فلورنس میں ڈی ونچی کی پوشیدہ پینٹنگ؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption تصویر کا پتہ لگانے کے لیے ماہرین نے انڈوسکوپی تکنیک کا استعمال کیا

اٹلی میں محققین کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ اٹلی کے شہر فلورنس میں ایک دیوار پر بنی پینٹنگ کے نیچے مشہور مصور لیونارڈو ڈی ونچی کی پینٹنگ پوشیدہ ہے۔

اس منصوبے پر کام کرنے والے کارکنوں کا کہنا ہے کہ فلورنس کے ’پلازو ویچیو‘ نامی ٹاؤن ہال کی دیوار پر بنی ایک تصویر میں ایسے ’بلیک پگمنٹ‘ کا استعمال کیا گیا ہے جو لیونارڈو ڈی ونچی کی مشہور پینٹنگ ’مونا لیزا‘ میں بھی موجود ہے۔

اس پراجیکٹ کے رہنما موریزیو سیراچینی کا کہنا ہے ’یہ دریافت بہت حوصلہ افزاء ہے‘ لیکن فلورنس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران تاریخ دانوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج فیصلہ کن نہیں اور ان پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

امریکہ میں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سین ڈیاگو میں کام کرنے والے موریزیو سیراچینی کا کہنا تھا ’اگرچہ ہم اس تحقیق کے ابتدائی مراحل میں ہیں اور کسی فیصلے پر پہنچنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے لیکن سامنے آنے والے ثبوت اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تحقیق صحیح جگہ پر کی جا رہی ہے‘۔

واضح رہے کہ یہ تحقیق متنازع ہے کیونکہ آرٹ کے چند ماہرین کے مطابق اس سے موجودہ پینٹنگ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

آرٹ کے تاریخ دان ٹوموسو مونٹوناری اس ریسرچ کے خلاف ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ثبوت قابلِ اعتبار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’اس بات سے ان کا کیا مطلب ہے کہ دریافت لیونارڈو سے ملتی جلتی ہے؟ نشاۃِ ثانیہ کے دور کی ہر پینٹنگ اس سے ملتی جلتی ہو گی۔ اس زمانے کی کوئی بھی پینٹنگ اس دیوار پر ہو سکتی ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسی ٹیم کی ضرورت ہے جو اس سائنس کی ماہر ہو کیونکہ یہ معاملہ پیچیدہ ہے۔

دوسری جانب سیراچینی یہ سمجھتے ہیں کہ دیوار پر بنی اس پینٹنگ کے نیچے لیونارڈو ڈی ونچی کی مشہور پینٹنگ ’دی بیٹل آف انگیاری‘ ہے۔

عام تاثر ہے کہ لیونارڈو نے ایک دیوار پر سنہ پندرہ سو چار میں ایک پینٹنگ بنانا شروع کی تھی جو تجربات کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کی بنا پر کبھی ختم نہیں ہو سکی۔

اسی بارے میں