آٹھ نو تک میں بالغ ہو گیا اور بگڑ گیا: خالد جاوید

خالد جاوید
Image caption میری ساری تعلیم بریلی میں ہوئی، وہیں میں نے فلسفے کی تدریس شروع کی۔

سوال: خالد جاوید صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے بی بی سی کے وقت نکالا، آپ کا آنا بھی اچھا ہے کہ آپ ہندوستان سے تشریف لائے ہیں، مجھے امید ہے کہ ہم آپ سے کچھ ایسی باتیں ضرور سنیں گے، جو نہ صرف اردو ادب کی دنیا کے لیے دلچسپی کا باعث ہوں گی بل کہ ہمارے بی بی سی کے تمام سننے اور پڑھنے والوں کے لیے بھی دلچسپی کا باعث ہوں گی۔ تو سب سے پہلے تو آپ ہمیں اپنے بارے بالکل بنیادی قسم کی باتیں بتائیں، آپ کا بچپن، ابتدا اور دوسری باتیں تا کہ انہیں خود مصنف کی اپنی زبان سے سامنے آنے کی سند حاصل ہو جائے۔

پہلے جملے کے بعد سب آسان ہو جاتا ہے: خالد جاوید

خالد جاوید: خ ج: میری پیدائش بریلی میں ہوئی، میں کبھی کھلونوں سے نہیں کھیلا، گھر میں صرف کتابیں تھیں، میں ابھی میں پانچ چھ کا ہی تھا کہ میرے والد مجھے ابنِ صفی کے ناول پڑھ پڑھ کر سنایا کرتے تھے میں نے اردو بھی ابنِ صفی کے ناولوں سے سیکھی، آٹھ نو تک میں بالغ ہو گیا اور بگڑ گیا ۔ ۔ ۔

سوال: ہم ذرا آگے آ گئے، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کی تعلیم کہاں اور کیسے ہوئی، لکھنے پر ذرا ٹھہر کر بات کرتے ہیں؟

خ ج: بریلی ہی میں ساری تعلیم ہوئی اور وہیں میں نے فلسفے کی تدریس شروع کی، پھر اردو میں ایم اے کیا اور بارہ سال سے جامعہ ملیہ یونیورسٹی سے وابستہ ہوں۔

سوال: تو لکھنے کی ابتدا، کیسے ہوئی، پہلے چیز کہاں چھپی، کیا تھی اور اس کے بعد دوسری کتابیں؟

خ ج: شروع شروع میں تو میں نے رومانی قسم کی کہانیاں لکھیں جنہیں میں سنجیدہ کام نہیں سمجھتا، اس کے بعد میں نے شاعری شروع کی اور 87 سے میری شاعری ‘اوراق’ میں شایع ہونے لگی اور 92 تک میری نثری نظمیں وہاں شایع ہوتی رہیں۔ پھر مجھے لگا کہ میں نظموں میں خود کو ضایع کر رہا ہوں اور مجھ سے بہت اچھی نظمیں کہی جا رہی ہیں اور پھر 1992 سے میں نے افسانے لکھنے شروع کیے، میرا پہلا افسانہ لکھنؤ سے نکلنے ایک رسالے نیا دور میں شایع ہوا۔ بعد کے افسانوں میں سے ایک افسانہ ‘برے موسم میں’ کے عنوان سے شایع ہوا اُسے کتھا ایوارڈ دیا گیا اور وہ کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔ پھر اس کے بعد 2000 میں ‘برے موسم میں’ ہی کے نام سے میرے افسانوں کا پہلا مجموعہ شایع ہوا۔ اس کے بعد 2007 میں افسانوں کا دوسرا مجموعہ ‘آخری دعوت’ کے نام سے شایع ہوا۔ اسے اردو میں پینگوئن نے شایع کیا۔ اسے پاکستان میں آصف فرخی نے بھی ‘تفریح کی ایک دوپہر’ کے نام سے شایع کیا ہے۔ اُس کے بعد پہلا ناول ‘موت کی کتاب’ ۔ ۔ ۔

اس کے علاوہ خالد جاوید سے جب پوچھا گیا کہ:

ایک تو یہ کہ آپ شاعری سے آپ کہانی کی طرف آئے اور پھر ناول کی طرف، تو کیسے طے ہوتا جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں اس کے لیے کہانی مناسب ہے یا میرا مطلب ہے فارم یا ہئیت کا تعین کیسے ہوتا ہے، پہلے سے ہو جاتا ہے، درمیان میں ہوتا ہے، ہوتے ہوتے ہو جاتا ہے یا بعد میں، یعنی اس کا تخلیقی عمل بھی؟

Image caption ایک افسانہ ‘برے موسم میں’ کے عنوان سے شایع ہوا اُسے کتھا ایوارڈ دیا گیا اور وہ کئی زبانوں میں ترجمہ بھی ہوا۔

اور اب چوں کہ آپ کہانیاں بھی لکھ چکے ہیں ناول بھی لکھ چکے ہیں اور مغربی ادیبوں کا تعارف بھی کرا چکے ہیں تو کیا یہ بتا سکتے ہیں یا خود اپنے بارے میں تعین کر سکتے ہیں کہ کیا ایسی بات ہے جو آپ کہنے کی کوشش کر رہے ہیں جو آپ کو دوسرے لکھنے والوں سے الگ اور مختلف کرتی ہے؟

اور یہ کہ اردو والوں کو ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے اور اب بھی ہے کہ انہیں اس طرح اہمیت نہیں دی جاتی جیسی کہ دنیا کی دوسری زبانوں کے ادیبوں کو دی جاتی ہے، کیا سمجھتے ہیں آپ؟ وہ اُس سطح کا لکھ نہیں رہے جیسا دوسرے لکھ رہے ہیں یا دوسرے جان بوجھ کر انہیں نظر انداز کر رہے ہیں اور اگر کر ہی رہے ہیں تو کیوں؟ یہ تو حقیقت ہے کہ اردو سے انگریزی میں ترجمہ بہت ہی کم ہوتا ہے دوسرے زبانوں کے مقابلے میں؟

تو انہوں نے جواب میں کیا کیا کہا۔

اسی بارے میں