ہندوستانی فلم کے سو سال

انڈین سینما تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس سال ہندوستانی سینما کے سو سال پورے ہو رہے ہیں۔

دادا صاحب پھالکے نے جب 1913 میں خامو‎ش فلم راجہ ہریش چندر ریلیز کی تھی تو انہیں یہ گمان بھی نہ ہوگا کہ وہ آنے والے سو سالوں کے لیے کروڑوں لوگوں کی دلچسپی کا سامان کر رہے ہیں۔

دہلی میں جاری بیسویں عالمی کتاب میلے کی تھیم ’انڈین سینما کے سو سال‘ ہیں اور اس موقع پر وہاں ہندوستانی سینما کے بارے میں ہزاروں کتابیں نظر آ رہی ہیں۔

اس تھیم پویلین کے انچارج اور نیشنل بک ٹرسٹ کے انگریزی کے ایڈیٹر کمار وکرم کا کہنا ہے کہ ہم نے اس تھیم کا انتخاب اس لیے کیا ہے کہ کتابوں اور سینما کا چولی دامن کا ساتھ رہا ہے۔

انھوں نے ایک خاص نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ یہ بتایا کہ اس پویلین میں جتنی بھی تصویریں لگی ہیں ان میں کتاب بھی ہے، خواہ وہ مقبول فداحسین کے ذریعہ بنائی گئی مشہور زمانہ اداکار دلیپ کمار کی پینٹنگ ہی کیوں نہ ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جاوید اختر اور امول پالیکر نے اس موقعے سے دو کتابوں کا اجراء کیا۔

کمار وکرم نے یہ بھی نکتہ پیش کیا کہ جسے ہم اصلی سینما دیکھنے والا کہتے ہیں ان میں سے ہی بیشتر لوگ ہماری کتابوں کے پڑھنے والے بھی ہوتے ہیں۔

اگر ہندوستانی سینما کی سو سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جاۓ تو اس میں بے شمار رنگ نظر آتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے تو پردۂ سیمیں پر زبردست انقلاب آیا اور1931 میں پہلی گویا فلم ’عالم آراء‘ کی آمد نے انقلاب برپا کر دیا۔

عالمی کتاب میلے میں اردو زبان میں شائع ہونے والی دو کتابوں ’جوہرِ اداکاری‘ اور ’اردو اور بالی وڈ‘ کی رونمائی کرتے ہوئے مشہور نغمہ نگار جاوید اختر نے کہا کہ ’ پہلی بولتی فلم عالم آراء سے لے کر آج تک ہندوستانی فلموں میں اردو زبان نے رنگ بھرا ہے‘۔

انھوں نے کہا ’اردو کے ساتھ ایک مسئلہ ہے کہ جب تک وہ آپ کی سمجھ میں آتی ہے آپ اسے ہندی کہتے ہیں اور جب آپ کی سمجھ میں نہیں آتی تو آپ اسے اردو کہہ دیتے ہیں‘۔

شروع شروع میں سینما کا موضوع اساطیر اور لیجنڈ سے آتا رہا۔ گاندھی جی کی تحریک کے ساتھ سماجی موضوعات پر فلمیں بنیں۔ اس کے بعد کی دہائیوں میں عالمی جنگ اور ‏سیاسی اتھل پتھل کا فلموں پر اثر رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دلیپ کمار اور نرگس کی فلم جوگن میں نرگس کے ہاتھ میں کتاب دیکھی جا سکتی ہے

اردو کے شاعر اور ادیب زبیر رضوی نے فلموں کے ادب پر ا‎‎ثرات کا جائزہ لیا اور کہا کہ فلم اور ادب میں دو طرفہ لین دین ہے اگرشاہکار ادب پر فلمیں مبنی ہوتی ہیں تو ادب کی تخلیق بھی فلموں سے متاثر ہوتی ہے۔

پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں کو ہندوستانی سینما کے عہد زریں کے طور پر دیکھا جاتا ہے کیوں کہ اس دور نے جتنے بڑے اداکار اور اسی قدر بہترین فلمیں، نغمے اور موسیقی بھی سامنے آئی۔

اگر ایک جانب دلیپ کمار، راج کپور، دیوآنند، راجکمار، گرودت اور پران جیسے اداکار تھہے وہیں میناکماری، مدھو بالہ، نرگس، وحیدہ رحمن جیسی اداکارہ تھیں۔

موسیقاروں کی تو ایک لمبی قطار تھی جن میں نوشاد، خیام، او پی نیر، شنکر جے کشن، سلیل چودھری، ایس ڈی برمن شامل تھے۔ آواز کی دنیا لتا منگیشکر، ثریا، آشا بھونسلے، محمد رفیع، تلعت محمود، کشور کمار اور مکیش کے سروں سے گونج رہی تھی۔ انھی دنوں میں مغل اعظم، آن، صاحب بی بی اور ‏غلام، مدر انڈیا، آوارہ، برسات، شری چارسو بیس، پاکیزہ جیسی صدابہار فلمیں بنیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مینا کماری کو فلم پاکیزہ میں خط پڑھتے ہوۓ دیکھا جا سکتاہے۔

ستر کی دہائی میں ہلکی پھلکی فلموں’گول مال‘ اور ’باتوں باتوں میں‘ کے اداکار امول پالیکرنے کہا کہ میں ہندوستان کے اس علاقے (مہاراشٹر) سے تعلق رکھتا ہوں جہاں لوگوں کو جتنا سینما کا شوق ہے اتنا ہی پڑھنے میں بھی۔

اس پروگرام میں شامل ایک فلم بین خالد لطیف نے کہا کہ ہندوستانی فلموں نے جہاں ہمیں انٹرٹینمنٹ فراہم کیا وہیں ہندوستانی ریل یا ڈاک کی طرح اس نے سارے ہندوستانیوں کو جوڑنے کا کام نہ صرف ہندوستان میں کیا ہے بلکہ بیرون ملک میں بھی ہندوستانیوں کو اپنی تہذیب سے جو‌‌ڑے رکھاہے جو کہ اپنے آپ میں بڑا کار نامہ ہے۔

امول پالیکر نے کہا کہ ہندوستانی فلم صرف ممبئی میں ہی نہیں بنتی بلکہ اس کے کئی اور بھی بڑے مراکز جیسے مدراس اور کولکتہ رہے ہیں جہاں علاقائی زبانوں کی بڑی فلمیں بنی ہیں اور بن رہی ہیں۔

اس موقعہ سے این بی ٹی نے فلموں پر مبنی کتابوں کی ایک فہرست بھی شائع کی ہے جس میں مختلف زبانوں میں فلم کے تعلق سے شائع ہونے والی کتابیں شامل ہیں۔

اسی بارے میں