مہنگی ای بکس: ایپل اور ناشرین پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ایپل آئی بک ایپلیکیشن کے ذریعے آئی پیڈ اور آئی فون کے لیے کتابیں فروخت کرتا ہے

امریکہ محکمۂ انصاف نے ایپل اور کتابیں شائع کرنے والے بڑے ناشرین پر ای بکس یا الیکٹرانک کتب کی قیمتوں پر اجارہ داری کا الزام عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

محکمۂ انصاف کا کہنا ہے ایپل، ہارپر کولنز، میکملن، سائمن اینڈ شسٹر اور پینگوئن جیسے ناشرین نے ای بکس کی قیمت کے حوالے سے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے۔

نیویارک کی عدالت میں بدھ کو دائر کیے جانے والے اس مقدمے کی بنیاد ایپل کا اس ایجنسی ماڈل کو اپنانا ہے جہاں دکاندار کی جگہ ناشرین کتاب کی قیمت طے کرتے ہیں۔

جن کمپنیوں پر یہ الزام لگایا گیا ہے ان میں سے ہارپر کولنز اور سائمن اینڈ شسٹر پہلے ہی اس بارے میں معاملات عدالت سے باہر طے کر چکے ہیں اس لیے اب مقدمہ ایپل، میکملن اور پینگوئن پر چلے گا۔

محکمۂ انصاف کے مطابق مقدمے میں ان کمپنیوں پر ’ای کتب کے دکانداروں کی مسابقت کی وجہ سے قیمت میں کمی کے حق کو ختم کرنے کی سازش‘ کا الزام لگایا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس مبینہ سازش کے نتیجے میں کتب بینوں نے کئی مقبول کتابوں کے لیے کئی ملین ڈالر کی زائد ادائیگی کی۔

استغاثہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ دو ہزار دس میں ایپل نے اپنا ٹیبلٹ کمپیوٹر(آئی پیڈ) متعارف کروانے کے بعد میکملن اور پینگوئن جیسے ناشرین سے کتابوں کی خوردہ قیمت کے مسابقتی عمل کو ختم کرنے کے لیے گٹھ جوڑ کیا اور ای کتب کی قیمت واضح طور پر بڑھا دی۔

استغاثہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ ایپل نے ہر فروخت ہونے والی کتاب پر لازمی تیس فیصد کمیشن بھی حاصل کیا۔

ایپل نے جو اپنی آئی بک ایپلیکیشن کے پلیٹ فارم کے ذریعے آئی پیڈ اور آئی فون کے لیے کتابیں فروخت کرتا ہے، اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے معذرت کی ہے۔

اسی بارے میں