عامر خان نے اٹھایا جہیز کا مسئلہ

عامر خان تصویر کے کاپی رائٹ AFP Getty
Image caption ‏عامر خان اپنے ٹی وی شو ستیہ میو جیتے میں سماجی مسائل کو پیش کیا ہے

بالی ووڈ کے معرو‌ف اداکار عامر خان کے ٹی وی شو ’ستیہ مے وجیتے‘ یا ’سچ کی جیت‘ کی تیسری پیشکش میں جہیز کے مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔

اس سے قبل عامر خان نے اپنے اس شو کی پہلی پیشکش میں اسقاطِ حمل میں لڑکیوں کو مار دینے اور دوسرے شو میں بچوں کے جنسی استحصال کو اپنا موضوع بنایا تھا۔

شو کے دوران عامر خان نے حکومت ہندکے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جہیز کی لعنت کی وجہ سے بھارت میں ہر گھنٹے کسی نہ کسی لڑکی کو اپنی جان گنوانی پڑتی ہے۔

انہوں نے اپنے اس پروگرام میں جہیز کے حوالے سے کئی دردناک کہانیاں سنائی ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے جہیز کی مخالفت کے کئی دلیرانہ قصے بھی سنائے۔

اس سلسلے میں دہلی کی کومل سیٹھی نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی ان کے گھر کے لوگوں نے طے کی تھی۔ شروع میں سب کچھ ٹھیک تھا لیکن جوں جوں شادی کے دن قریب آتے گئے ان کے سسرال والوں کی مانگ میں اضافہ ہوتا گیا۔

کومل کے مطابق شادی کے دن بھی ان کے سسرال والوں نے سونے کی چین اور دوسری چیزیں مانگی جو ان کے والد نے کسی طرح پوری کر دیں۔ کومل نے بتایا کہ شادی کے بعد ان کے شوہر نے چھوٹی چھوٹی باتوں کا بہانہ بناکر انہیں تنگ کرنا شروع کیا۔

پھر کمپنی کی جانب سے امریکہ جانے کے لیے بھی کومل کے شوہر نے ٹکٹ کا پیسہ کومل سے ہی لیا۔ امریکہ جانے کے بعد بھی کومل اور ان کے خاوند کے رشتہ ٹھیک نہیں ہوا یہاں تک کہ کومل کے شوہر نے اسے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

پھر کومل کا شوہر اسے چھوڑ کر چلا گیا اور تب کومل نے امریکہ میں خواتین کے شعبے سے فون کر کے مدد مانگی۔ کومل کے مطابق ان کی شادی میں تقریباً چالیس لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے لیکن ان کے شوہر کے لالچ میں کمی نہیں آئی۔

کومل فی الحال اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہیں اور ان کا معاملہ عدالت میں ہے۔

اسی شو میں جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو کے شہر مدورئی کی نشانا کی کہانی بتائی گئی۔

پیشے سے لکچرر نشانا کی شادی خاندان کے افراد کی مرضی سے ہوئی لیکن شادی کے بعد ان کے شوہر نے انہیں تنگ کرنا شروع کر دیا اور پھر ان سب سے تنگ آکر ایک دن نشانا نے خودکشی کرلی۔

پنجاب کی پرمجیت کور کی داستان بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔

پروگرام میں عامر خان نے سابق مرکزی وزیر بلونت سنگھ رامو والیہ سے بھی بات چیت کی جو پنجاب میں شادیوں کے دوران پیسوں کے بیجا مظاہرے اور جہیز کے خلاف کافی سرگرم ہیں۔

رامووالیہ کے مطابق اس وقت صرف پنجاب ریاست میں تیس ہزار لڑکیاں اس کا شکار ہیں۔

کچھ مثالیں ایسی بھی ہیں جن میں تصویر کا دوسرا رخ بھی پیش کیا گیا ہے۔

بہار کی روبی دیوی اور سنتوش کمار کی شادی کو چودہ سال گزر چکے ہیں اور ان کے درمیان کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ روبی کے والد ان کی شادی کے سلسلے میں کافی فکر مند بھی رہتے تھے۔

اس فکر سے نجات حاصل کرنے کے لیے روبی کے والد اور گاؤں کے دوسرے افراد نے کچھ ایسی ترکیب نکالی۔ روبی دیوی کے شوہر سنتوش کا کہنا ہے کہ ان کا اغوا کر کے ان کی زبردستی شادی کی گئی تھی لیکن اب دونوں اپنی ازدواجی زندگی سے خوش ہیں۔

اس پروگرام میں ممبئی کے بھونڈی میں ہوئی ایک شادی کا ذکر کیا گیا جس میں انتہائی سادگی برتی گئی تھی۔ اس علاقے میں کام کرنے والی تنظیم ’خدام ملت‘ کے موسم امیدی نے کہا کہ برہان پور میں گذشتہ ساٹھ سالوں سے شادیاں کافی سادگی سے ہوتی رہی ہیں۔

اس مہم سے منسلک صوفیہ مومن اور شہناز مومن نے کہا کہ ان کا مقصد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ بیٹوں کے پیدا ہونے پر خوشیاں منانے والے معاشرے میں لڑکیوں کی پیدائش پر بھی خوشیاں منائی جائیں۔

اسی بارے میں