ذات پات کے تعصبات پر عامر خان کا پروگرام

آخری وقت اشاعت:  اتوار 8 جولائ 2012 ,‭ 11:33 GMT 16:33 PST
عامر خان

عامر خان اپنے ٹی وی شو کے ذریعے سماجی برائیوں کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔

بالی ووڈ کے معرو‌ف اداکار عامر خان اپنے ٹی وی شو ‘ستیہ مے وجیتے’ یا ‘سچ کی جیت’ کے ذریعے سماجی مسائل کو اٹھاتے ہیں اس بار انھوں نے ذات پات جیسے حساس مسئلے پر اپنا پروگرام پیش کیا ہے۔

اس سے قبل انھوں نے اپنے شوز میں شراب نوشی کی لعنت اور جہیز کے مسائل پر پروگرام پیش کیے تھے۔

عامر خان نے اپنے اس شو کی پہلی پیشکش میں اسقاطِ حمل اور رحم مادر میں ہی لڑکیوں کو مار دینے اور دوسرے شو میں بچوں کے جنسی استحصال کو اپنا موضوع بنایا تھا۔

اس شو میں انھوں نے بھارت کے دلت سماج یعنی پسماندہ ذات سے آنے والے لوگوں کے تئیں تعصبات دکھانے پر اس طبقے کے لوگوں سے بات بھی کی اور ان تعصبات کے خلاف کام کرنے والے لوگوں کی باتوں کو بھی پیش کیا۔

عامر خان نے ہندو مذہب کے علاوہ مسلمانوں، سکھوں اور عیسائیوں میں در آئے چھواچھوت پر بھی روشنی ڈالی۔

اس پروگرام میں انھوں نے ہریانہ کے ایک دلت علاقے سے تعلق رکھنے والی دلی یونیورسٹی میں سنسکرت کی استاد ڈاکٹر کوشل پوار سے گفتگو کی جنھوں نے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہا کہ کس طرح ان کے اسکول میں اونچی ذات کے بچوں کی ڈریس سفید یا گلابی ہوتی تھی جبکہ ان کے سماج سے آنے والے لوگ نیلے رنگ کا کپڑا پہنتے تھے تاکہ دور سے ہی ان کی شناخت ہو سکے۔

"ایک بار ہمیں کافی پیاس لگی تھی، پاس میں ہی برہمنوں کے گھر تھے۔ ہم وہاں پانی پینے گئے۔ باقی بچوں نے کچھ نہیں کہا مگر جب میں پانی پینے لگی تو گھر کی مالکن بولی—چوڑے چمار ہوکر کیا کر رہی ہو نلکا کھارا پانی دینے لگے گا— اس کے بعد مجھے پانی نہیں دیا گیا"

ڈاکٹر کوشل پوار

انھوں نے بتایا کہ اسکول کے دوران انھیں کئی بار یہ احساس دلایا گیا کہ وہ دلت طبقے سے آتی ہیں اور وہ دوسروں سے الگ ہیں۔

ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ایک بار ہمیں کافی پیاس لگی تھی، پاس میں ہی برہمنوں کے گھر تھے۔ ہم وہاں پانی پینے گئے۔ باقی بچوں نے کچھ نہیں کہا مگر جب میں پانی پینے لگی تو گھر کی مالکن بولی’چوڑے چمار ہوکر کیا کر رہی ہو نلکا کھارا پانی دینے لگے گا‘ اس کے بعد مجھے پانی نہیں دیا گیا۔

ان کے مطابق انہیں تو جواہرلعل نہرو یونیورسٹی کے ہاسٹل میں بھی اس کا سامنا رہا جہاں ان کی ایک برہمن ساتھی نے ان سے کمرا خالی کروانے کی کافی کوشش کی۔

اسی طرح سنہ انیس سو سینتالیس میں ہندوستان کی آزادی کے زمانے میں آئی اے ایس بننے کا مصمم ارادہ کرنے والے بلونٹ سنگھ نے اس زمانے میں اپنی آپ بیتی بتائی۔

بلونت سنگھ کے مطابق، ’آئی اے ایس بھی ذات پات کے تعصبات سے پاک نہیں ہے۔ میں اس زمانے میں جس پیالی میں چائے پیتا تھا، میرا چپراسی اسے اٹھانے سے گریز کرتا تھا کیونکہ وہ برہمن طبقے سے آتا تھا۔ میں افسر ضرور تھا لیکن آئی اے ایس بعد میں تھا پہلے چمار تھا‘۔

ان حالات سے پریشان ہوکر بلونت سنگھ نے انیس سو باسٹھ میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔

اسی تعلق سے اڑیسہ کے ایک مندر کا بھی ذکر ہوا جہاں تین دلت لڑکیوں کو کالی کے ایک مندر میں نہیں داخل ہونے دیا گیا۔

اس پروگرام میں عامر نے گوا کے ایک فلم ساز اسٹالن کے پدما سے بھی بات کی جنھوں نے چھواچھوت پر مبنی اپنی فلم 'انڈیا انٹچڈ‘ ' کے کچھ حصے بھی دکھائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔