طالبان شاعری کیوں کرتے ہیں؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 17 اگست 2012 ,‭ 23:37 GMT 04:37 PST

آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے ’طالبان کی شاعری‘ کے نام سے افغانسان کے طالبان کی دو سو ایسی نظموں کا انتخاب اور انگریزی ترجمہ شائع کیا ہے جو سنہ انیس سو نوے کے بعد لکھی گئیں۔

اس کتاب کا اجرا آکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان کی منیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید کی رہائش گاہ پر بدھ کی شام کو دیے جانے والے افطار عشائیہ میں ہوا جس میں آکسفرڈ کی عمومی تقاریب اجرا کے برخلاف مہمانوں کے محدود تعداد نے شرکت کی۔

’پوئٹری آف دی طالبان‘ نامی اس کتاب میں شامل افغان اور دری نظموں کو الکس سٹرک وان لنسکوٹن اور فیلکس کوہن نے ایڈٹ کیا ہے۔

تقریب میں فیلکس کوہن موجود تھے تاہم الکس وان بہ وجوہ شرکت نہیں کر سکے تھے۔

تقریب کے میزبان ڈاکٹر آصف فرخی تھے جنھوں نے کتاب اور مصنف کا تعارف کرایا۔ ان کے شریک میزبان عمیر رضی تھے۔

فیلکس نے کتاب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس کتاب میں جو نظمیں ہیں وہ مختلف لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ نظمیں مختلف ویب سائٹس، افغانستان میں فروخت ہونے والی سی ڈیز سے حاصل کی گئی ہیں اور بہت سی نظمیں ایسی بھی ہیں جو ریکارڈ کی گئیں اور پھر انھیں ٹرانسکرائب اور ترجمہ کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ افغانستان میں حکومت تمام ایسی ویب سائٹس کی نگرانی کرتی ہے اور اس بات کا جائزہ لیتی رہتی ہے کہ ان پر شائع ہونے والی ایسی نظموں میں کوئی خفیہ پیغام نہ ہو لیکن اس کے باوجود آپ انھیں محض نظمیں ہی نہیں پیغامات بھی سمجھ سکتے ہیں۔‘

"اگرچہ افغانستان میں حکومت تمام ایسی ویب سائٹس کی نگرانی کرتی ہے اور اس بات کا جائزہ لیتی رہتی ہے کہ ان پر شائع ہونے والی ایسی نظموں میں کوئی خفیہ پیغام نہ ہو لیکن اس کے باوجود آپ انھیں محض نظمیں ہی نہیں پیغامات بھی سمجھ سکتے ہیں۔"

فیلکس کوہن

فیلکس کا کہنا تھا کہ انھیں کتاب میں شامل نظموں میں بیان کیے گئے مواد نے اپنی طرف متوجہ کیا۔ یہ نظمیں سنہ انیس سو نوے سے سنہ دو ہزار ایک کے درمیان کی ہیں۔ ان کے لکھنے والے مختلف ہیں اور ان میں ایسی نظمیں بھی شامل ہیں جن کے لکھنے والوں نے اپنے نام ظاہر نہیں کیے لیکن ایسی نظمیں بہت کم ہیں۔

فلکس نے بتایا کہ ان نظموں پر پرپیگنڈہ ہونے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے لیکن ان میں سے بیشتر ذاتی جذبات اور محسوسات پر مبنی ہیں پھر بھی یہ نظمیں بہت سے لوگوں کے لیے قدرے تکلیف یا اذیت کا باعث ہو سکتی ہیں، بہر صورت کچھ لوگوں کے لیے ان کا پڑھنا ایک آزمائش اور امتحان ضرور ہو گا۔

نظموں پر کی جانے والی تنقید کے بارے میں فیلکس کا کہنا تھا کہ کچھ لوگو ں کے مطابق ان نظموں کو جمع اور مرتب کرنے کا مطلب طالبان کو ’انسان‘ ثابت کرنا ہے۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے’انسان تو وہ ہیں، اور ان کا ایک علاقہ ہے افغانستان۔‘

نظموں کی ہئیت کے بارے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں فیلکس نے کہا کہ ان نظموں کا پیرایہ روایتی ہے اور ان میں سے کچھ غزل کی ہئیت میں بھی ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر وہ اسے عام پشتو اور دری شاعری سے الگ نہیں کہہ سکتے۔

پروگرام کے دوسرے حصے میں ان کتابوں پر گفت گو ہوئی جو الکس اور فیلکس کی مشترکہ تخلیق ہیں۔

فیلکس نے اس حصے کے میزبان عمیر کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کتاب ’این اینیمی وی کری ایٹیڈ‘ القاعدہ اور طالبان کے سنہ انیس سو ستر سے سنہ دو ہزار دس تک کے باہمی تعلقات کی تفصیل ہے اور اس میں خاص طور پر اس عرصے کے دوران افغانستان کے سماجی اقتصادی اور تعلیمی شعبوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔

"اس کتاب میں جو نظمیں ہیں وہ مختلف لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں۔ یہ نظمیں مختلف ویب سائٹس، افغانستان میں فروخت ہونے والی سی ڈیز سے حاصل کی گئی ہیں اور بہت سی نظمیں ایسی بھی ہیں جو ریکارڈ کی گئیں اور پھر انھیں ٹرانسکرائب اور ترجمہ کیا گیا۔"

فیلکس کوہن

ان کا کہنا تھا کہ قطع نظر اس بات کے لوگ کیا کہتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سنہ انیس سو نوے میں طالبان نے افغانستان میں لڑکیوں کے لیے اتنے سکول قائم کیے کہ ان میں بیس ہزار لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سنہ نوے میں القاعدہ ایک چھوٹا سا گروہ تھی اور اکثر افغانی اسامہ بن لادن کو پسند نہیں کرتے تھے نہ ہی وہ القاعدہ کے پروگرام سے اتفاق کرتے تھے لیکن 11/9 کے بعد صورت حال بدل گئی۔

طالبان کے بارے میں کیے جانے والے ایک سوال کے جواب میں فیلکس نے کہا کہ طالبان کے ہمیشہ کئی گروپ رہے ہیں اور اب بھی ہیں اور افغانستان کے طالبان اور پاکستان کے طالبان ایک دوسرے سے خاصے مختلف ہیں۔

الکس اور فیلکس سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز لندن کے فارغ تحصیل ہیں۔ الکس ان دنوں کنگس کالج لندن کے وار سٹڈیز ڈیپارٹمنٹ سے ’آئیڈنٹٹی آف طالبان موومنٹ 2010-1978‘ پر ڈاکٹریٹ کے لیے تحقیق کر رہے ہیں۔ وہ فارسی، عربی، پشتو، جرمن، فرانسیسی اور ڈچ زبانیں جانتے ہیں اور افغانستان، شام، لبنان اور صومالیہ میں آزاد صحافی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔

فیلکس بھی عربی، افغانی اور دری زبانیں جانتے ہیں اور الکس کے ساتھ ’مائی لائف ود طالبان‘ اور ’این اینیمی وی کری ایٹڈ‘ نامی کتابیں لکھ چکے ہیں۔ وہ گذشتہ پانچ سال کے دوران اکثر افغانستان آتے جاتے رہے ہیں اور اس سے پہلے یمن میں بھی رہ چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔