اس ناول کو نہ پڑھیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نام کتاب: اندھے لوگ

مصنف: حوزے ساراماگو

مترجم: احمد مشتاق

صفحات: 352

قیمت: 400 روپے

ناشر: شہر زاد، 155بی ، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

پرتگالی ادیب حوزے ساراماگو کو 1998 میں جب وہ چھہتر برس کے ہو چکے تھے نوبیل انعام کا حق دار تسلیم کیا گیا۔ ان کا پہلا ناول 1947 میں شائع ہوا، نوبیل انعام ملنے سے پہلے ہی وہ دنیا میں ایک غیر معمولی فکشن لکھنے والے کے طور پر معروف ہو چکے تھے لیکن ان کے پڑھنے والوں کی اکثریت یہ رائے رکھتی تھی کہ انہیں ان کے کمیونسٹ نظریات کی بنا پر نوبل انعام نہیں دیا جائے گا۔

لیکن امریکی مبصروں اور نقادوں کا کہنا ہے کہ امریکہ میں بیشتر پڑھنے والوں نے انہیں تب جانا جب انہیں نوبل انعام ملا۔ یہ بات امریکی مبصر ہی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ امریکیوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ جسے امریکیوں نے جان لیا اسے دنیا نے جان لیا۔

اس بات کا اندھے پن یا ساراماگو کے اس ناول سے کیا تعلق ہے، جس کا انگریزی نام Blindness اور اردو نام ’اندھے لوگ‘ رکھا گیا ہے؟ شاید ہے۔ عام طور پر تصور یہ ہے کہ اندھے پن میں اندھیرے اور تاریکی کے سوا کچھ محسوس نہیں ہوتا لیکن ناول میں صورتِ حال یہ نہیں ہے۔

ناول میں ایک کار سوار آگے جانے کے لیے سگنل کے سبز ہونے کے انتظار میں ہے۔ سگنل سبز ہو جاتا ہے لیکن اس کی کار آگے نہیں بڑھتی، جب بمشکل اس کی کار کے دروازہ کھول کر اسے باہر نکالا جاتا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ اسے دودھیا خلا کے سوا کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔ بے نام شہر میں اندھا ہونے والا یہ پہلا فرد ہے۔

اس کے بعد اسی نوع کے اندھے پن کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ جب اس اندھے پن کا پھیلاؤ اور بڑھتا ہے تو حکومت یہ سمجھتی ہے یہ کوئی ایسی بیماری ہے جو ایک اندھے سے ایسے لوگوں کو لگ رہی ہے جو اندھے نہیں ہوئے اس لیے اندھے ہونے والے تمام لوگوں کو پکڑ کر ایک ایسی عمارت میں بند کر دیا جاتا ہے جو کبھی دماغی امراض کے مریضوں کے لیے مخصوص رہی تھی۔

یہاں محصور کیے جانے والوں میں ایک ڈاکٹر بھی ہے جس نے سب سے پہلے اندھے ہونے والے شخص کا معائنہ کیا تھا۔ اس ڈاکٹر کی بیوی ابھی اندھی نہیں ہوئی تھی لیکن وہ اندھی بن کی شوہر کے ساتھ چلی آئی ہے۔ محصور ہونے والوں میں وہ واحد ہے جو دیکھ سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ساراماگو نے اسے اندھا کیوں نہیں دکھایا؟ شاید اس لیے کہ اگر وہ اسے بھی اندھا دکھاتا تو پھر جو کچھ ہوا، اس کا داخلی بیان کرنے والا کون ہوتا۔ ناول میں یوں بھی تمام اندھوں کی حالت سات کرداروں کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔

اندھا اور محصور ہونے کے بعد کون کیا کرتا ہے اور اس کے ذریعے ساراماگو نے کیا کیا کچھ دکھایا ہے، یہ ناول میں پڑھا جا سکتا ہے۔ مترجم احمد مشتاق کے بارے میں ہمارے محترم انتظار حسین کا کہنا ہے: حیرت انگیز طور پر احمد مشتاق (ترجمے میں) بڑی حد تک اس میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ ساراماگو کے اسلوب تحریر سے وفا داری بھی نبھائیں اور اس کے بیان کی فصاحت کو بھی بر قرار رکھیں۔

ساراماگو پر لکھے جانے والے بہت کم سے اور ان کے ناولوں کے انگریزی ترجموں سے بھی ظاہر ہے کہ اول تو وہ پنکچوایشن کے زیادہ حق میں نہیں ہیں لیکن جہاں استعمال کرتے ہیں وہاں اُسے دیکھا نہ جائے تو متن کے معنی میں تبدیلی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔

ساراماگو استعارہ تشکیل کرتے ہیں اور جہاں جہاں وہ اس کی توضیح کرتے ہیں وہاں اس کے معنی کی ایک اور جہت پیدا کر دیتے ہیں۔

ناول کے اختتام پر جب نابینگی ختم ہوناشروع ہو چکی ہے اور مرکزی کردار ڈاکٹر کے گھر سے اپنے اپنے گھروں کا حال دیکھنے کے روانہ ہو چکے ہیں، ڈاکٹر اپنی بیوی سے مخاطب ہے: ’ہم اندھے کیوں ہوئے تھے؟ میں نہیں جانتا شاید ایک دن ہمیں معلوم ہو جائے گا کیا تم چاہتے ہو کہ میں جو سوچتی ہوں تمہیں بتاؤں؟ ہاں میں چاہتا ہوں، میرا خیال نہیں کہ ہم اندھے ہوئے تھے، میرا خیال ہے کہ ہم اندھے ہیں، اندھے لیکن دیکھنے والے، اندھے لوگ جو دیکھ سکتے ہیں لیکن دیکھتے نہیں‘۔

ہم اندھے کیوں ہوئے تھے، یہ بات تو ڈاکٹر کی بیوی نہیں کہہ سکتی، وہ اندھی نہیں ہوئی، وہ تو اس بات کو سنتے ہوئے کھڑکی پاس جاتی ہے، نیچے فضلے سے بھری سڑک، چیختے چلاتے لوگوں کو دیکھتی ہے اور جب آسمان کی طرف سر اٹھاتی ہے تو اس کے سامنے وہی سفیدی آ جاتی ہے، جو ایک وبا کی طرح لوگوں کو اندھا کرنے کے بعد ختم ہونا شروع ہوئی ہے۔

اس ناول کا اردو میں ہونا یقیناً بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ ’شہر زاد‘ نے اشاعت میں جو مہارت حاصل کی ہے وہ اس ناول سے بھی ظاہر ہے، ساراماگو کے اور ناولوں کو بھی اردو میں ہونا چاہیے، اور یہ کام ان لوگوں کو تو ضرور کرنا چاہیے جو یہ سمجھتے ترقی پسند رجعت پسندوں کے مقابلے میں دنیا اور اس کے مسائل کو زیادہ بہتر طور پر سمجھتے ہیں کیوں کہ ساراماگو تو ایسی سوچ رکھنے والے تمام لوگوں کے لیے ایک رول ماڈل ہیں۔

اسی بارے میں