انٹلیکچوئل کرائسس یا صلاحتیوں کی کمی کا بحران

امینہ سید، ریاض محمد خان اور ڈاکٹر ملیحہ لودھی
Image caption ریاض محمد خان کہتے ہیں کہ یہ کتاب ان کی پہلی کتاب کا تسلسل ہے

پاکستان کو افغانستان کے بارے میں اپنی حکمت عملی میں وسعت اور اپنے کردار کے بارے میں خود اعتمادی پیدا کرنی چاہیے اور اسے ہمسایہ ملک میں دوسروں کی آمد اور مدد دینے سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ جو کردار پاکستان ادا کر سکتا ہے وہ کوئی دوسرا ادا نہیں کر سکتا۔

پاکستان کے سابق سکریٹری خارجہ ریاض محمد خان بدھ کی شام آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کراچی کے صدر دفتر میں اپنی نئی کتاب ’افغانستان اور پاکستان: کانفلِکٹ، ایکسٹریم ازم اینڈ ریزسٹینس ٹو موڈرنیٹی‘ کے حوالے سے ہونے والی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی یہ کتاب ان کی پہلی کتاب کا تسلسل ہے اور اس میں افغانستان سے سوویت یونین کی واپسی کے بعد جنگجویت کے ابھار کا احاطہ کیا گیا ہے اور اسےخود افغانستان کے انٹلیکچوئل کرائسس اور ہم عصر چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی صلاحیت اور انٹلیکچوئل کرائسس کے تناظر میں دیکھا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر جلال آباد آپریشن میں درست حکمت عملی اختیار کی جاتی تو اس سے پاکستان اور امریکی مفادات کے حصول کے لیے بہتر مواقع حاصل کیے جا سکتے تھے۔ اس لیے اس آپریشن کے نتیجے میں جو خون خرابہ ہوا اس کی ذمہ داری امریکیوں اور عالمی برادری پر ہی نہیں ہم پر بھی عائد ہوتی ہے۔

ریاض محمد خان نے افغانستان جہاد میں شریک گروہوں کی حکمرانی کا ذکر کرتے ہوئے عرب ملکوں میں تبدیلی کے لیے جاری لہر کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ ہر جگہ یہ دکھائی دیتا کہ تبدیلی لانے اور متبادل کے طور پر سامنے آنے والی قوتیں موثر انداز سے ریاست کو چلانے کی صلاحیت نہیں رکھتیں کیونکہ ایک تو ان کے پاس مستقبل کے لیے جو ماڈل ہیں وہ ماضی کے ہیں اور پھر وہ سائنس کے بارے میں جدید سوچ سے بھی نا بلد ہیں، اس کے لیے انہیں چین اور جاپان کی مثالیں سامنے رکھنی چاہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے حالات اب بہت بدل گئے ہیں۔ ایک تو اب طالبان کبھی بھی کابل پر دسترس حاصل نہیں کر سکیں گے اور پھر افغان گروہوں سے مفاہمت آسان عمل نہیں رہا۔

’ہمیں چاہیے کہ ہم افغانستان کو ایک مختلف ملک تسلیم کر لیں اور اپنی پالسیوں کو نئے انداز سے بنائیں کیونکہ مستحکم افغانستان ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔‘

سابق سکریٹری خارجہ نے کہا کہ جنگجویت پاکستان اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنے ذہن کو صاف رکھنا چاہیے کیونکہ یہ ہمارے معاشرے کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کو اگرچہ ہمیشہ ہی ایک دوسرے کی ضرورت رہی ہے لیکن ان کی سوچ ہندوستان، ایٹمی پروگرام، افغان جہاد کے بعد کی صورتِ حال، 11/9 اور طالبان کے بارے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ انہوں اس سلسلے میں ریمنڈ ڈیوس کیس، اسامہ بن لادن کی ہلاکت، سلالہ واقعہ اور ڈرون حملوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ پاکستان کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ ڈرون حملوں کو بند کرنے کا مطالبے کرے لیکن اس کے ساتھ اس بات کو بھی یقینی بنانا ہو گا کہ اس کے علاقے دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال نہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اس بات کی توقع نہیں کرنی چاہیے کہ انڈیا کے بارے میں امریکہ پاکستان کی طرح سوچے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ پاکستان اپنی پالیسیوں کی ’ریجنل اورینٹیشن‘ کرے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے کہ جب یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ امریکہ میں پاکستان کے بارے میں منفی انداز سے سوچا جانے لگا ہے۔

ریاض محمد خان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں مصالحت ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے اور امریکہ نے مصالحت کی اہمیت کو تسلیم کر کے ہماری پالیسی کی توثیق کی ہے اب ہمیں بھی چاہیے کہ ہم طالبان کو جس حد تک آمادہ کر سکتے ہیں مصالحت پر آمادہ کریں۔

ان سے قبل امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے مختصراً کتاب اور مصنف پر بات کی اور کہا کہ ریاض محمد ان کے سابق ’بوس‘ ہیں وہ ان کا انتہائی احترام کرتی ہیں کیونکہ وہ ان چند لوگوں میں سے ہیں جو اقتدار کی غلام گردشوں میں ایک تو سچ بولتے ہیں اور پھر بروقت بولتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ریاض محمد کی کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس میں اُس انٹلیکچول بحران کا ذکر کیا گیا ہے جو ہمیں اِس وقت نہ صرف عام مسائل کو حل کرنے کے حوالے سے درپیش ہے بلکہ جدیدیت اور شدت پسندی سے نمٹنے کے لیے سول اور فوجی قیادت کے حوالے سے بھی درپیش ہے۔

ان سے قبل آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید نے شرکا کو مصنف اور مہمان خصوصی ڈاکٹر ملیحہ سے متعارف کرایا۔ انہوں نے حال ہی میں شائع کی جانے والی دو نئی کتابوں کا بھی ذکر کیا۔

ان میں سے ایک ’کریٹیکل مسلم والیوم 1: دی عربز آر الائیو‘ ہے جس کے ایڈیٹر ضیا الدین سردار اور روبن یٰسین قصاب ہیں اور دوسری ’دی آکسفرڈ کمپینین آف پاکستانی ہسٹری‘ ہے جس کی ایڈیٹر عائشہ جلال ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پہلی کتاب چار جلدوں پر مشتمل ہو گی۔ جب کہ عائشہ جلال کی کتاب کو انہوں ایسا انسائیکلویا قرار دیا جس میں پہلی بار پاکستان کی پوری تاریخ کا احاطہ کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں