’ورکنگ ود شارکس‘: جنسی ہراس کا سامنا

+ تصویر کے کاپی رائٹ

نام کتاب: ورکنگ ود شارکس (Working with Sharks)

جنسی ہراس کا سامنا کیسے کیا جائے

مصنف: فوزیہ سعید

صفحات: 438

قیمت: 795 روپے / 22 امریکی ڈالر

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

جنسی ہراس کیا ہے؟ کچھ عرصہ پہلے تک پاکستان، شاید پورے برصغیر یا دنیا کے ایک بڑے حصے تک کو اس بارے کچھ علم نہیں تھا۔ جب تک کسی چیز، روّیے، طرزِ عمل یہاں تک کہ وجود کو بھی کوئی نام نہیں ملتا اس کا ہونا نہ ہونے کے برابر رہتا ہے۔ جب سے یہ اصطلاح سامنے آئی ہے یہ عمل ہمیں دکھائی بھی دینے لگا ہے اور محسوس بھی ہونے لگا ہے۔

ڈاکٹر فوزیہ نے اپنی اس نئی کتاب سے پہلے بھی کئی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی غالباً پہلی کتاب ٹیبو 2001 (Taboo) اور اس کا اردو ترجمہ کلنک اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، پاکستان سے شائع ہوئے، اس کے علاوہ ان دو کتابیں ’ویمن اِن فوک تھیٹر‘ اور ’ویمن اِن بونڈیج‘ شائع ہوئی ہیں۔ انہوں نےگریجویشن تک تعلیم پشاور سے حاصل کی اور پھر ڈاکٹریٹ منی سوٹا، امریکہ سے کی، جس کے لیے انھوں نے امریکہ میں آٹھ سال گزارے۔

اس کے بعد وہ پاکستان واپس آئیں اور اس عزم سے کام شروع کیا کہ پاکستانی عورتوں کے حالات میں تبدیلی لائیں گی۔ انھوں نے اتنا کچھ کیا ہے کہ ایک مضمون اس کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ کتاب تھوڑے سے حصے کے سوا، تمام کی تمام اس عرصے کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جو ڈاکٹر فوزیہ نے یونائیٹڈ نیشن ڈویلپمنٹ پروگرام، یو این ڈی پی میں گزارا۔

ورکنگ ود شارکس یو این ڈی پی میں ڈاکٹر فوزیہ اور وہاں کام کرنے والی دوسری دس خواتین کی جنسی ہراس کے خلاف آواز اٹھانے اور اس کے مقابل کھڑے ہونے کی کہانی ہے۔ ان دس خواتین میں سے سات پاکستانی تھیں، ایک جاپانی، ایک ڈچ اور ایک برطانوی۔

اس کا سلسلہ یوں شروع ہوتا ہے کہ جب ایک خاتون نے یو این ڈی پی کے ایک سینیئر منیجر کی جنسی پیش رفتوں کا جواب سرد مہری سے دیا تو اسے ملازمت سے نکال دیا گیا۔ اس برطرفی نے خواتین کے درمیان باہمی گفتگو کے دروازے کھول دیے اور کھلا کہ ان میں بیشتر کو مذکورہ سینئر منیجر سے یکساں شکایتیں ہیں۔

آخر 22 دسمبر1997 کو گیارہ خواتین نے مذکورہ منیجر کے خلاف جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کی باقاعدہ شکایت داخل کی۔ اس کے بعد کس طرح پہلے تمام اعلیٰ انتظامیہ مذکورہ سینیئر منیجر اور اس کے ساتھیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہوئی اور کیسے انھوں شکایت کرنے والیوں کا ناک میں دم کیا، کتاب اس کی پوری تفصیل مہیا کرتی ہے۔

لیکن پوری کوشش کے باوجود معاملہ دبا نہیں اور آخرِ کار پورے دو سال کے بعد فیصلہ ہوا اور مذکورہ منیجر ان کا ساتھ دینے والوں کو نکالنا ہی پڑا۔ لیکن انہوں نے پاکستانی عدالت میں برطرفیوں کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا اور یو این ڈی پی کو اپنے استثنٰی کا سہارا لینا پڑا۔ معاملہ ختم ہو گیا لیکن اپنے پیچھے بہت سارے سوال اور یادیں چھوڑ گیا جنھوں نے ’ورکنگ ود شارکس‘ کی شکل اختیار کر لی۔

ذاتی یادداشتوں کا یہ بیانیہ دھیما، پُر کشش اور اثر انگیز ہے۔ پڑھتے ہوئے بہت سی باتیں فوری متاثر نہیں کرتی لیکن کتاب ختم کرنے کے بعد ان کا تانا بانا بنتا چلا جاتا ہے اور نئے نئے معنی کھلتے چلے جاتے ہیں۔

ضرور آپ کے ذہن میں بھی یہ سوال پیدا ہو گا کہ آخر ایسا کیوں ہے کہ دنیا میں اکثر عورتیں جنسی ہراس کو مقدر کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتی ہیں؟ کیا اس لیے کہ انھیں اس زیادتی کے خلاف آواز اٹھانا نہیں آتی؟ شاید اس کی وجہ بھی مرد ہیں جو اپنی بیویوں، بہنوں اور بیٹیوں کی شکایتوں کا بوجھ تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔

ایسے مردوں کی نظر میں سارے مسئلے کا حل یہ ہے کہ خواتین گھر سے ہی نہ نکلیں، نکلیں تو پھر سب کچھ خاموشی سے برداشت کریں۔ اس کہانی میں بھی آپ کو ایسے کردار دکھائی دیں گے جو مصلحت کوشی اور مفاد پرستی کی وجہ سے نہ دیکھتے ہیں، نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یہ کتاب ڈاکٹر فوزیہ سعید کے یو این ڈی پی میں گزارے گئے وقت کی یادداشتوں پر مبنی ہے

ڈاکٹر فوزیہ اس بارے میں اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں بھی بالکل واضح ہیں۔ وہ مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’آپ کی سوچ اور اصول پسندی کا اصل اظہار نہ تو اُس شور شرابے سے ہوتا ہے جو آپ سیمیناروں میں کرتے ہیں اور نہ ہی ان آنسوؤں سے جو آپ ٹی وی سکرین پر بیٹھ کر بہاتے ہیں بلکہ آپ کے عمل سے ہوتا ہے۔ آپ لوگ احتساب اور برابری کے حق میں لمبے لمبے لیکچر دیتے ہیں لیکن جہاں آپ کو خود ضرورت ہوتی ہے وہاں بے اصولی کرتے ہوئی ایک لمحہ بھی نہیں جھجھکتے، آپ کے دوست درست ہوں یا غلط آپ انھیں بچانے کے لیے سارے اصول بالائے طاق رکھ دیتے ہیں‘۔

سنا ہے کہ فہمیدہ ریاض اس کتاب کو اردو میں منتقل کر رہی ہیں، ٹیبُو کو بھی کلنک میں انہی نے تبدیل کیا تھا۔ یہ کتاب کی خوش نصیبی ہے۔

لیکن ساری باتوں کے باوجود یہ کتاب ان عورتوں کو پیش آنے والے جنسی ہراس کے بارے میں نہیں ہے جو بہت بڑی تعداد میں ہیں لیکن یہ اشارہ ضرور دیتی ہے کہ اگر اوپر کی سطح پر یہ کچھ ہو رہا ہے تو نیچے کیا کچھ نہیں ہو رہا ہو گا۔

بہر صورت یہ کتاب اکثریت کے لیے انتہائی پُر لطف اور درد انگیز مطالعہ ثابت ہو گی۔

اسی بارے میں