’گینگ آف واسع پور ون بنانا مشکل کام تھا‘

انوراگ کشیپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انوراگ کشیپ کی فلم ' دیو ڈی' بے حد مقبول ہوئی تھی

اس ہفتے نمائش کے لیے پیش کی جانے والی ہندی فلم گینگ آف واسع پور ٹو کی بے حد تعریف ہو رہی ہے۔ فلم کے ہدایت کار انوراگ کشیپ کا کہنا ہے کہ فلم کا پہلا حصہ بنانا زیادہ مشکل کام تھا اور اس کے بناتے وقت وہ کافی پریشان تھے۔

ڈیو ڈی، بلیک فرائڈے، جیسی فلمیں بنانے والے انوراگ کشیپ کی نئی فلم’گینگ آف واسع پور‘ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ فلم کا پہلا حصہ دو ماہ پہلے نمائش کے لیے پیش ہوا تھا جو کہ بے حد کامیاب فلم ثابت ہوئی تھی۔ فلم کی کہانی بہار کے واسع پور ضلع میں کوئلہ مافیہ پر مبنی ہے۔

فلم کا دوسرا حصہ یعنی ’گینگ آف واسع پور ٹو‘ اس ہفتے نمائش کے لیے پیش کی گئی ہے۔

انوراگ کشیپ نے بی بی سی کو ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا ہے کہ گینک آف واسع پور ون بناتے وقت وہ بے حد پریشان تھے کیونکہ فلم کی کہانی شروع کرنی تھی، واسع پور کے بارے میں بتانا تھا، آزادی سے پہلے کے وقت کو سمجھانا تھا اور کوئلہ مافیہ کے بارے میں بتانا تھا۔ اس فلم میں بہت زیادہ دستاویزی پہلو تھے۔ ’اس کے بارے میں ہم بہت نروس تھے کہ انتا کچھ کیسے بتائیں۔‘ فلم کے دوسرے حصے میں کچھ بھی ایسا نہیں تھا۔ سارے کرداروں کا پہلے سے تعارف ہوچکا تھا۔ صرف کہانی آگے بڑھنی تھی۔

جب انوراگ کشیپ سے پوچھا گیا کہ ان کی فلموں کے کردار بہت مختلف ہوتے ہیں اور ان کی اداکاری بے مثال ہوتی ہے تو کیا وہ ان اداکاروں کو تلاش کرنے کے لیے بہت محنت کرتے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پہلے محنت کرتا تھا اچھے اداکاروں کی تلاش کرتا تھا لیکن اب تو لوگ خود سب ہمارے پاس آجاتے ہیں۔ اب کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی ہے‘۔

انوراگ کشیپ کی فلم گینگ آف واسع پور دیکھنے والوں میں ایک طبقہ ایسا ہے جو انوراگ کشیپ سے اس لیے ناراض ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ فلم میں بے ہودا زبان استعمال ہوئی ہے اور فلم میں بے حد گالیاں اور تشدد ہے۔

اس بارے میں انوراگ کشیپ کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو صرف ایک طرح کے سنیما دیکھنے کی عادت پڑگئی ہے۔ وہ ایک فکسڈ طرح کی فلمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ لوگ اس لیے ان گالیوں کو سن کر نہیں گھبراتے ہیں کہ انہوں نے پہلے کبھی گالیاں سنی نہیں ہوتی ہیں۔ وہ اس لیے گھبراتے ہیں کہ اس سب کا اثر کیا ہوگا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اوپر بہت زیادہ ذمہ داری لے لیتے ہیں جو کہ انہیں نہیں لینی چاہیے۔‘

انوراگ کشیپ کا شمار ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے گزشتہ کچھ برسوں میں بھارتی سنیما کو ایک نیا رخ دیا ہے۔ ان کا شمار ان ہدایت کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے ناچ گانے اور کھوکھلی کہانیوں کو چھوڑ کر حقیقی کہانیاں اور کرداروں کو سنیما کے پردے پر جگہ دی ہے۔

اسی بارے میں