شاہ رخ خان کی حراست پر امریکی معذرت

Image caption شاہ رخ کا شمار بھارت کے صفِ اول کے اداکاروں میں ہوتا ہے

امریکہ نے اداکار شاہ رخ خان کے نیویارک کے ہوائی پر تحویل میں لیے جانے کے واقعے پر معافی مانگ لی ہے۔ دِلّی میں امریکی سفارتخانے نے کہا کہ وہ شاہ رخ کو پہنچنے والے تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔

سفارتخانے نے کہا کہ امریکہ میں بھی بہت سے لوگ شاہ رخ خان کے مداح ہیں اور انہیں بہت اچھا اداکار سمجھتے ہیں۔ شاہ رخ خان کو اس سے پہلے بھی امریکی ہوائی اڈے پر روکا جا چکا ہے اور اس وقت انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ ان کے ساتھ ایسا ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ہوا تھا۔

بھارتی فلم انڈسٹری کے مشہور اداکار شاہ رخ خان نے کہا تھا کہ انہیں ایک بار پھر نیویارک کے ایک نجی ائیر پورٹ پر امریکی امیگریشن حکام نے ڈیڑہ گھنٹے تک تحویل میں لیا تھا۔

یہ بات ادکار شاہ رخ خان نے نیویارک کی پڑوسی ریاست کنکیٹیکٹ میں قائم معروف امریکی ییل یونیورسٹی کے طلبہ و اساتذہ سے خطاب کے دوران کہی جسے امریکہ کی مقامی جنوبی ایشیائي الیکٹرانک میڈيا نے بھی نشر کیا۔

ییل یونیورسٹی کے طلباء و طالبات، فیکلٹی ممبران اور اساتذہ سے بھرے آڈییٹوریم ہال میں اپنے خطاب کے شروع میں شاہ رخ خان نے دیر سے پہنچنے پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پھر امریکی امیگریشن حکام نے روک کر اپنی تحویل میں رکھا۔

بھارت میں ہندی فلموں کے مشہور اداکار نے کہا کہ ’میں جب بھی خود کو مغرور محسوس کرتا ہوں تو امریکہ چلا آتا ہوں جہاں امریکی امیگریشن حکام کی لات مجھے سیدھا کردیتی ہے۔‘

اطلاعت کے مطابق، شاہ رخ خان منگل کو ممبئي سے ہندوستان کے ارب پتی امبانی خاندان کے ساتھ ان کے ذاتی طیارے میں نیویارک کے ایک ہوائی اڈے پر اترے تھے جہاں امریکی امیگریشن کے حکام نے مبینہ طور انہیں ڈيڑہ گھنٹے تک روکے رکھا اور سوالات کرتے رہے۔

یاد رہے کہ اداکار شاہ رخ خان کو امریکی امیگریشن کے حکام کی طرف سے ہوائی اڈے پر روکے جانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سنہ دو ہزار نو میں بھی انہیں روکا گیا تھا۔

اسی بارے میں