منٹو اور جج

سعادت حسن منٹو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعادت حسن منٹو آج زندہ ہوتے تو ایک سو موم بتیاں جلا کر کیک کاٹ رہے ہوتے

منٹو میاں مبارک ہو۔ آج زندہ ہوتے تو ایک سو موم بتیاں جلا کر کیک کاٹ رہے ہوتے۔

اگر یہ سوچ کر پریشان ہو کہ ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے جج تمہاری سالگرہ پر کیوں خوش ہیں، مبارک کیوں دے رہے ہیں تو میاں بات یہ ہے کہ ہمارے برادر ججوں کے ساتھ تمہارے کچھ دن گزرے ہیں۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ منصف کی کرسی پر تھے اور تم ملزموں کے کٹہرے میں۔

پھر تمہارے خلاف فیصلہ دینے سے پہلے اور ایک آدھ بار بری کرنے سے پہلے اپنے چیمبر میں بیٹھ کر تمہاری فحش کہانیوں کے مزے بھی لیے ہیں، کانوں کو ہاتھ لگا کر اللہ سے معافی بھی مانگی ہے، تو اتنا حق تو بنتا ہی ہے کہ ’ہیپی برتھ ڈے‘ بول دیں۔

ویسے تمہیں یہ بھی بتانا تھا کہ ہماری تمام تر کوششوں کے باوجود تمہاری کتابیں ماشااللہ خوب چھپ رہی ہیں اور بک رہی ہیں۔ پتہ نہیں تمہارے خاندان والوں کو رائلٹی ملتی ہے یا نہیں لیکن جسے دیکھو منٹو چھاپ رہا ہے۔ ابھی حال ہی میں ایک کتابوں کی دکان پر تمہارا ایک ضخیم نسخہ نظر آیا۔ اٹھا کر کچھ ورق گردانی کی واللہ اس لاغر بدن میں وہی سنسنی دوڑ گئی جیسے ساٹھ سال پہلے اپنے چیمبر میں دوڑی تھی۔

پھر دل میں کچھ اختلاج ہونے لگا، کتاب بند کی تو قیمت پر نظر پڑی۔ 750 روپے۔ مبارک ہو منٹو میاں اب یہ حساب لگانے مت بیٹھ جانا کہ 750 روپوں میں تم شراب کے کتنے آدھے خرید سکتے ہو۔ میاں آج کل پینے کے لیے پیسے کے ساتھ دل گردہ بھی چاہیے۔ پہلے اپنے آپ کو شریف شہری ثابت کرنا پڑتا ہے۔ ہاں لکھاریوں اور صحافیوں کو آج کل ادبی میلوں پر بلا کر خوب پلائی جاتی ہے۔ اور اگر انگریزی میں لکھتے ہو تو ایسی ایسی ملتی ہے کہ تم نے ممی کے کوٹھے پر بھی نہیں دیکھی ہوگی۔ لیکن تمہیں کوئی کاہے کو بلائے گا کیونکہ تم تو پینے سے پہلے ہی ادبی میلوں کے منتظمین اور ان کے سپانسرز کے ماں باپ کی شان میں گستاخیاں کرنے لگو گے جیسے ہمارے معزز جج بھائیوں کی شان میں کیا کرتے تھے۔

منٹو میاں تمہیں اپنے قلم سے کشید کر کے پینے کی عادت تھی اور پھر اس کے بارے میں لکھنے کی، بھرے مجمعے میں بات کرنے کی بھی عادت تھی۔ آج کل جو پیتے ہیں وہ اس بارے میں بات نہیں کرتے جو نہیں پیتے وہ جھوم جھوم کر وعظ کرتے ہیں۔

میاں سچی بات تو یہ ہے کہ ادبی دنیا میں تمہاری بے ادبیاں ہی تمہیں لے ڈوبیں۔ جس محفل میں لوگ ہونٹوں کے جام سے جرعے لینے کی بات کرتے تھے تم وہاں پر اپنا ٹھرا کھول کر بیٹھ جاتے تھے۔

ابھی تمہارے بھتیجے کی بیٹی اور تمہاری طرح کی نڈر تاریخ دان عائشہ جلال نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ پاکستان آنے سے پہلے تم صرف شراب پیتے تھے، پاکستان آکر تم باقاعدہ شرابی بن گئے۔ یعنی کہ پاکستان نے تمہیں ایک مکمل شرابی بنا دیا۔

ظاہر ہے تمہارا خون ہے الزام تو ہمیں دے گی۔

یاد ہے جب اوپر تلے اور درمیان والا مقدمہ بھگتنے کراچی آئے تھے اور زادراہ میں صرف بیئر کی دس بوتلیں تھیں۔ میاں اگر آج لکھ رہے ہوتے تو اوپر نیچے اور درمیان پہ تو معافی ہو جاتی لیکن دس بیئر پینے کی پتہ ہے کتنی سزا ہے؟ اور اگر اسلامی جمہوریہ کے چیف جسٹس کو خبر ہو جاتی تو ایک آدھے پر بھی ایسا ٹانگتے کہ ساری عمر تاریخیں بھگتے رہتے۔

کیا کہا صرف ایک آدھے پر؟

اگر میری بات پر یقین نہیں آرہا تو عتیقہ اوڈھو سے پوچھ لو۔

یہ عتیقہ اوڈھو کون ہے؟

اب پوچھو گے کہ چیف جسٹس کون ہے اور کیا چاہتا ہے اور پھر کوئی کہانی جوڑنے بیٹھ جاؤ گے۔ منٹو میاں تمہارے ساتھ تو خیالی گفتگو کرتے کرتے بھی پنشن خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اب تمہارے آدھے یا بیئر کی بوتل یا چیف جسٹس کا کوئی ذکر نہیں ہوگا۔ اور بھی موضوعات ہیں مثلاً یہ کہ آپ شلوار کو شلوار کہنے پر کیوں مصر ہیں؟

اسی بارے میں