بی بی سی ون کے شو ’سیٹیزن خان‘ پر شدید ردعمل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 31 اگست 2012 ,‭ 10:59 GMT 15:59 PST

یہ مزاحیہ ڈرامہ سیٹیزن خان برمنگھم کے رہائشی ایک مسلمان سماجی کارکن کی زندگی کے گرد گھومتا ہے۔

برطانیہ میں چھ حصوں میں بننے والے ایک مزاحیہ ڈرامے سیٹیزن خان کے بارے میں بی بی سی کو ایک سو پچاسی شکایات ملی ہیں۔

یہ مزاحیہ ڈرامہ برمنگھم کے ایک مسلمان سماجی کارکن کی زندگی پر مبنی ہے۔

بی بی سی پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہا بی بی سی نے اس نئے ڈرامے میں مسلمانوں کو ایک عمومی تاثر کے ساتھ خاص طریقے سے دکھایا ہے۔

بی بی سی ون پر سوموار کو دکھائے جانے والے اس ڈرامے کے بارے میں کی جانے والی شکایات میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس ڈرامے میں ’اسلام کی ایک بدذوق تصویر‘ پیش کی گئی ہے۔

راتوں رات شکایات کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور بی بی سی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ثبوت ہے کہ اس کے پیچھے ایک منظم ترغیباتی مہم ہے۔

اس ڈرامے کو ایک برطانوی مسلمان عادل رے نے بنایا ہے اور وہ اس میں اداکاری بھی کر رہے ہیں۔

اس ڈرامے میں اداکاری کرنے والے دوسرے اداکاروں میں ’مائی فیملی‘ ڈرامے کے اداکار کرش مارشل ہیں جو کہ ایک مسجد کے منتظم کا کردار کر رہے ہیں۔

شوبو کپور جو ایسٹ اینڈر ڈرامے میں گیتا کا کردار نبھاتی ہیں اس ڈرامے میں مسز خان کا کردار کر رہی ہیں۔

برطانوی میڈیا کی نگرانی کرنے والے ادارے آف کام کو بھی اس ڈرامے سے متعلق شکایات ملی ہیں۔

ناظرین میں سے ایک اور نے لکھا کہ اس ڈرامے کا مواد کٹر اور نازیبا ہے۔

لیکن بعض دوسرے افراد جنہوں نے منگل کا شو دیکھا تھا انہوں نے بی بی سی کے میسج بورڈ پر شو کی حمایت کی۔

"ایشیائی خاص طور پر جذباتی مسز خان اور ان کی بیٹی جو ایک دہری زندگی گزارتی اور حساس امجد کے ساتھ بہت مطابقت پائیں گے۔"

ویب سائٹ ایشین امیج کے امجد ملک

اس ڈرامے کے ایک سین کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں ایک نوجوان بیٹی باپ کے گھر آنے سے پہلے اپنے کپڑے جلدی سے تبدیل کر لیتی ہے ایک صاحب نے لکھا کہ ’لوگ بلا وجہ بہت زیادہ سیٹیزن خان پر بحث کر رہے ہیں خاص طو پر حجاب والی بات پر، لیکن ایسا عام ہوتا ہے‘۔

کامیڈین حمزہ ارشد جو کے انٹرنیٹ کی ہٹ کامیڈی ’ڈائری آف بیڈمین‘ کے سٹار تھے انہوں نے بی بی سی کے ایشین نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شو میں کئے گئے بعض مذاق کچھ ’حد سے زیادہ گذر گئے‘ تھے۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے جذبات تو مجروح نہیں ہوئے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ بعض دوسرے افراد کے ضرور ہوئے ہونگے۔ مثال کے طور پر قرآن والا سین ۔ ذاتی طور میں اگر اس کو کروں تو احتیاط سے کروں گا۔ کچھ لوگ اس کے بارے میں شاید شکایت کریں۔ مجھے بھی دیکھنے والوں کی جانب سے اس طرح کا ہی رد عمل ملا ہے۔ مسلمان ہمارے ہاں کے سب سے زیادہ حساس طبقوں میں سے ایک ہے۔

برطانیہ کی مسلم کونسل آف بریٹن کے سابق سیکرٹری جنرل یوسف بھیلوک نے کہا کہ یہ شو ’بی بی سی کی جانب سے کچھ عرصے میں بنائے جانے والی ایک بہترین چیز ہے۔ یہ ایک اچھی بات ہے کہ مسلمانوں کے مروجہ ظاہری جذباتی چیختنے چلانے والی صورت کو میڈیا جس طرح دکھاتا ہے اس سے تبدیل کر کے دکھایا گیا ہے۔ مسلمانوں میں بہت زیادہ حس مزاح ہے میں خوش ہوں کے یہ سامنے لائی گئی ہے‘۔

ویب سائٹ ایشین امیج پر امجد ملک نے لکھا کہ ’ایشیائی خاص طور پر جذباتی مسز خان اور ان کی بیٹی جو ایک دہری زندگی گزارتی اور حساس امجد کے ساتھ اپنی بہت مطابقت پائیں گے‘۔

امجد ملک کا مزید کہنا تھا کہ اس شو کے ’مذاق کچھ ہلکے تھے لیکن میرے خیال میں اس پر تنقید جائز نہیں ہے‘۔

"نئی بھی نہیں تھی۔ کامیڈی کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ حقیقی لوگوں کو دکھائے، لیکن اسے مزاحیہ بھی ہونا چاہیے اور اگرچہ ایک خاندان پر مبنی کامیڈی کی اپیل دور رس ہونی چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پرانے مزاق نکال کر ان کو دوبارہ استعمال کریں جو کہ چالیں سال پہلے بہت زبردست لگتے تھے۔"

اخبار انڈیپنڈنٹ کی عارفہ اکبر

لندن سے شائع ہونے والے اخبار انڈیپنڈنٹ میں عارفہ اکبر نے لکھا کہ یہ ایک بُری کامیڈی نہیں تھی لیکن یہ ’نئی بھی نہیں تھی۔ کامیڈی کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ حقیقی لوگوں کو دکھائے، لیکن اسے مزاحیہ بھی ہونا چاہیے اور اگرچہ ایک خاندان پر مبنی کامیڈی کی اپیل دور رس ہونی چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ پرانے لطیفے جو کہ چالیس سال پہلے بہت زبردست لگتے تھے نکال کر ان کو دوبارہ استعمال کریں ‘۔

بی بی سی کی ایک ترجمان کے مطابق اس شو کی پہلی قسط کو چھتیس لاکھ لوگوں نے دیکھا جسے اس نے ایک ’بہت مثبت آغاز‘ بیان کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ہمیں تعریفوں کے ساتھ ساتھ بعض شکایات بھی موصول ہوئیں جیسا کہ شو میں مسلمانوں کو دکھانے کے طریقے پر۔ نئے کامیڈی شو ہمیشہ ناظرین کی طرف سے مختلف ردعمل دکھاتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔