’مجھے گھٹن ہوتی ہے‘

ابھے دیول
Image caption ابھے دیول سنجیدہ فلموں میں کام کرتے ہیں

حال میں ریلیز ہوئی فلم شہنگائی میں ابھے دیول نے ایک اعلی سرکاری اہلکار کا کردار نبھایا ہے جو اصول پابند ہیں اور سرکاری حلقوں میں بدعنوانی ان کو گھٹن کا احساس دلاتی ہے۔

وہ کون سے چیزیں ہیں جو اصل زندگی میں انہیں پریشانی کرتی ہیں۔ ابھے دیول کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر بھیک مانگتے بچے، غریبی کی زندگی گزار رہے لوگ اور بدعنوانی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ابھے دیول نے کہا ’جب میں سڑک پر بچوں کو بھیک مانگتے ہوئے دیکھتا ہوں تو مجھے بے حد تکلیف ہوتی ہے۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ ایک جانب باتیں ہو رہی ہیں کہ ہمارا ملک ترقی کر رہا ہے اور دوسری جانب گودام میں پڑا اناج سڑ رہا ہے تو مجھے گھٹن ہوتی ہے۔ مجھے بے حد تکلیف ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ ہمارے ملک کی آبادی کا بڑا حصہ بھوکے پیٹ سوتا ہے۔‘

شہنگائی فلم میں ابھے دیول کا کردار ایک ایماندار افسر کا ہے۔ فلم میں ان کے کردار کی تعریف ہو رہی ہے تاہم فلم کے بارے میں تنقید کی جا رہی کہ فلم بدعنوانی جیسے مسئلے کو صحیح سے پیش نہیں کیا گیا۔

اس پر ابھے دیول کا کہنا تھا ’دراصل ہمارے یہاں فلم دیکھنے والوں کو کہانی میں ڈرامہ بہت پسند آتا ہے۔ ساری چیزیں آسانی سے سمجھ میں آجائیں اور آخر میں ہیرو بدلا لینے میں کامیاب ہوجائے بس یہ چاہیے ہمارے مداحوں کو۔ لیکن شہنگائی میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔‘

شہنگائی فلم کے بعد ابھے دیول ’چکرویو‘ فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں۔

ابھے دیول اس سے پہلے ’ڈیو دی‘، ’اوے لکی لکی اوے‘ اور ’منورما سکس فٹ انڈر‘ جیسی فلموں میں کام کرچکے ہیں اور ان ساری فلموں میں ابھے دیول نے بے حد سنجیدہ کرداروں کو خوبصورتی سے نبھایا ہے۔

ابھے دیول کی فلمیں باکس آفس پر ہٹ ہوں یا نہ ہوں لیکن ان کی ادکاری کی ہمیشہ تعریف ہوتی ہے۔

اسی بارے میں