ہندی سینما کا بدلتا چہرہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 10 اگست 2012 ,‭ 15:30 GMT 20:30 PST
گینگ آف واسع پور

گینگ آف واسع پور ایک ہٹ فلم قرار دی گئی ہے

گزشتہ کچھ برسوں میں ہندی سنیما میں ان کہانیوں کو پردۂ سیمیں پر پیش کیا گیا ہے جس میں ہیروئن کے درختوں کے اردگرد گھومنے اور افسانوی دنیا میں رومانس سے زيادہ بہت کچھ ہے۔

ان فلموں کی حقیقی کہانیوں میں حقیقی کرداروں کو جگہ دی گئی ہے اور یہ فلمیں پسند بھی کی جارہی ہیں۔ کم بجٹ کی یہ بیشتر فلمیں کسی ایک فارمولے کی محتاج نہیں ہیں۔ لیکن کیا ’حقیقت‘ دکھانا آسان کام ہے؟ اور کیا عوام اس کے لیے پوری طرح تیار ہے؟

حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم ’گینگ آف واسع پور‘ ایک ایسی فلم ہے جو کہ بہار کے دھنباد علاقے کے ضلع واسع پور میں کوئلہ مافیا کی کہانی ہے۔ فلم میں بے حد تشدد اور لوٹ مار ہے جو کہ کہانی کا اہم حصہ ہے۔

فلم میں موسیقی سے لے کر، کہانی کے کردار اور اداکار سب کو حقیقت سے جوڑنے اور اس کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ فلم میں بیشتر اداکار ایسے ہیں جنہوں نے پہلے یا تو اداکاری نہیں کی ہے یا پھر وہ ایک دو فلموں میں چھوٹے کرداروں میں نظر آئے ہیں۔ یہاں تک کہ فلم کا میوزک عام مقامات پر ریکارڈ کی گئی آوازیں اور مقامی گلوکاروں کے گائے نغموں سے تیار کیا گیا ہے۔

ہدایت کار انوراگ کشیپ کی فلم گینگ آف واسع پور دو حصوں پر مشتمل فلم ہے۔ فلم کا پہلا حصہ تین ماہ پہلے ریلیز ہوا تھا اور دوسرا حصہ اب ریلیز ہوا ہے۔ فلم کو بے حد پسند کیا گيا۔ انوراگ کشیپ کی اس بات کی تعریف ہوئی کہ انہوں نے بغیر نغمات اور رقص کا سہارا لیے بغیر ایک ایسی کہانی پیش کی ہے جس میں سب کچھ ’اصل‘ لگتا ہے۔ لیکن ایک گروپ ایسا بھی جو کہتا ہے کہ ’فلم میں بات بات میں گالیاں اور مار پیٹ بےہودگی ہے‘۔

جب انوراگ کشیپ سے یہ پوچھا گیا کہ فلم میں جو گالیوں کا استعمال ہے اس سے بہت لوگ ناراض ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’لوگوں کو ایک طرح کا سنیما دیکھنے کی عادت پڑگئی ہے۔ وہ گالیاں دیکھ کر اس لیے پریشان نہیں ہوتے کہ انہوں نے گالیاں سنی اور دی نہیں ہیں بلکہ وہ اس لیے پریشان ہوتے ہیں کیونکہ وہ سوچتے ہیں کہ اس کا لوگوں پر کیا اثر پڑے گا۔ وہ سماج میں فلاح کا کام کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیتے ہیں۔ جو کہ انہیں نہیں کرنا چاہیے‘۔

گینگ آف واسع پور ون میں اداکار منوج واجپئی نے سردار خان نامی مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اس فلم میں وہ ایک مقامی لیڈر رندھیر سنگھ سے اپنے والد کی ہلاکت کا بدلہ لیتے ہیں۔ بی بی سی نے ایک انٹریو میں منوج واجپئی سے پوچھا تھا کہ انہوں نے فلم میں اتنی گالیاں دی ہیں یہ کہاں تک صحیح ہے۔ ان کا کہنا تھا ’گالیاں ہمارے کلچر کا حصہ ہے اور ہمیں اس سے انکار نہیں کرنا چاہیے۔ اصل زندگی میں ہم سب گالیاں دیتے ہیں‘۔

منوج واجپئی

منوج واجپئی نے گینگ آف واسع پور ون میں اہم کردار ادا کیا ہے

گینگ آف واسع پور گزشتہ برسوں میں ریلیز ہونے پہلی ایسی فلم نہیں ہے جس میں گالیوں کا استعمال ہوا ہو، یا جس میں اصل زندگی کی عکاسی کرنے کی کوشش میں وہ سب نہ دکھایا گیا ہو جو اب تک کی ’صاف ستھری‘، ڈیزائنر سیٹس اور افسانوی کہانیوں والی فلموں میں نہیں دکھایا جاتا تھا۔

ممبئی میں مقیم ’ڈیئر سنیما‘ ویب سائٹ کے مدیر بکاس مشرا کا کہنا ہے کہ ’یہ بات بالکل صحیح ہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں بالی وڈ میں بہت کچھ بدلا ہے۔ ایسی کہانیوں کو پردے پر اتارنے کا موقع ملا ہے جو اس سے پہلے کبھی ممکن نہیں تھا۔ اب تک بالی وڈ میں یا تو رومانس بکتا تھا یا ہیرو اور ولن کے درمیان رنجش کی کہانی اور اس میں ’مائنڈ لیس‘ گانے ہوتے تھے اور یہ کام ہیروئن کا ہوتا تھا۔ لیکن اب مختلف طرح کی کہانیوں پر مبنی فلمیں بن رہی ہیں‘۔

وہیں نیویارک فلم سکول میں بھارتی سنیماپر پی ایچ ڈی کر رہیں سکالر دیبوشری مکھرجی کا کہنا ہے کہ ’سنجیدہ فلمیں بن رہی ہیں اور لوگ انہیں پسند بھی کررہے ہیں۔ لیکن حقیقی یا ریئلٹی کے قریب مانی جانے والی یہ فلمیں کبھی کبھی بے حد سنجیدہ ہوتی ہیں۔ ان میں ہیومر کا استعمال کم ہے۔ جو کہ حقیقی نہیں ہے۔ میں فلم ’شنگھائی‘ کی مثال دیتی ہوں کہ وہ فلم سرکار کی جانب سے کمرشل عمارتیں بنانے کے لیے غریبوں کسانوں کی زمین لینے کےموضوع پر بنی فلم ہے لیکن فلم میں ہیومر یا مزاحیہ پن نہ کے برابر ہے۔ تو ڈر اس بات کا کہیں اس طرح کی فلمیں صرف اس لیے لوگ نا پسند نہ کرنے لگیں کہ وہ کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہیں‘۔

بی بی سی نے گزشتہ کچھ دن پہلے شنگھائی فلم کے ہدایت کار دیبکاکر بینرجی سے انٹریو کیا تھا جس میں ان پوچھا گیا تھا کہ ان کی فلم بہت لوگوں کو سمجھ میں نہیں آئی کیونکہ فلم کی کہانی روایتی انداز سے ہٹ کر ہے تو ان کا کہنا تھا ’میرا کام اپنے طریقے سے فلم بنانا تھا۔ مجھے معلوم ہے کچھ لوگوں کو فلم اچھی لگے گی اور کچھ نہیں اچھی لگے گي‘۔

بکاس مشرا کہتے ہیں کہ بالی وڈ میں ابھی بھی کمرشل طور پر ہٹ اداکار جیسے عامر خان اور سلمان خان کا بول بولا ہے اور ابھی بھی پرڈیوسر اس طرح کی فلموں میں رقم لگانا محفوظ سمجھتے ہیں جس میں بڑے سٹار ہوں اور آئٹم سانگ ہوں۔

ان کا کہنا ہے کہ سنجیدہ موضوعات پر فلمیں بننا ضروری ہے اور شاید آئندہ ایسی اور زيادہ فلمیں بنیں گی لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ان فلموں کو حقیقت سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی جوڑنا ضروری ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر گالیاں کہانی کا حصہ ہیں تو ٹھیک ہیں لیکن صرف ’حقیقت‘ دکھانے کے نام پر گالیاں ٹھوسنی ہیں کہانی میں تو ہمیں بہت آگے نہیں لے جائیں گی'۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔