بجیا مدر ٹریسا کیوں نہیں بن سکیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دانشوروں، شاعروں، اور ذرائع ابلاغ سے متعلق سرکردہ لوگوں نے کہا ہے کہ فاطمہ ثریا بجیا کے تمام کام کو محفوظ کیا جانا چاہیے کیوں کہ یہ سب اس قوم کا سرمایہ ہے۔

پیر کی شام پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں عفت رضوی کی کتاب ’ہماری بجیا‘ کی پُرہجوم تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی ڈائریکٹر، براڈکاسٹر اور ٹیلی کاسٹر آغا ناصر نے کہا کہ بجیا نے انتہائی اہم کام کیا ہے، انہوں نے پاکستان کے بکھرے ہوئے کلچر کو ایک سلسلے میں جوڑ دیا ہے۔ انہوں نے ہمیں پہننے اوڑھنے، کھانے پینے اور رہنے سہنے کے وہ آداب دیے ہیں جو اب ہماری ثقافت کا وہ حصہ بن چکے ہیں جنہیں کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجیا اگر کسی اور ملک میں ہوتیں تو انہیں اب تک مدرٹریسا کا درجہ مل چکا ہوتا۔

ممتاز شاعرہ اور بجیا کی چھوٹی بہن زہرہ نگاہ نے کہا کہ ’عمر کے اعتبار سے بڑا ہو جانے پر تو کسی کا کوئی اختیار نہیں لیکن بڑا بن کے دکھانا آسان نہیں ہوتا‘۔

انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ ابھی اس ملک میں بجیا جیسے لوگ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ ملک اب تک چل رہا ہے۔ بجیا ان لوگوں میں سے ہیں جو صحرا میں پانی کی تلاش کرتے ہیں اور اس امید پر رہتے ہیں کہ ایک نہ ایک دن ضرور کوئی چشمہ پھوٹے گا جو پورے صحرا کو نہیں تو کچھ حصے کو ضرور نخلستان بنا دے گا۔

زہرہ نگاہ نے کہا کہ عفت رضوی نے جو کام کیا ہے اور جس میں اتنے سال لگن اور محنت کے ساتھ لگائے ہیں ہم اس کے لیے ان کے ممنون ہیں کیونکہ یہ کام تو ہمیں کرنا چاہیے تھا جو انہوں نے کیا ہے۔

سینیئر اداکار قاضی واجد نے کہا کہ سٹیج کے بینر پر بجیا کے جتنے ڈراموں کے نام لکھے ہیں ان میں سے اکثر میں انہوں نے کام کیا ہے اور ان کی جو بھی شہرت ہے وہ بجیا اور انور مقصود کی وجہ سے ہے۔ اس اعتبار سے وہ بجیا اور ان کے خاندان کے فیملی آرٹسٹ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دائیں سے بائیں: سحر انصاری، زہرہ نگاہ، فاطمہ ثریا بجیا، آغا ناصر، محمد احمد شاہ اور انور مقصود۔

شاعر اور دانشور سحر انصاری نے کہا کہ بجیا ایک علمی و ادبی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں ان کے نانا نثار یار جنگ، مخلص تخلص کرتے تھے اور ایک بڑی شخصیت تھے۔ یہ خود ایک وسیع المطالعہ شخصیت ہیں اور انہوں نے ڈرامہ نگاری میں ایک تاریخ رقم کی ہے۔

بجیا کی ایک اور بہن زبیدہ طارق جو پاکستان میں اب کھانا پکانا سکھانے والے پروگرام کے حوالے سے بھی معروف ہیں، کہا کہ ’بجیا کے ہاتھ میں ایسی جادو گری ہے کہ وہ جس چیز میں بھی ہاتھ ڈالتی ہیں وہ سنور جاتی ہے‘۔

سابق پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور اب آرٹس کونسل کے عہدیدار اقبال لطیف نے کہا کہ اگر ساری دنیا کی مامتا، بہناپا اور دوستانہ جذبات کو یک جا کر دیا جائے تو اس کے نتیجے اگر کوئی شخصیت وجود میں آئے گی وہ بجیا کے علاوہ کوئی اور نہیں ہو گی۔ اس کے علاوہ پاکستان میں ٹیلی وژن سرکاری ہو یا نجی وہ اب بھی بجیا اور ان کے خاندان کا ممنون ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فاطمہ ثریا بجیا کے ساتھ ہماری بجیا کی محققہ و مصنفہ عفت حسن رضوی۔

آرٹس کونسل کی سابق عہدیدار اور بجیا کے ساتھ ایک عرصے تک کام کرنے والی قدسیہ اکبر نے کہا کہ فاطمہ ثریا بجیا نے اس مٹی کی عظیم بیٹی ہونے کا حق نبھایا ہے۔ بجیا ہمارا تاریخی ورثہ ہیں اور ایسی شخصیت ہیں جو اب پیدا ہونا بند ہو گئی ہیں۔ وہ دس بہن بھائیوں کی بجیا نہیں جگت بجیا ہیں۔

کتاب کی مصنف عفت رضوی نے کہا کہ وہ اس کتاب یا بجیا اور ان کے گھرانے کے بارے میں کیا کہہ سکتی ہیں جو کچھ وہ کہنا چاہتی تھیں وہ سب کتاب میں لکھ دیا ہے اور کتاب باہر موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر وہ یہ کام نہ بھی کرتیں تو کسی اور کو ضرور کرنا چاہیے تھا کیونکہ اگر ہم بجیا کو نظر انداز کر دیں گے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، انہیں اس کی پرواہ بھی نہیں لیکن اس طرح ہم خود اپنے ساتھ اور آنے والی نسلوں کے ساتھ زیادتی کریں گے۔

انور مقصود نے، جو تقریب کی میزبانی بھی کر رہے تھے، کہا کہ عفت نے بجیا ہی کو نہیں سب کو پریشان کیا ہے لیکن میں تو اس لیے ان کے ہر کام کے لیے تیار ہو جاتا تھا کہ ٹیلیفون پر ان کی آواز بہت اچھی سنائی دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’ہم دس بہن بھائی ہیں لیکن ہم میں محبت اس لیے رہی کہ ہمارے والدین ہمارے لیے کتابوں کے سوا کچھ چھوڑ کر نہیں گئے، اب کتابوں پر ہم کیا لڑتے‘۔

تقریب کے آخر میں سب لوگوں نے بجیا کو ڈھیروں پھول پیش کیے اور کھڑے ہو کر بجیا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

اسی بارے میں