’اخبارات کا معیار گر رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بطور ہدایت کار رابرٹ ریڈ فورڈ کی پہلی فلم سنہ انیس سو اسی میں ریلیز ہونے والی آرڈنری پیپل تھی۔

امریکی ادا کار اور ہدایت کار رابرٹ ریڈ فورڈ نے کہا ہے کہ اخبارات کےگرتےمعیار کی وجہ سےتحقیقاتی صحافت کا سب سےاہم ذریعہ دستاویزی فلمیں بن گئی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخبارات کا گرتا معیار ہی دستاویزی فلموں کے مقبول ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے اور اسی لیے تحقیقاتی صحافت میں ان کی جگہ دستاویزی فلموں نے لے لی ہے۔

واضح رہے کہ رابرٹ ریڈ فورڈ رواں سال اپریل میں لندن میں ہونے والے ’سن ڈانس فلم فیسٹیول‘ کے دوران اپنی چند دستاویزی فلمیں پیش کرنے والے ہیں۔

سنہ انیس سو اٹھہتر سے جاری سن ڈانس فلم فیسٹیول ہدایت کاروں کو اپنی فلمیں منظرِ عام پر لانے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ماضی میں بھی اس پلیٹ فورم کے ذریعے سٹیون سوڈربرگ اور کوئینٹن ٹیرنٹینو جیسے مشہور ہدایت کار منظرعام پر آ چکے ہیں۔

پجہتر سالہ رابرٹ ریڈ فورڈ نے کہا ’آپ دستاویزی فلموں میں وہ سب دکھا سکتے ہیں جو شاید حکومت یا پھر کوئی بڑا ادارہ چھپا سکتا ہو۔‘

انہوں نے کہا ’جس فلم کو ہم لندن لے کر آ رہے ہیں اس کا نام چیزنگ آئیس لینڈ ہے اور یہ برف کے پگھلنے اور موسمیاتی تبدیلی کے دنیا پر اثرات کے بارے میں ہے۔‘

انہوں نے بتایا ’ہم نے اسے بنانے میں کئی سال لگائے ہیں اور میرے خیال میں یہ ایک پراثر اور ناقابل اعتراض فلم ہے۔‘

یاد رہے کہ امریکی فلمی صنعت ہالی ووڈ کے معروف اداکار رابرٹ ریڈ فورڈ نے سنہ انیس سو انہتر میں ’بچ کیسڈی‘ اور ’سن ڈانس کڈ‘ جیسی فلموں میں اداکاری کے بعد بہت شہرت حاصل کی تھی۔ بطور ہدایت کار ان کی پہلی فلم سنہ انیس سو اسی میں ریلیز ہونے والی ’آرڈنری پیپل‘ تھی۔

اسی بارے میں