بہاریوں پر کیا گزری اور کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

نام کتاب: آف مارٹیئرز اینڈ میری گولڈز

مصنفہ: عقیلہ اسماعیل

صفحات: 340

قیمت: 12 امریکی ڈالر

ناشر: کری ایٹو سپیس، نارتھ چارلسٹن، نارتھ کیرولائنا / ایمازون ڈاٹ کوم

بظاہر یہ ناول بنگلہ دیش کے ان پچیس برسوں پر پھیلا ہے جن میں سے چوبیس سال وہ مشرقی پاکستان رہا لیکن عملاً ناول مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے سے شروع ہوتا ہے اور اردو بولنے والے ایک خاندان کی ٹوٹ پھوٹ کے بعد مغربی پاکستان آنے کے فیصلے پر ختم ہوتا ہے۔ باقی حصے میں اس خاندان سمیت اردو بولنے والے دوسرے خاندانوں، خطے اور لوگوں کا پس منظر ہے۔

یہ حصہ اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس سے ہمیں علم ہوتا ہے بنگالیوں میں احساس محرومی کہاں سے اور کیسے پیدا ہو رہا تھا، تمام اہم عہدوں پر کون لوگ تھے اور کیسے رہتے تھے اور یہ بھی کہ فوجی آپریشن کا نشانہ مشرقی پاکستانی نہیں صرف بنگالی تھے۔ یہ باتیں مصنفہ نے بیان نہیں کیں لیکن اس تصویر میں دکھائی دیتی ہیں جو انھوں نے کھینچی ہے۔ ان کا بیان تو مرکزی خاندان کی شناخت اور اس کے ارکان کے خیالات اور تصورات کو سمجھانے کی کوشش ہے جو یہ بھی بتاتی ہے کہ بنگالیوں سے اردو بولنے والوں کی ہمدردی محدود اور گھریلو گفتگو سے زیادہ نہیں تھی۔

اس ناول کے دو اہم پہلو ہیں: ایک تو وہ جنون ہے جو چھوٹے بڑے واقعات، زیادتیوں اور عاقبت نا اندیشیوں سے قطرہ قطرہ جمع ہو کر ایسے ہتھیار کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو دوسروں کو تو ہلاک کرتا ہی ہے، اپنے استعمال کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کرتا اور دوسرا اہم پہلو ہے: محبت۔

عقیلہ کا اصل ناول ثوری اور رومی کی یہی محبت ہے جسے نفرت، بے یقینی، لاتعلقی اور چاروں طرف موجود جنون اور اس کے خطرات بھی متاثر نہیں کر سکے لیکن یہی محبت ہے جو آڑے آتی ہے اور انھیں ہمیشہ کے لیے الگ کر دیتی ہے۔

ثوری ناول کا مرکزی کردار ہے اس کے والد پاکستان بننے اور شادی کے فوراً بعد ہندوستان سے مشرقی پاکستان ہجرت کرتے ہیں اور سلہٹ میں ٹیلی کمیونیکیشن کے نائب انجینئر کی حیثیت سے زندگی شروع کرتے اور 1971 تک مشرقی پاکستان میں ٹیلی فون کے محکمے کے سربراہ کے عہدے تک ترقی کر جاتے ہیں۔ ڈھاکہ کے اس علاقے میں جہاں صرف اردو بولنے والے رہتے ہیں ان کا اپنا ذاتی مکان ہے۔ ان کے تین بچے ثوری، سمیع اور سادی یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جب کہ ایک بچی منی ابھی دس گیارہ سال کی ہے۔

سکول کے زمانے سے ثوری کے دوستوں کی اکثریت بنگالی بولنے والوں پر مشتمل ہے۔ مغربی پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے اور بنگلہ دیش بن جانے کے بعد ثوری کا خاندان بھی میرپور میں رہنے والے دوسرے اردو بولنے والوں کے خاندانوں کی طرح مکتی باہنی یا لبریشن فرنٹ کے لوگوں کی زیادتیوں کا شکار ہوتا ہے۔

میرپور کے ان خاندانوں کے مردوں میں جوانوں کو مارڈالا جاتا ہے بوڑھوں کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ عورتوں کے ساتھ ہر طرح کی زیادتیاں ہوتی ہیں یا انھیں لے جا کر مختلف مقامات پر قید کر دیا جاتا ہے۔

ثوری، ان کی بہن اور والدہ کو ایک دور دراز جگہ لے جا کر رکھا جاتا ہے، رومی کسی طرح ان کا پتا لگاتا ہے اور بنگلہ دیش کی فوج میں میجر بن جانے والے ایک مشترکہ دوست ہیرُو کی مدد سے فوجی جیپ میں انہیں وہاں سے نکال کر گھر لے جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں رومی کو خود اس کا نوجوان ہمسایہ اغوا کر لیتا ہے اور بنگلہ دیش کے غداروں کو پناہ دینے کے جرم میں قتل کرنے ہی والا ہوتا کہ ہیرُو کو اطلاع ملتی ہے اور وہ جا کر اسے بچا لیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصنفہ: عقیلہ اسماعیل

اس واقعے کے بعد رومی کو بتائے بغیر ثوری محض اس لیے کہ رومی اور اس کے خاندان پر ان کی وجہ سے کوئی اور مصیبت نہ ٹوٹے اپنی والدہ اور بہن کو لے کر خاندان کے ایک شناسا کے گھر منتقل ہو جاتی ہے جو انہیں اپنے گھر میں مہمانوں کی بجائے ملازم کے طور پر رکھتے ہیں۔ لیکن رومی پھر انہیں ڈھونڈ نکالتا ہے۔ اس کے بعد وہ ثوری کے ساتھ مل کر اس کے والد کو تلاش کر لیتا ہے جو ایک جیل میں بند ہیں اور ذہنی توازن کھو چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ثوری کے بھائیوں سمیع اور سعدی کی تلاش جاری رہتی ہے لیکن بڑی تلاش کے بعد ثوری اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ دونوں مارے جا چکے ہیں۔ ثوری کے والد کو جیل سے رہائی مل جاتی ہے اور ان کا کچھ علاج شروع ہوتا ہے اور ثوری ریڈ کراس کی مدد سے پاکستان آنے کے انتظامات کو آخری شکل دیتی ہے۔

یہ ناول ان تمام لوگوں کو ضرور پڑھنا چاہیے جو ناول لکھنے کا ارادہ رکھتے ہوں۔ کیونکہ اس سے ہمیں یہ علم حاصل ہوتا ہے کہ اگر لکھتے ہوئے آپ کے ذہن میں مقصد اور ممکنہ پڑھنے والے ہوں تو کیا کیا خطرے ہو سکتے ہیں اور خاص طور پر جب ناول کے لیے تاریخ کا مواد استعمال کیا جاتا ہے تو وہ سارے سوال پڑھنے والوں کے ذہن کے لیے ناول کی اصل تک پہنچنے میں کیوں رکاوٹ بن جاتے ہیں جو دراصل تاریخ اور مورخ سے کیے جانے چاہیں۔

مجھے خدشہ ہے کہ عام قاری اور مبصر اسے ناول کے طور پر نہیں تاریخ کے ایک ایسے حصے کے طور پر پڑھیں گے جو اب تک لکھا نہیں گیا تھا اور شاید یہی مقصد ناول لکھتے ہوئے عقیلہ اسماعیل کے ذہن میں بھی تھا۔ لیکن کیا تاریخ کے لوگ اسے تاریخ کہ طور پر قبول کریں گے؟ البتہ سیاسی سماجیاتی مطالعے کے لیے یہ ناول ضرور ناگزیر اور اہم رہے گا۔

اسی بارے میں