سو کتابوں کی ایک کتاب’کتابیں اپنے آبا کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بی بی سی اردو سے نشر ہونے والے رضاعلی عابدی کے پروگرام ’کتب خانہ‘ پر مبنی کتاب ’کتابیں اپنے آبا کی‘ کو دانشوروں اور ادیبوں نے ایک بے بہا کتاب قرار دیا ہے۔

تقریب کے صدر جامعہ کراچی کے سابق وائس چانسلر پیر زادہ قاسم کا کہنا تھا کہ ’رضا علی عابدی کی کتاب جنھیں مل گئی ہے ان کے ہاتھ ایک خزانہ آ گیا ہے کیونکہ جیسے مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن ہوتا ہے ویسے ہی انسانوں میں بھی ہوتا ہے، ایک طرف تیرہ کتابیں ہیں اور دوسری طرف رضا علی عابدی کی ذات جو انسانوں میں ویلیو ایڈیشن کی ایک جیتی جاگتی تصویر ہیں۔‘

وہ منگل کو پاکستان آرٹس کونسل کراچی میں رضا علی عابدی کی کتاب ’ کتابیں اپنے آبا کی‘ کی پُر ہجوم تقریبِ اجرا سے خطاب کر رہے تھے۔ اس تقریب سے ان کے علاوہ آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ، خود رضا علی عابدی، سحر انصاری، شکیل عادل زادہ، ڈاکٹر جعفر احمد اور عقیل عباس جعفری نے بالترتیب خطاب کیا۔ جب کہ تقریب کی میزبانی کے فرائض وسعت اللہ خان نے انجام دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاشرے میں جو لوگ ماضی کی یاد دلا رہے ہیں اور مستقبل کے لیے امید افزا اشارے دے رہے ہیں وہ یقیناً قابل ستائش ہیں۔

کراچی آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے رضا علی عابدی کو آرٹس کونسل کی اعزازی رکنیت پیش کی اور ان کے کہنے پر حاضرین نے کھڑے ہو کر کئی منٹ تک تالیاں بجا کر رضا علی عابدی کو خراج تحسین پیش کیا۔

ان سے قبل رضا علی عابدی نےتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب بی بی سی کے جن پروگراموں پر مبنی ہے وہ چودہ ہفتے کے لیے منظور ہوئے تھے لیکن اپنی مقبولیت کے باعث ایک سو چالیس ہفتے تک چلے۔

انھوں نہ کہا جب وہ بی بی سی گئے تھے تو انھیں بتایا گیا تھا کہ اپنی آواز سے محبت کرو لیکن مجھ پر یہ کھلا کہ آواز سے نہیں اپنے سننے والوں سے محبت کرنی چاہیے اس کے بعد سے میں جب بھی مائیکرو فون کے سامنے گیا مجھے ہمیشہ یہ احساس رہا کہ مجھے کوئی سُن رہا ہے اور آج آپ سب کی یہاں ہونا مجھے یہ یقین دلا رہا ہے کہ میرا احساس درست تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ہوں، اس کا تو مجھے احساس تھا لیکن کس کے دم سے ہوں، اس کا بھی مجھے احساس ہے، اگر آپ نہ ہوتے تو میں بھی نہ ہوتا‘۔

استاد اور دانشور سحر انصاری نے کہا کہ رضا علی عابدی کی کتاب کو لازمی طور پر نصاب میں شامل کیا جانا چاہیئے کیونکہ یہ کتاب ایک پوری صدی کا احاطہ کرتی ہے اور تحقیق، تخلیق اور جستجو کے امتزاج کا بہترین نمونہ ہے۔

لیجنڈ کی شکل اختیار کر جانے والے سب رنگ ڈائجسٹ کے شکیل عادل زادہ نے کہنا تھا کہ ’ آپ اس کتاب کو شروع کریں تو آپ اسے پڑھتے ہی چلے جائیں گے اور آپ کو لگے گا کہ آپ اپنے آبا کے زمانے سے گذر رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ اس کتاب سے بھی علم ہوتا ہے کہ املا کی غلطیاں آج کا مسئلہ نہیں ہے اس کی ابتدا بھی ہمارے آبا ہی نے کی تھی۔ اس کتاب میں عابدی صاحب نہ صرف حیرت سے دوچار ہوتے ہیں بلکہ حیرت کو منتقل کرتے چلے جاتے ہیں۔

ان سے قبل ڈاکٹر جعفر احمد نے خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ رضا علی عابدی نے ایک ایسی کتاب لکھی ہے جو لوگوں کے ساتھ برسوں رہے گی۔ وہ کچھ اس طرح لکھتے ہیں کہ جس کے بارے میں وہ لکھتے ہیں جب آپ اسے دیکھتے ہیں تو پھر وہ آپ کو ویسی ہی دکھائی دینے لگتی ہے۔

انھوں نے جرنیلی سڑک کی مثال دی اور کہا کہ انھوں نے اس سڑک سے بارہا سفر کیا تھا لیکن جب رضا علی عابدی کی کتاب جرنیلی سڑک پڑھی تو اس کے بعد وہ سڑک صرف اسی طرح دکھائی دی جیسے عابدی صاحب نے دکھائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ عابدی صاحب کی اس کتاب میں جن کتابوں کا ذکر ہے ان سے اس زمانے کا پورا سماج ہمارے سامنے آتا ہے اور ہمیں اس پورے سماج کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

ان سے قبل محقق ، اور شاعر عقیل عباس جعفری نے کہا کہ انھوں نے رضا علی عابدی کا پروگرام کتب خانہ بی بی سی اردو سے ایک دن یونہی سُن لیا اور تب سے کم و بیش باقاعدگی سے اس پروگرام کو سننے لگے ۔ ہر ہفتے نشر ہونے والے اس پروگرام میں انڈیا آفس لائبریری یا برٹش میوزیم میں محفوظ اردو کی ان کتابوں کا تعارف کرایا جاتا تھا جو انیسویں صدی میں ہندوستان سے شائع ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کتاب سو کتابوں کی ایک کتاب ہے اور کتابیں بھی ایسی کہ جن میں سے نوے فی صد کے نام تک ہم میں سے اکثر نے سنے نہیں ہوں گے، مصنفوں سے واقفیت تو دور کی بات ہے۔

اسی بارے میں