مشہور پشتو گلوکارہ کو قتل کر دیا گیا

غزالہ جاوید تصویر کے کاپی رائٹ bb
Image caption غزالہ جاوید کا تعلق سوات سے تھا اور آج کل وہ افغانستان میں مختلف ثقافتی پروگرامز میں حصہ لے رہی تھیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے پشتو کی مشہور گلوکارہ غزالہ جاوید کو ان کے والد سمیت گولیاں مار کر قتل کردیا ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام پشاور شہر کے علاقے ڈبگری گارڈن میں پیش آیا۔ شاہ قبول پولیس سٹیشن کے انچارج نعیم خٹک نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ مرحومہ کی بہن فرحت بی بی کے مطابق غزالہ جاوید کے سابق شوہر جہانگیر اپنے دو ساتھیوں سمیت ان کے مکان میں داخل ہوئے اور پستول سے اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں انکی بہن اور والد ہلاک ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ مرحومہ کی بہن اس حملے میں معجزانہ طور پر محفوظ رہی۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے ان کی گرفتاری کےلیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ادھر خیبر پختونخوا کی ثقافتی تنظیموں، شاعروں اور گلوکاروں نے غزالہ جاوید اور ان کے والد کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

کلچرل جرنلسٹس فورم کے صدر احتشام طورو نے اپنے ایک بیان میں نوجوان گلوکارہ غزالہ جاوید کی ہلاکت کو پشتو موسیقی کےلیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ غزالہ جاوید پشتو زبان کی مشہور گلوکارہ تھی۔ ان کا تعلق وادی سوات سے تھا۔

دو ہزار چھ اور سات میں جب سوات میں شدت پسندی کے باعث حالات بگڑنے لگے تو غزالہ جاوید خاندان سمیت وہاں سے ہجرت کرکے پشاور منتقل ہوئیں۔ یہاں آکر انہوں نے ٹی وی پروگراموں میں حصہ لینا شروع کیا اور اس طرح بہت کم وقت میں انہوں بڑی شہرت حاصل کی۔

بتایا جاتا ہے کہ اس دوران غزالہ جاوید نے جہانگیر نامی ایک امیر شخص سے شادی کرلی لیکن یہ شادی زیادہ دیر نہیں چل سکی اور جلد ہی میاں بیوی میں ناچاقی پیدا ہوئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں نے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کر لی۔

غزالہ جاوید آج کل زیادہ تر وقت افغانستان میں گزارتی تھیں جہاں وہ مختلف پروگرامز اور شوز میں شرکت کرتی تھیں۔ وہ حال ہی میں پشاور واپس آئی تھیں۔

اسی بارے میں