر سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہوتی تھی۔ زیادہ تر باہر ہی رہتے، گھر میں بھی ہوتے تو پڑھنے مصروف رہتے۔ وہ علم نجوم سے دلچسپی رکھتے تھے۔ ان کے دوستوں میں سیف الدین سیف، ظہیر کاشمیری اور اے حمید وغیرہ شامل تھے۔ میں بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، ہماری والدہ ہماری تعلیم پر بہت توجہ دیتی تھیں، اگرچہ انہیں شاعری وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن جب میں نویں میں پہنچا تو انھوں نے ہمارے والد سے کہا ’منڈے نوں کوئی نظم، شظم، شعر وشاعری پڑھا دیا کرو۔‘ تب نویں دسویں کے لیے اردو کی کتاب میں پہلی غزل ہی میر تقی میر کی تھی۔ اس کا مطلع تھا:

فقیرانہ آئے، صدا کر چلے

میاں!خوش رہو، ہم دعاکرچلے

اسے آپ میری خوش قسمتی یا بد قسمتی سمجھیں، میں تو اسے بد قسمتی ہی سمجھتا ہوں کے انہیں دنوں میں عشق کے چکر میں بہت بری طرح پھنس چکا تھا۔ ’اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے‘ لیکن یہ بات میں والد سے نہیں کر سکتا تھا۔

حامد سلیم سے گفتگو سنیں

‘سازِ عالم ساز’ کی پہلی نظم ‘آنکھوں کا وعدہ’

جب انھوں نے میر کے شعر کی تشریح کی اور دیکھا کہ میں اس میں گُم ہو گیا ہوں تو وہ یہ سمجھے کہ مجھے اللہ نے بہت ذوق عطا کیا ہے حلانکہ میں تو اور ہی کیفیت میں تھا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ والد صاحب سے میرا تعلق اور تمام بہن بھائیوں سے ہٹ کا انتہائی دوستانہ ہو گیا۔ اسی عرصے میں، میں نے میٹرک کیا، کالج پہنچا اور انٹر کے پہلے سال میں فزکس میں میرے 75 میں سے 71 نمبر آئے اور پھر پاؤں ایسا پھسلا کہ سیکنڈ ایئر میں دو سو میں سے 72 نمبر آئے، اور میں نے طے کیا کہ اب سائنس نہیں پڑھوں گا۔ اس لیے میں نے بی اے میں داخلہ لے لیا۔ میرے نمبر کم تھے لیکن اتنے بھی کم نہیں تھے کہ میرا داخلہ سائنس میں نہ ہو سکتا۔ بی ایس سی کے نتائج آئے تو پھر میری فرسٹ ڈویژن ہے۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ میں پڑھنے کے لیے لاہور جا سکتا اس لیے میں نے قائد اعظم یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ایک اخبار ‘نیو ٹائمز’ میں سب ایڈیٹر کی نوکری کر لی۔ میں نے یونیورسٹی فزکس کی بجائے میتھمیٹکس لیا اس لیے کہ فزکس میں پریکٹیکل کرنے پڑتے تھے اور مجھے رات کو ڈیوٹی پر بھی جانا ہوتا تھا۔ اسی دوران اٹامک انرجی کمیشن کے ایک ادارے نے جو نیوکلیئر فزکس میں ایم ایس سی کراتا تھا اشتہار دیا۔ وہ اس کے ساتھ بارہ سو روپے تنخواہ بھی دیتے تھے، میں وہاں منتخب ہو گیا اور یہی میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ تھا۔ ایک ٹرننگ پوائنٹ قائد اعظم یونیورسٹی میں جانا تھا جہاں مجھے پہلی بار یہ احساس ہوا کہ یہ عشق کے گرداب سے نکلو تو یہ دنیا بہت وسیع ہے اور ایک لڑکی کے رومانس میں رہنے سے بہتر ہے کہ میں چاند ستاروں کے رومانس میں رہوں۔ اگرچہ وہ درد تو نہیں گیا لیکن ان کی شکل ایسی بدلی کہ اب مجھے پتہ ہی نہیں چلتا کہ میں کائنات کے نشے میں ہوں یا عشق کے نشے میں۔

سوال: یہ تو آپ سائنس کی طرف آ گئے، شاعری رہ گئی۔ یہ بتائیں کہ شاعری کیسے شروع ہوئی؟ آپ شروع میں کس کس سے متاثر ہوئے اور شعر کہنے کی صورت گری کیسے ہوئی؟

ح س: میں نے آپ کو بتایا ہے کہ میر، غالب اور دوسرے شعرا کی شاعری کے لیے میرا والد صاحب سے ایک خاص تعلق بن گیا اور میں نے شاعری پڑھنی اور کرنی بھی شروع کر دی لیکن والد صاحب کو دکھاتا نہیں تھا۔ اسی دوران میں نے ایک دو بار غزلیں والدہ کے ذریعے والد صاحب کو دکھائیں۔ اس کے بعد مجھے یاد ہے کہ میں نے انھیں دو ایک بار شعر سنائے جس پر انھوں نے کہا کہ ’سنو! پڑھائی بے شک چھوڑ دینا شعر کہنا نہ چھوڑنا، تم شعر کہنے کے لیے پیدا ہوئے ہو۔‘ اس کے علاوے انہوں نے یہ بھی کہا کہ خدا نے تمہیں سونا دیا ہے اسے مٹی میں مت ملانا اور کبھی کسی کے کہنے پر مت چلنا جو تمھاری طبیعت میں آئے وہ کرنا، صرف وہ لکھنا جو تمھیں پسند آئے، ان کا کہنا تھا کہ مجھے وہ موزونیت اور روانی حاصل ہے جو پیدائشی ہوتی ہے۔ مجھے اکثر کہا جاتا ہے کہ میرا ڈکشن کلاسیکل ہے تو میں ۔آپ کو بتاتا ہوں ایسا کیوں ہے۔ جب میں والد سے شاعری پر بات کرنے لگا تو وہ میر، غالب اور اقبال پر بات کرتے ہوئے فارسی اور کبھی کبھی عربی کے حوالے، تشبیہیں اور استعارے بھی بیان میں لاتے، انھیں عربی تو زیادہ نہیں آتی تھی لیکن فارسی پر خوب دسترس تھی۔ اس کے علاوہ انھیں تصوف سے بھی گہری دلچسپی تھی۔ تو یہ سب بھی مجھے والد سے ملا اور دوسری طرف سائنس نے مجھے جدید مغربی تصورات اور نظریات سے روشاناس کرایا۔ تو اس طرح مجھے علم ہوا کہ حیات و کائنات کا ایک حوالہ تصوف اور دین ہے اور دوسرا حوالہ جو خارجی ہے جو سائنس کا ہے۔ تو ان کے امتزاج سے مجھے حیرتیں، کیفیات اور بن پیے حاصل ہونے والا ایک نشہ حاصل ہوا۔ اسی دوران میں نے کچھ شعر ایسے بھی کہے جن کے نتیجے میں والد صاحب کو میری شاعری سے دلچسپی ہونے لگی۔ تو اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ میری شعری صلاحیت میں والد سے حاصل ہونے والی تربیت کا ہی عمل دخل ہے۔ ایک اور بات یہ ہے کہ میں دو کیفیات میں شعر لکھتا ہوں، اور جب لکھتا ہوں تو بے بس ہو کر شعر لکھتا ہوں۔ آورد کا عمل لکھنا شروع کرنے کے بعد ہوتا ہے۔ یا تو میں نسائی حسن سے متاثر ہو کر لکھتا ہوں یا مجھے یہ سوال اکساتا ہے کہ کائنات کیا ہے اور میں کیا ہوں اور میرا اور اس کائنات کا تعلق کیا ہے اور یہ اس حد تک ہے کہ اگر میں نے اِن دکھوں اور تکلیفوں کا اظہار شاعری میں نہ کیا ہوتا تو میرا کیتھارسس نہ ہوتا اور میں شاید سڑکوں پر روتا پھرتا۔ اس میں کبھی مجھے انتہائی ڈپریشن بھی ہوتا ہے کہ یہ کائنات، جس کی نہ ابتدا معلوم ہے اور نہ انتہا، اس قدر مختصر اور اس قدر وسیع، اس قدر بے معنی اور اس قدر پُر معنی کائنات جس کی حقیقتیں کچھ پتا نہیں چلتیں کہ ہیں کیا، قوانینِ فطرت کیا ہیں، زندگی کیا ہے، اس کے سوال کیا ہیں، ہم کیوں پیدا ہو گئے ہیں، وہ جو ہے نا: کچھ نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ یہ تصور کرنا جیسا کہ غالب کو بھی یہ مرحلہ پیش آیا تھا کہ کچھ نہ ہوتا تو کیا ہوتا تو اتنا بڑا دُکھ، جس کا تصور لانا بھی مشکل ہے، کہ وقت نہ ہوتا، سپیس نہ ہوتی، نتھنگنیس، اس کا تصور ہم نہیں کر سکتے، اور پھر ہونا کیا ہے، وجود کیا ہے، اور پھر زندگی کیا ہے؟ یہ سارے طلسمات کیا ہیں اور یہ سوال کہ میں زندہ کیوں ہوں؟ اگر میری طبیعت رومانی نہ ہوتی اور زلف و رخسار مجھے نہ کھینچتے، بعض اوقات دوست مجھے کہتے بھی ہیں کہ میں شروع تو کسی فلسفیانہ پہلو یا نقطے سے کرتا ہوں اور پھر زلف و رخسار پر آ جاتا ہوں اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں شاید جی ہی نہیں پاتا۔

مزید پڑھنے کے لیے کِلک کیجیے

اسی بارے میں