قوال علی محمد تاجی انتقال کرگئے

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption علی محمد تاجی کی قوالی’ یہ ہے میکدہ‘ بہت مقبول ہوئی

پاکستان کے نامور عوامی قوال علی محمد تاجی انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر ساٹھ برس تھی۔

علی محمد تاجی کو گزشتہ دنوں دماغ کی نس پھٹ جانے کے بعد ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا جس سے وہ جانبر نہ ہوسکے۔

ان کی نمازِ جنازہ جمعہ کو کراچی میں شو مارکیٹ کی مقامی مسجد میں ادا کی گئی جس میں ان کے ساتھی قوالوں، احباب و رشتے داروں نے شرکت کی۔

علی محمد تاجی نے مشہور قوالی ’ یہ ہے میکدہ‘ سے مقبولیت حاصل کی تھی۔

انہوں نے بچپن سے اپنے والد مرحوم ذکی تاجی کے ہمراہ قوالی کا آغاز کیا تھا۔ والد کے انتقال کے بعد علی محمد تاجی نے اپنی قوال پارٹی بنائی اورگائیکی کا انداز بھی منفرد رکھا۔ بعد میں ان کے صاحبزداے ثاقب علی اور عاصم علی بھی اس پارٹی میں شامل ہوگئے۔

ریڈیو پاکستان کے نامور براڈ کاسٹر ابراہیم خان کا کہنا ہے کہ علی محمد تاجی کی گائیکی میں عوامی رنگ زیادہ ہوتا تھا جس میں وہ عشقیہ شاعری کا انتخاب زیادہ کرتے تھے۔ صوفی شاعری کی طرف دھیان کم تھا مگر اس کے باوجود ہر طبقے میں مقبول ہوئے۔

علی محمد تاجی نے پاکستان ٹیلیویژن اور ریڈیو پر بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان کے کئی البم بھی ریلیز ہوئے۔

مرحوم علی تاجی کے سوگواروں میں ایک بیوہ، تین بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔