منٹو نہ کھولو

سعادت حسن منٹو کی لاہور میں رہائش گاہ
Image caption سعادت حسن منٹو کی لاہور میں رہائش گاہ

منٹو میاں، تم بہت دیر تک حیران رہے کہ تمہارے افسانے ’کھول دو‘ پر کوئی اعتراض کیسے کرسکتا ہے؟ دہشت سے بھری اس کہانی میں کوئی فحاشی کیسے ڈھونڈ سکتا ہے۔ ایک لٹی پٹی عورت جسے مسلسل ریپ کیا جاتا رہا ہے (حالانکہ تم نے لفظ ریپ یا اس کے کئی لطیف اُردو مترادف الفاظ استعمال نہیں کیے لیکن اس پر بعد میں بات کرتے ہیں) سکینہ سکتے کی حالت میں ہے۔ وہ کسی کو کھڑکی کھولنے کے بارے میں کہتے ہوئے سنتی ہے تو اُس کے ہاتھ فوراً اپنے ازار بند کی طرف جاتے ہیں۔

منٹو میاں تمہارا خیال ہے کہ تم نے بے حس معاشرے کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ تقسیم ہند کی وحشت کے دریا کو کیسے کوزے میں بند کیا ہے۔ خون آشام دنوں کے لیے ایک ایسا آئینہ جس میں سب اپنا چہرہ دیکھیں اور شرمسار ہوں۔

لیکن میاں تمہاری نیت جو بھی ہو ہمیں تو اپنی شلوار کا ازار بند کھولتی دوشیزہ ہی نظر آئی۔

مفکرِ پاکستان علامہ اقبال کے صاحبزادے ریٹائرڈ جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے آپ کے ساتھ اس افسانے کے بارے میں گفتگو کی تو انہوں نے نہ صرف عدلیہ بلکہ پوری قوم کے جذبات کی ترجمانی کر ڈالی۔

جسٹس جاوید اقبال نے فرمایا کہ آپ کی کہانی پڑھ کر کسی مسلمان نوجوان کے ذہن میں یہ خیال آجائے کہ وہ بھی فسادات میں کسی اغوا ہونے والی لڑکی پر ہاتھ صاف کرلے تو اس کی ذمےداری کس پر ہوگی۔ اور پھر جسٹس صاحب نے آپ سے فرمایا کہ کوئی مثبت پیغام دینے کے لیے کسی ایسے مسلمان نوجوان کا کردار بھی کہانی میں دکھا دیتے جو آپ کی کہانی کی مظلوم سکینہ کو بچانے کی کوشش کرے۔ جواب میں آپ نے فرمایا کہ ایسا کرنے سے ہماری کہانی کا پلاٹ خراب ہوتا ہے۔

اب ہم کیا کہیں جو شخص کھلّم کھلا اعتراف کرے کہ اُسے نوجوانانِ ملت کے کردار سے زیادہ ایک من گھڑت کہانی کے پلاٹ کی فکر ہے، اُسے جج برادری راندہِ درگاہ نہیں سمجھے گی تو کیا سمجھے گی۔

چلیں یہ بھی خوب ہوا کہ ہمارے بزرگ جج جسٹس جاوید اقبال اور آپ نے سکینہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اُسے ہاتھ صاف کرنے کا نام دے دیا۔ اب اس بات کی تو کم از کم داد دیں کہ تمہاری محبوب زبان اردو میں لکھنے والوں نے اس قبیح فعل کے لیے کیسی کیسی اصطلاحات ایجاد کی ہیں۔ ایسی خبروں کی اب تشہیر ہوتی ہے لیکن اس طرح سے کہ لکھنے والا بھی مزہ لے اور پڑھنے والے بھی حظ اُٹھائیں۔

کہتے ہیں اُسکی عصمت دری کی گئی۔

یوں نہیں لگتا عصمت نامی لڑکی کو دری پرلٹا دیا۔ اب اِس میں کیا برائی ہے۔

یا کسی کی آبرو ریزی کی گئی۔ اب آبرو ریزہ ریزہ کرنا تو کوئی اتنا بڑا جُرم نہیں ہے۔

اُس کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

دیکھا کس ہنر مندی کے ساتھ ہم نے دو بنیادی انسانی جبلتوں یعنی جنس اور تشدد کو کس خوبصورتی کے ساتھ ایک ہی اصطلاح میں سمو دیا ہے۔

اور کبھی کبھی جنسی درندگی کا سارا الزام اُن وحشی درندوں پر ڈال دیتے ہیں جو ہمیں نیشنل جیوگرافک پر دکھائی دیتے ہیں۔

اور کبھی کوئی ہوس کا شکار ہو جائے تو چاندنی راتوں میں کسی روسی پرندے کے شکار کا سماں بندھ جاتا ہے۔ ہم آج بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ آزادی حاصل کرنے کے لیے ہماری ماؤں بہنوں نے اپنی آبروئیں لٹوائی تھیں۔

اگر آج بھی ہمارے ملک میں آبروریزی، عصمت دری اور جنسی تشدد جیسے کام ہوتے ہیں تو لگتا ہے کہ ہمارے جج بھائی جسٹس جاوید اقبال نے درست ہی فرمایا تھا۔ نہ تم کھول دو لکھتے نہ نوجوانانِ ملت کو عورتوں کو ریپ کرنے کا خیال آتا، نہ ہی ہمیں اپنے اس قومی مشغلے کے لیے نئے نام ڈھونڈنے پڑتے۔

اور آئندہ تم سے یہ پوچھنا ہے کہ عورت کی چھاتی کو چھاتی کہنے پر کیوں مصر ہو۔ کیا گھر میں ماں بہن نہیں ہے۔ یا کبھی اردو شاعری نہیں پڑھی؟

اسی بارے میں